برطانیہ کی چار میں سے تین جوہری آبدوزیں سمندر میں موجود ہونے کا انکشاف

لندن: برطانیہ کی چار جوہری ڈیٹرنٹ آبدوزوں میں سے تین کے بیک وقت سمندر میں موجود ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد برطانوی جوہری آبدوزوں کی سرگرمیاں توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ کی چار جوہری ڈیٹرنٹ آبدوزوں میں سے تین سمندر میں موجود ہیں، جبکہ چوتھی آبدوز مرمت کے لیے ڈیون پورٹ نیول بیس پر ہے۔
برطانیہ کی جوہری آبدوزیں ملک کی دفاعی حکمت عملی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان میں جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت موجود ہے اور ان کی تعیناتی کا بنیادی مقصد جوہری ڈیٹرنٹ برقرار رکھنا ہے، تاکہ ممکنہ مخالفین کو جوہری حملے سے باز رکھا جاسکے۔
سمندر میں موجود تینوں آبدوزوں کے موجودہ مشنز اور ان کی تعیناتی کی وجوہات کے بارے میں مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ دوسری وینگارڈ کلاس آبدوز ممکنہ طور پر گشت کی ذمے داری سنبھالنے کے لیے تیاری کر رہی ہے، جبکہ تیسری آبدوز سمندری آزمائشوں میں مصروف ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ برطانوی آبدوزوں کے بیڑے کے بڑے حصّے کی بیک وقت تعیناتی سے ان کی آپریشنل دستیابی میں بہتری کے اشارے ملتے ہیں۔
واضح رہے کہ رائل نیوی کی آبدوزوں کی سروس کو گزشتہ چند برسوں کے دوران دستیابی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا رہا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق آبدوزوں کی یہ غیر معمولی تعیناتی برطانیہ کے مخالف ممالک اور نیٹو اتحادیوں کی توجہ حاصل کر سکتی ہے
بشکریہ روزنامہ جسارت