بدھ، 28 اکتوبر، 2026 · 18 جمادی الاول، 1448 ہجری

امرود کے پتے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے کیسے مفید ہوسکتے ہیں؟

قومی خبریں
امرود کے پتے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے کیسے مفید ہوسکتے ہیں؟

سردیوں کا موسم شروع ہوتے ہی بازاروں میں امرود کی آمد بڑھ جاتی ہے۔ خوش ذائقہ ہونے کے ساتھ ساتھ یہ پھل وٹامن سی، غذائی ریشے اور دیگر مفید اجزا کا بھی اچھا ذریعہ ہے، تاہم ذیابیطس کے مریض اکثر خون میں شکر کی سطح بڑھنے کے خدشے کے باعث اسے کھانے سے گریز کرتے ہیں۔ ماہرینِ غذائیت کے مطابق ذیابیطس کے مریض بھی مناسب مقدار میں امرود اپنی روزمرہ خوراک کا حصہ بنا سکتے ہیں، لیکن اس کے استعمال میں اعتدال اور اپنے جسم کے ردعمل کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ امرود کے پتوں سے تیار کردہ چائے بھی توجہ کا مرکز رہی ہے، جس کے ممکنہ فوائد پر مختلف تحقیقات کی جا چکی ہیں۔

امرود کے پتوں میں ایسے قدرتی نباتاتی مرکبات پائے جاتے ہیں جنہیں پولی فینولز کہا جاتا ہے۔ ان میں کوئرسیٹن بھی شامل ہے، جو جسم میں مختلف حیاتیاتی عمل پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ بعض تحقیقات سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ مرکبات غذا میں موجود کاربوہائیڈریٹس کے ہضم ہونے اور شکر میں تبدیل ہونے کے عمل کو سست کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اس طرح کھانا کھانے کے بعد خون میں شکر کی سطح میں اچانک اضافے کو کسی حد تک محدود کرنے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔

جاپان میں کی گئی ایک تحقیق میں بھی امرود کے پتوں سے تیار کردہ چائے کے استعمال اور کھانے کے بعد خون میں شکر کی سطح کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اس تحقیق کے نتائج میں شکر کی سطح میں کمی کے آثار سامنے آئے، تاہم اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ امرود کے پتوں کی چائے ہر مریض میں یکساں اثر دکھائے گی یا ذیابیطس کا باقاعدہ علاج بن سکتی ہے۔ اس حوالے سے مزید شواہد اور طبی رہنمائی کی ضرورت ہے۔

امرود کے پتوں کی چائے تیار کرنے کا طریقہ

امرود کے پتوں سے چائے بنانے کے لیے 5 سے 10 تازہ اور صاف پتے لے کر انہیں اچھی طرح دھو لیں۔ اس کے بعد آدھا لیٹر پانی میں ڈال کر ہلکی آنچ پر 10 سے 15 منٹ تک پکائیں۔ جب پانی کی مقدار کم ہو جائے تو آمیزے کو چھان کر چائے کی صورت میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس میں چینی یا شہد شامل کرنے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ ان کے اضافے سے مشروب میں شکر کی مقدار بڑھ سکتی ہے۔

ذیابیطس کے مریضوں کو اس چائے کے استعمال میں بھی احتیاط برتنی چاہیے۔ خصوصاً وہ افراد جو خون میں شکر کی سطح کم کرنے والی ادویات استعمال کرتے ہیں، انہیں اسے روزمرہ معمول میں شامل کرنے سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ کرنا چاہیے۔ امرود کے پتوں کی چائے کو ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات یا علاج کا متبادل سمجھنا درست نہیں، جبکہ دن میں 2 بار اس کے استعمال کو بھی تمام مریضوں کے لیے یکساں طور پر محفوظ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

