پاکستان کی تائیوانی فضائی کمپنیوں کے لیے حدود بند، چین کی پالیسی کی حمایت

اسلام آباد: پاکستان نے چین کی ’’ایک چین پالیسی‘‘ کی حمایت کرتے ہوئے تائیوان کی فضائی کمپنیوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کردی ہیں، جس کے بعد تائیوانی فضائی کمپنیوں نے ایشیا اور یورپ کے درمیان پروازوں کے راستے تبدیل کرنا شروع کردیے ہیں۔
بلومبرگ نیوز کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے بدھ کے روز گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا شعبۂ ہوا بازی ’’ایک چین پالیسی‘‘ پر عمل پیرا ہے اور پاکستانی فضائی حدود سے صرف سرزمین چین کی فضائی کمپنیوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
پروازوں کی نگرانی کرنے والے ادارے فلائٹ ریڈار 24 کے اعداد و شمار کے مطابق تائیوان کی معروف فضائی کمپنیوں چائنا ایئرلائنز اور ایوا ایئرویز نے گزشتہ ہفتے کے اختتام سے اپنی پروازوں کے راستے تبدیل کرنا شروع کردیے تھے۔
اعداد و شمار کے مطابق دونوں فضائی کمپنیوں نے 25 اکتوبر کی صبح سے پاکستانی فضائی حدود کا استعمال مکمل طور پر بند کردیا۔ اس کے بعد ایشیا اور یورپ کے درمیان ان کی کم از کم 12 پروازیں روسی فضائی حدود سے گزریں۔
رپورٹ کے مطابق 24 اکتوبر کو دونوں فضائی کمپنیوں کی 14 پروازوں نے پاکستانی فضائی حدود استعمال کی تھیں، جس سے ان کمپنیوں کے لیے پاکستان کی فضائی گزرگاہ کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔
پاکستانی فضائی حدود بند ہونے کے بعد تائیوانی فضائی کمپنیوں کو متبادل اور طویل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں۔ اس تبدیلی سے پروازوں کے دورانیے میں کئی گھنٹے اضافے کا امکان ہے جبکہ اضافی فاصلے کے باعث طیاروں کے ایندھن کے اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
طویل راستوں پر پروازوں سے نہ صرف ایندھن کی کھپت میں اضافہ ہوگا بلکہ فضائی کمپنیوں کے مجموعی آپریشنل اخراجات بھی بڑھنے کا خدشہ ہے، جس سے ان کی مالی کارکردگی متاثر ہوسکتی ہے۔
بلومبرگ کے مطابق چائنا ایئرلائنز اور ایوا ایئر نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا جبکہ تائیوان کی وزارت خارجہ کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
تائیوان کی شہری ہوا بازی کی اتھارٹی نے پروازوں کے راستوں میں تبدیلی پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا، تائیوانی فضائی کمپنیوں کو روسی فضائی حدود استعمال کرنے سے کبھی نہیں روکا گیا۔
رپورٹ کے مطابق یوکرین جنگ کے بعد تائیوانی فضائی کمپنیاں بھی متعدد ایشیائی، یورپی اور شمالی امریکی فضائی کمپنیوں کی طرح روسی فضائی حدود استعمال کرنے سے گریز کرتی رہی ہیں، اگرچہ روس نے ان پر باقاعدہ پابندی عائد نہیں کی تھی۔
بلومبرگ کے مطابق پاکستان کی جانب سے تائیوانی فضائی کمپنیوں کے لیے فضائی حدود بند کرنے کا اقدام چین کی پالیسی سے بھی زیادہ سخت ہے کیونکہ چین تائیوانی فضائی کمپنیوں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
تائیوانی فضائی کمپنیاں ایشیا اور یورپ کے درمیان پروازوں کے لیے پاکستانی فضائی حدود پر بڑی حد تک انحصار کرتی رہی ہیں۔ اب متبادل راستوں کے استعمال سے پروازوں کے دورانیے اور ایندھن کے اخراجات میں اضافے کا امکان ہے، جس سے فضائی کمپنیوں کے لیے مالی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔
بشکریہ روزنامہ جسارت