بدھ، 28 اکتوبر، 2026 · 18 جمادی الاول، 1448 ہجری

عوام پر بھاری بوجھ ڈال کر آئل ریفائنریز کا منافع 1100 گنا کیسے بڑھا، حافظ نعیم

قومی خبریں
عوام پر بھاری بوجھ ڈال کر آئل ریفائنریز کا منافع 1100 گنا کیسے بڑھا، حافظ نعیم

کراچی: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے موجودہ حکومتی معاشی پالیسیوں کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی بحران کا سارا بوجھ غریب عوام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ملک مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے تو آخر آئل ریفائنریز کا منافع 1100 فیصد تک کیسے بڑھ گیا۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور بجلی کے طویل بریک ڈاؤن نے عام شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ حکومت ریلیف دینے کے بجائے قرضوں کے حصول اور ٹیکسوں کے نفاذ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ بیوروکریسی اور بااثر طبقات بحرانوں سے فائدہ اٹھا کر اپنی تجوریاں بھر رہے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم لیوی کو بھتہ ٹیکس قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس مد میں ڈیڑھ سو ارب روپے سے زائد وصول کر رہی ہے مگر عوام کو ریلیف کے نام پر محض معمولی رقم دی جا رہی ہے۔ حکومت کا یہ رویہ ظالمانہ ہے کیونکہ وہ مافیا کو لگام دینے میں مکمل ناکام دکھائی دیتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بینکنگ سیکٹر اور مافیا عوام کے پیسوں سے منافع کما رہے ہیں جبکہ حکومت ان کی پشت پناہی کرتی ہے۔ مہنگے پیٹرول اور بجلی کی وجہ سے صنعتیں تباہ ہو رہی ہیں ۔ اشیائے خورونوش کی قیمتیں عام آدمی کی قوت خرید سے باہر نکل چکی ہیں۔ حکومت کے پاس قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا کوئی مؤثر نظام نہیں ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ سیاسی جماعتیں مافیا کا حصہ بن چکی ہیں، اسی لیے وہ عوامی مسائل پر خاموش ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی آئینی حق استعمال کرتے ہوئے پرامن احتجاج کا راستہ اپنائے گی۔ نومبر کے وسط میں پیٹرولیم لیوی کے خلاف لانگ مارچ کا حتمی فیصلہ موجودہ حالات کے پیش نظر کیا جائے گا۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ شرح سود میں اضافے سے برآمد کنندگان اور کاروباری طبقہ شدید پریشان ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی کرے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے لیوی میں کمی کرے۔ معاشی بہتری کے لیے مافیاز کے گٹھ جوڑ کو توڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت