نیتن یاہو کی حکومت خطرے میں، ایگزٹ پولز میں کانٹے کا مقابلہ برقرار

مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیل میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات کے بعد سامنے آنے والے ابتدائی ایگزٹ پولز میں موجودہ وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو کے اتحاد اور اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کے درمیان سخت مقابلے کا منظرنامہ ابھر کر سامنے آیا ہے جس سے سیاسی بحران کے خدشات بڑھ گئے۔
مختلف جائزوں کے مطابق نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے، تاہم ان کے اتحادی کیمپ کو حکومت سازی کے لیے درکار نشستوں کی تعداد میں نمایاں کمی کا سامنا ہے جس نے اقتدار کے تسلسل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
اپوزیشن کے ’تبدیلی بلاک‘ کی قیادت گادی آئزنکوٹ کر رہے ہیں جن کی یاشار پارٹی کا مرکزی مقصد نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانا ہے۔ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق اپوزیشن اتحاد بھی پارلیمان میں مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے میں مشکلات کا شکار دکھائی دیتا ہے، جس سے نتائج غیر یقینی ہیں۔
اسرائیلی پارلیمان یعنی کنیسٹ کی تمام 120 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔ ملک میں کسی بھی جماعت کو تنہا اکثریت نہ ملنے کی روایت کے پیشِ نظر حکومت سازی کا انحصار چھوٹے اتحادیوں پر ہوگا۔ حتمی نتائج میں چند نشستوں کا معمولی فرق بھی حکومت سازی کا رخ موڑ سکتا ہے۔
ماضی میں ایگزٹ پولز کے نتائج متوقع سے مختلف ثابت ہوتے رہے ہیں، اس لیے سرکاری نتائج کے حتمی اعلان تک کسی بھی دعوے کو قبل از وقت قرار دیا جا رہا ہے۔ ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے، جس کے مکمل ہونے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق انتخابات کے بعد اب حکومت سازی کے لیے کئی ہفتوں یا مہینوں تک طویل سیاسی مذاکرات کا سلسلہ چل سکتا ہے۔ اقتدار میں شراکت کے لیے مختلف جماعتوں کے درمیان ہونے والے معاہدے ہی اسرائیل کی آئندہ حکومت اور پالیسیوں کی سمت کا تعین کریں گے۔
یہ انتخابات 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں کے بعد ملک کے پہلے عام انتخابات ہیں۔ اس لیے ان کے نتائج نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کے علاوہ اسرائیل کے اندرونی اور خارجہ امور کے لیے انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں، جن پر عالمی دنیا کی نظریں بھی جمی ہیں۔
بشکریہ روزنامہ جسارت