بدھ، 28 اکتوبر، 2026 · 18 جمادی الاول، 1448 ہجری

یوگنڈا میں 38 افراد کو قتل کرکے لاشیں کھانے والا بدنام زمانہ قاتل گرفتار

قومی خبریں
یوگنڈا میں 38 افراد کو قتل کرکے لاشیں کھانے والا بدنام زمانہ قاتل گرفتار

کمپالا: یوگنڈا کی سیکیورٹی فورسز نے ایک ایسے سفاک ملزم کو گرفتار کیا ہے جس پر گزشتہ 15 برسوں کے دوران 38 افراد کو بے دردی سے قتل کرنے اور ان کی لاشیں کھانے کا لرزہ خیز الزام عائد کیا گیا ہے۔

ملزم مجوریزی موسیٰ نے 2010 سے 2025 کے درمیان یوگنڈا کے مختلف اضلاع میں قتل و غارت کی کارروائیاں کیں۔

یوگنڈا کی دفاعی افواج کے سربراہ جنرل موہوزی کینیرُوگابا نے ملزم کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ملک کی تاریخ کا خطرناک ترین قاتل اور آدم خور قرار دیا ہے۔

تحقیقاتی اداروں کے مطابق ملزم انتہائی منظم انداز میں وارداتیں کرتا تھا۔ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر گھروں میں گھس جاتا اور تیز دھار ہتھیاروں سے پورے خاندان کو تہہ تیغ کر دیتا تھا۔ بعض واقعات میں ملزم نے لوگوں کو جعلی تعلقات کے ذریعے دھوکا دے کر پھنسایا۔

ملزم کے خلاف سنگین ترین الزامات میں ایک پینٹی کوسٹل پادری اسٹیون موگامبے اور ان کے اہل خانہ کا بہیمانہ قتل بھی شامل ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم ماضی میں بھی کئی بار گرفتار ہوا لیکن وہ مبینہ طور پر جیل سے فرار ہونے یا قانونی سقم کے باعث رہا ہونے میں کامیاب رہا۔

اس بار گرفتاری مقتولین کے اہل خانہ کی جانب سے پولیس کو دی گئی ٹھوس معلومات کے بعد عمل میں آئی ہے۔ پولیس نے ملزم کے گھر پر چھاپہ مار کر کئی اہم شواہد اکٹھے کیے ہیں جبکہ تفتیشی ٹیمیں لاپتا ہونے والے افراد کے پرانے ریکارڈز کا بھی بغور جائزہ لے رہی ہیں۔

جنرل موہوزی کینیرُوگابا نے واضح کیا کہ ملزم کے خلاف کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ملزم پر یہ ہولناک الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو اسے قانون کے مطابق سزائے موت دی جائے گی۔ عوام نے بھی اس گرفتاری پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

پولیس حکام نے یقین دلایا ہے کہ اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور ملزم کو اپنے کیے کی سزا بھگتنا ہوگی۔

اس واقعے نے پورے ملک میں خوف و ہراس پھیلا دیا تھا، تاہم گرفتاری کے بعد اب قانون نافذ کرنے والے ادارے مزید شواہد اکٹھے کرنے میں مصروف ہیں۔

بشکریہ روزنامہ جسارت