امرود کا چھلکا اتارنا ضروری ہے یا نہیں؟

ذیابیطس کے مریضوں میں یہ سوال بھی عام ہے کہ امرود چھلکے سمیت کھانا بہتر ہے یا اسے چھیل کر استعمال کرنا چاہیے۔ غذائی اعتبار سے امرود کا چھلکا بھی مفید اجزا اور غذائی ریشے فراہم کرتا ہے، اس لیے اسے لازماً نقصان دہ سمجھ کر اتار دینا ضروری نہیں۔ اسی طرح یہ دعویٰ بھی عمومی طور پر درست نہیں کہ پکے ہوئے امرود کا چھلکا کھانے سے ہر صورت خون میں شکر کی سطح اچانک بڑھ جاتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ خون میں شکر کی سطح پر امرود کے اثرات کا تعلق کئی عوامل سے ہوتا ہے، جن میں پھل کی مقدار، اس کے پکنے کی کیفیت، مجموعی خوراک اور متعلقہ فرد کے جسم کا ردعمل شامل ہیں۔ چنانچہ صرف چھلکا اتارنے سے خون میں شکر کو قابو میں رکھنے کی ضمانت نہیں ملتی۔

ذیابیطس کے مریض امرود کو اچھی طرح دھونے کے بعد چھلکے سمیت کھا سکتے ہیں، بشرطیکہ اس کی مقدار ان کی غذائی ضروریات اور خون میں شکر کی کیفیت کے مطابق ہو۔ اگر کسی مریض کو امرود کھانے کے بعد شکر کی سطح میں نمایاں اضافہ محسوس ہو تو اسے اپنی خوراک کا جائزہ لینے اور مناسب مقدار طے کرنے کے لیے معالج یا ماہرِ غذائیت سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے امرود کی مناسب مقدار کتنی ہے؟

امرود کے فوائد سے مستفید ہونے کے لیے اس کی مقدار کا تعین خاص اہمیت رکھتا ہے۔ تقریباً 100 سے 150 گرام امرود بعض افراد کے لیے مناسب مقدار ہو سکتی ہے، تاہم ہر مریض کی غذائی ضروریات مختلف ہوتی ہیں۔ روزانہ کاربوہائیڈریٹس کی ضرورت، استعمال ہونے والی ادویات، جسمانی سرگرمی اور خون میں شکر کی موجودہ سطح کو مدنظر رکھتے ہوئے مقدار میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔

ماہرینِ غذائیت کی عمومی ہدایات کے مطابق پورا پھل کھانا عموماً اس کا رس پینے سے بہتر انتخاب ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پھل کا رس تیار کرتے وقت غذائی ریشے کم ہو سکتے ہیں اور کم وقت میں زیادہ مقدار میں پھل استعمال کرنا بھی آسان ہو جاتا ہے۔ مزید یہ کہ رس میں چینی یا شہد شامل کرنے سے اس میں شکر کی مقدار بڑھ سکتی ہے، اس لیے ذیابیطس کے مریضوں کو ایسے اضافوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔

امرود کو متوازن خوراک کا حصہ بناتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ دن بھر میں دیگر غذاؤں سے حاصل ہونے والے کاربوہائیڈریٹس کی مقدار کتنی ہے۔ اگر معالج نے خون میں شکر کی باقاعدہ جانچ کی ہدایت دی ہو تو پھل کھانے کے بعد اس کی سطح کی نگرانی سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ متعلقہ فرد کا جسم امرود کے استعمال پر کس طرح ردعمل ظاہر کرتا ہے۔

مجموعی طور پر ذیابیطس کے مریضوں کے لیے امرود سے مکمل پرہیز کرنا ضروری نہیں، تاہم اس کا استعمال مناسب مقدار اور متوازن غذا کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ امرود کے پتوں کی چائے کے ممکنہ فوائد کے باوجود اسے ذیابیطس کے ثابت شدہ علاج کا درجہ حاصل نہیں، اس لیے مریضوں کو اپنے معالج کی ہدایات کے مطابق ادویات اور غذائی معمولات جاری رکھنے چاہییں۔

بشکریہ روزنامہ جسارت