بدھ، 28 اکتوبر، 2026 · 18 جمادی الاول، 1448 ہجری

نیدرلینڈز میں مصنوعی ذہانت کے باعث 25 ہزار سرکاری ملازمتیں ختم کرنے کا منصوبہ

قومی خبریں
نیدرلینڈز میں مصنوعی ذہانت کے باعث 25 ہزار سرکاری ملازمتیں ختم کرنے کا منصوبہ

نیدرلینڈز: مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث اب سرکاری ملازمین کی ملازمتیں بھی خطرے میں پڑنے لگی ہیں۔ نیدرلینڈز کی حکومت نے 2035 تک 25 ہزار سرکاری ملازمتیں ختم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں ساڑھے 3 ارب یورو کی بچت متوقع ہے۔

منصوبے کے تحت حکومتی افرادی قوت میں مجموعی طور پر 16 فیصد کمی کی جائے گی جبکہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے سرکاری اداروں کی کارکردگی اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا جائے گا۔

نیدرلینڈز کے وزیر مملکت برائے مملکتی امور اور مؤثر حکومتی نظام ایرک وان ڈیر برگ کے مطابق ملازمتوں میں کمی کے منصوبے سے 2027 میں 90 کروڑ یورو کی بچت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے مرکزی انتظامیہ کے لیے ایک مؤثر راستے کا انتخاب کیا ہے، جس کے ذریعے سرکاری افرادی قوت کو مختصر اور حکومتی امور کو زیادہ بہتر انداز میں انجام دیا جاسکے گا۔

حکومت کو توقع ہے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے پیداواری صلاحیت میں 20 فیصد تک اضافہ ہوگا جبکہ قوانین اور ضوابط کو آسان بنانے سے سرکاری ملازمین کے کام کا بوجھ بھی کم کیا جاسکے گا۔

نیدرلینڈز کی حکومت نے انتظامی پیچیدگیاں کم کرنے کے لیے ایک سال کے دوران کم از کم 500 قوانین اور ضوابط ختم کرنے یا انہیں آسان بنانے کا منصوبہ بھی تیار کیا ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ غیر ضروری قواعد و ضوابط میں کمی سے سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر ہوگی اور انتظامی امور کی انجام دہی میں کم وقت صرف ہوگا۔حکومت اخراجات کم کرنے کے لیے صرف مصنوعی ذہانت پر انحصار نہیں کرے گی بلکہ انتظامی ڈھانچے میں بھی تبدیلیاں لائی جائیں گی۔

منصوبے کے تحت 2 سرکاری ملازمین ایک میز استعمال کریں گے، اضافی سرکاری عمارتیں فروخت کی جائیں گی اور معلوماتی ٹیکنالوجی کے نظام کو یکساں معیار کے مطابق ترتیب دیا جائے گا۔

اس منصوبے کا مقصد حکومتی اخراجات میں کمی، سرکاری افرادی قوت کو محدود کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سرکاری امور کی انجام دہی کو زیادہ مؤثر بنانا ہے، ملازمتوں میں مجوزہ کمی کے عملی اثرات اور منصوبے پر عمل درآمد کی تفصیلات اہمیت کی حامل ہوں گی۔

بشکریہ روزنامہ جسارت