گندم سے لدا بحری جہاز کراچی بندرگاہ پر لنگرانداز،آٹا سستا ہونے کا امکان

کراچی: گندم کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، 51 ہزار میٹرک ٹن گندم لے کر ایک جہاز پہنچ گیا ہے، جبکہ 59 ہزار میٹرک ٹن سے زیادہ گندم لے کر دوسرا جہاز 3 نومبر کو پہنچنے کی توقع ہے۔ دونوں جہازوں کے ذریعے مجموعی طور پر ایک لاکھ 10 ہزار میٹرک ٹن سے زائد گندم درآمد کی جارہی ہے۔
کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کراچی گیٹ وے ٹرمینل ملٹی پرپز لمیٹڈ (کے جی ٹی ایم ایل) کے ذریعے گندم کی بلک کھیپ کی ہینڈلنگ میں سہولت فراہم کر رہا ہے، جس سے ملک کی بنیادی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدی سامان کی ترسیل اور بندرگاہ پر مال برداری کے مؤثر انتظامات میں کراچی پورٹ کا کردار مزید مستحکم ہو رہا ہے۔
دستاویزات کے مطابق درآمدی گندم فلور ملز کو 125 روپے فی کلو کے حساب سے فراہم کی جائے گی، جبکہ اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت 148 روپے فی کلو کی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے۔
دوسری جانب آٹے کی قیمتوں میں کمی اور گندم بحران کے خاتمے کے لیے فلور ملز مالکان اور صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزماں کے درمیان ملاقات ہوئی۔ فلور ملز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے ملاقات کو مثبت اور نتیجہ خیز قرار دیا۔
فلور ملز ایسوسی ایشن کے مطابق حکومت سے آٹے کی قیمت پہلے 160 روپے اور پھر 150 روپے فی کلو تک لانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ درآمدی گندم کی آمد سے گندم کی قیمتوں میں کمی آسکتی ہے، جبکہ کراچی میں آٹے کی قیمتیں اس وقت 170 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہیں۔
بشکریہ روزنامہ جسارت