بدھ، 28 اکتوبر، 2026 · 18 جمادی الاول، 1448 ہجری

مولانا فضل الرحمٰن کی نئے میثاقِ جمہوریت کیلیے حکومت اور اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت

قومی خبریں
مولانا فضل الرحمٰن کی نئے میثاقِ جمہوریت کیلیے حکومت اور اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت اور اپوزیشن کو نئے میثاقِ جمہوریت کے لیے مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ملک کسی فوجی یا جرنیل کا نہیں بلکہ ہم سب کا ہے۔ تحریکِ انصاف کی قیادت نے بھی نئے میثاقِ جمہوریت کی تجویز سے اتفاق کیا ہے جبکہ اس سلسلے میں جلد کل جماعتی کانفرنس بلانے پر مشاورت جاری ہے۔

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پارلیمنٹ عوام کا نمائندہ ادارہ ہے لیکن ملک میں برداشت ختم ہوتی جا رہی ہے اور معاملات مسلسل بگڑ رہے ہیں، وہ ملک کو غیر آئینی اقدامات اور تشدد سے بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کو تیار ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آئین کو غلط انداز میں استعمال کیا گیا اور طاقت کے ذریعے انتقالِ اقتدار کا عمل آگے بڑھایا گیا،بلوچستان سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں امن و امان کی صورتِ حال پر حکومت اپنی ذمہ داریاں کس حد تک پوری کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام نے ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں اور شہداء کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، وہ تصادم کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرے، کیونکہ تشدد سے حالات مزید خراب ہوں گے۔

دوسری جانب مولانا فضل الرحمٰن نے تحریکِ انصاف کی قیادت سے اہم ملاقات کی اور نئے میثاقِ جمہوریت کی تجویز پیش کی، جس پر تحریکِ انصاف نے اتفاق کیا۔ اس حوالے سے جلد کل جماعتی کانفرنس بلانے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے وفد کے ہمراہ سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتِ حال، آئینی و جمہوری امور اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان تعاون پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں شریک رہنماؤں نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عوامی حاکمیت اور جمہوری اصولوں کے منافی قرار دیا۔ شرکاء نے تحریکِ انصاف کے گرفتار وزیراعلیٰ، اسپیکر صوبائی اسمبلی اور ارکانِ قومی اسمبلی کی گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی اور سیاسی آزادیوں کے تحفظ کا مطالبہ بھی کیا۔

ملاقات میں کل جماعتی کانفرنس کے انعقاد کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی گئی۔ شرکاء نے مولانا فضل الرحمٰن کے نئے میثاقِ جمہوریت کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے اتفاق کیا کہ موجودہ قومی بحرانوں سے نکلنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

رہنماؤں کے مطابق کل جماعتی کانفرنس نئے میثاقِ جمہوریت کی جانب ایک اہم ابتدائی قدم ثابت ہوسکتی ہے، جس کے ذریعے آئین کی بالادستی، جمہوری اصولوں کے تحفظ اور سیاسی استحکام کے لیے مشترکہ لائحہ عمل مرتب کیا جاسکے گا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے خطاب میں حکومتی پالیسیوں اور سیاسی صورتِ حال پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کو ایک میز پر بیٹھ کر نئے میثاقِ جمہوریت پر اتفاق کرنا چاہیے۔

انہوں نے وزیر دفاع خواجہ آصف کی موجودگی میں دفاعی معاہدوں اور تہران میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے، جس پر ایوان میں قہقہے بلند ہوئے۔

اس دوران اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ وہ مولانا فضل الرحمٰن کی تقریر سنیں گے، غیر پارلیمانی الفاظ کو کارروائی سے حذف کردیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق اسپیکر نے ان کا ایک جملہ اجلاس کی کارروائی سے حذف بھی کردیا۔

رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے خطاب کے دوران اسکرینوں پر آواز بند کردی گئی اور قومی اسمبلی کی براہِ راست نشریات بھی روک دی گئیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ ملک کو سیاسی بحران سے نکالنے، آئین کی بالادستی قائم کرنے اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے حکومت اور اپوزیشن کو اختلافات بھلا کر مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا۔

بشکریہ روزنامہ جسارت