بدھ، 28 اکتوبر، 2026 · 18 جمادی الاول، 1448 ہجری

آسٹریلوی شہری کو ایک کلو سے زائد وزنی سونے کی ڈلی مل گئی، مالیت لاکھوں ڈالر میں ہونے کا امکان

قومی خبریں
آسٹریلوی شہری کو ایک کلو سے زائد وزنی سونے کی ڈلی مل گئی، مالیت لاکھوں ڈالر میں ہونے کا امکان

آسٹریلیا میں سونے اور قیمتی دھاتوں کی تلاش کے شوقین ایک شخص کو ایسی غیر معمولی ڈلی مل گئی جس میں تقریباً 940 گرام خالص سونا موجود ہے۔ ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے شمال مغربی علاقے میں دریافت ہونے والی اس ڈلی کی موجودہ مالیت ڈیڑھ لاکھ سے 1 لاکھ 60 ہزار امریکی ڈالر کے درمیان بتائی گئی ہے جبکہ کسی شوقین خریدار یا نوادرات جمع کرنے والے کو فروخت کرنے کی صورت میں اس کی قیمت 2 لاکھ ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔

آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے مطابق یہ قیمتی ڈلی ٹیبوبرّا کے قریب واقع ماؤنٹ اسٹورٹ اسٹیشن میں ملی۔ کوارٹز کے ذرات پر مشتمل اس ٹکڑے کا مجموعی وزن 1200 گرام سے زیادہ، یعنی تقریباً 1.2 کلوگرام ہے۔ جانچ کے دوران معلوم ہوا کہ اس میں تقریباً 940 گرام خالص سونا موجود ہے، جس کے باعث اسے علاقے میں ہونے والی غیر معمولی دریافتوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

سونا تلاش کرنے والے شخص نے بتایا کہ اس مشغلے کے دوران اکثر دھات تلاش کرنے والی مشین سے ملنے والے اشارے بے کار اشیا کی موجودگی ظاہر کرتے ہیں، تاہم اس مرتبہ صورت حال مختلف تھی۔ مشین سے ملنے والے سگنل نے اسے ایک مخصوص مقام پر مزید کھدائی کرنے کی ترغیب دی، جس کے بعد زمین کے اندر چھپی قیمتی ڈلی سامنے آگئی۔

اس شخص کے مطابق جب اس نے مٹی ہٹانا شروع کی تو پہلی یا دوسری کوشش کے دوران ہی گڑھے میں ایک چمک دار پیلے رنگ کا نقطہ دکھائی دیا۔ اس منظر نے اس کی توجہ فوراً اپنی جانب مبذول کرلی۔ ڈلی نکالنے کے بعد اسے امید تھی کہ یہ محض رنگ کیا ہوا پتھر نہیں بلکہ حقیقی سونے کا ٹکڑا ہوگا۔ بعدازاں جانچ نے اس کی امید درست ثابت کردی اور پتہ چلا کہ اسے واقعی قیمتی سونے کی ڈلی مل گئی ہے۔

اس دریافت کو اس کے مقام کی مناسبت سے ’’ٹیبوبرّا اسپاڈ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ پاکستانی کرنسی میں اس کی بتائی گئی موجودہ مالیت تقریباً 4 کروڑ 16 لاکھ سے 5 کروڑ 54 لاکھ روپے کے درمیان بنتی ہے، تاہم اصل قیمت فروخت کے وقت سونے کی مارکیٹ قیمت اور خریدار کی پیشکش پر منحصر ہوگی۔ اگر کوئی نوادرات جمع کرنے والا اس کے حجم، ساخت اور نایاب ہونے کی بنیاد پر اضافی قیمت ادا کرے تو اس کی مالیت مزید بڑھ سکتی ہے۔

بروکن ہل میں سونے کی تلاش کے آلات فروخت کرنے والے گریگ اسپینگلر نے اس دریافت کو غیر معمولی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ایک کلوگرام سے زیادہ وزنی سونے کی ڈلی ملنا انتہائی نایاب واقعہ ہے۔ وہ گزشتہ 20 سال سے زائد عرصے کے دوران اتنی بڑی ڈلی ملنے کی صرف ایک دوسری مثال دیکھ چکے ہیں۔ عموماً سونا تلاش کرنے والوں کو معمولی مقدار میں ذرات یا چھوٹے ٹکڑے ہی ملتے ہیں، اس لیے اتنی بڑی ڈلی کی دریافت کو غیر معمولی کامیابی سمجھا جا رہا ہے۔

اسپینگلر کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے بھی لوگوں کی اس مشغلے میں دلچسپی بڑھا دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق رواں سال جنوری میں سونے کی قیمت تقریباً 8000 امریکی ڈالر فی ٹرائے اونس تک پہنچ گئی تھی، تاہم بعد میں اس میں کمی ہوئی اور قیمت تقریباً 5700 ڈالر فی ٹرائے اونس رہ گئی۔ ایک ٹرائے اونس کا وزن تقریباً 31.1 گرام ہوتا ہے۔ سونے کی قیمتوں میں تبدیلی کے باعث اس طرح کی دریافتوں کی مالی اہمیت بھی وقت کے ساتھ بدل سکتی ہے۔

ٹیبوبرّا کا علاقہ سونے کی تلاش کے حوالے سے ایک طویل تاریخ رکھتا ہے، جہاں یہ سرگرمی 1880 کی دہائی کے آخری برسوں سے جاری ہے۔ آج بھی یہ مقام سیاحوں اور سونے کی تلاش کا شوق رکھنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ تاہم علاقے کے تمام مقامات پر اس سرگرمی کی اجازت نہیں ہے۔ ماؤنٹ اسٹورٹ اور گم ویل اسٹیشنوں پر مقررہ فیس ادا کرکے سونے کی تلاش کی جا سکتی ہے، جبکہ دیگر مقامات پر مقامی قواعد و ضوابط کی پابندی ضروری ہے۔

گریگ اسپینگلر کے مطابق علاقے میں مزید سونا دریافت ہونے کے امکانات موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بارش کے بعد زمین کی سطح اور مٹی میں تبدیلی کے نتیجے میں بعض مقامات پر سونے کے ذرات نمایاں ہو سکتے ہیں، جس سے تلاش کرنے والوں کو نئے مواقع مل سکتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس سرگرمی کی کشش صرف مالی فائدے تک محدود نہیں، بلکہ کھلی فضا میں وقت گزارنا اور جسمانی مشقت کرنا بھی اس کے اہم پہلو ہیں۔

ماہرین اور اس شعبے سے وابستہ افراد کے لیے یہ دریافت اس بات کی ایک اور مثال ہے کہ کئی دہائیوں سے سونے کی تلاش کے لیے معروف علاقوں میں بھی غیر معمولی قیمتی ذخائر سامنے آسکتے ہیں۔ تاہم عام طور پر چھوٹے ذرات اور معمولی وزن کی ڈلیاں ملنے کے باعث 1.2 کلوگرام وزنی اس ٹکڑے کی دریافت کو انتہائی نادر کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت