بدھ، 28 اکتوبر، 2026 · 18 جمادی الاول، 1448 ہجری

رواں سال 5143 کارروائیوں میں کتنے دہشت گرد ہلاک ہوئے؟ اعداد و شمار جاری

قومی خبریں
رواں سال 5143 کارروائیوں میں کتنے دہشت گرد ہلاک ہوئے؟ اعداد و شمار جاری

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ رواں سال 1 جنوری سے 29 ستمبر تک ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف 5143 کارروائیاں کی گئیں، جن کے دوران 2410 دہشت گرد ہلاک، 806 زخمی اور 3518 گرفتار کیے گئے۔

وزیر داخلہ کی جانب سے ایوان میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ قومی ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں جاری ہیں۔ اس عرصے کے دوران انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر مختلف مقامات پر آپریشن کیے گئے اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں اہم پیش رفت ہوئی۔

وزارت داخلہ کے مطابق دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے ساتھ آن لائن انتہا پسندی کے پھیلاؤ کو روکنے کے معاملے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاسکی۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر انٹرنیٹ کے ذریعے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے کوئی منظم اور مربوط نظام بھی موجود نہیں، جبکہ متعلقہ اداروں اور کھلی معلومات کی بنیاد پر انٹیلی جنس جمع کرنے والے شعبوں کو تربیت یافتہ تجزیہ کاروں کی کمی کا سامنا ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کے پاس چوبیس گھنٹے نگرانی کی مطلوبہ صلاحیت بھی موجود نہیں، جس کے باعث آن لائن خطرات کی مؤثر نگرانی اور ان کا بروقت تجزیہ کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

وزارت داخلہ نے قومی اسمبلی کو آگاہ کیا کہ گزشتہ 5 برس کے دوران 3 لاکھ 26 ہزار 341 افغان شہریوں کے پاکستانی شناختی کارڈ منسوخ کیے گئے۔ حکام کے مطابق ان افراد کے شناختی کارڈز کی قانونی حیثیت مشکوک تھی، جس کے باعث ان کی منسوخی عمل میں لائی گئی۔

قومی ادارے برائے انسداد دہشت گردی کے مالی وسائل سے متعلق تفصیلات میں بتایا گیا کہ ادارے نے مالی سال 2026-27 کے لیے 2 ارب 98 کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز طلب کیے تھے، تاہم رواں سال کے لیے اسے صرف 1 ارب 33 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔

وزارت داخلہ کے مطابق قومی ادارہ برائے انسداد دہشت گردی ایک قانونی ادارہ ہے، لیکن اسے خود گرفتاری یا قانون نافذ کرنے کے اختیارات حاصل نہیں۔ حکام نے یہ بھی بتایا کہ ادارے کو اب قومی شعبہ برائے انسداد دہشت گردی میں تبدیل کیا جائے گا۔

ایوان کو فراہم کردہ تفصیلات میں دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ آن لائن انتہا پسندی کی روک تھام، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے اور متعلقہ شعبوں کے لیے وسائل کی فراہمی سے متعلق درپیش مسائل کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت