بدھ، 28 اکتوبر، 2026 · 18 جمادی الاول، 1448 ہجری

پاکستان میں بحری قزاقی منی لانڈرنگ کا جرم قرار، سات سال قید کی سزا

قومی خبریں
پاکستان میں بحری قزاقی منی لانڈرنگ کا جرم قرار، سات سال قید کی سزا

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے منی لانڈرنگ کے خلاف شکنجہ مزید سخت کرتے ہوئے بحری قزاقی کو بنیادی جرم قرار دے دیا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی ایگزیکٹو کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس جرم میں ملوث افراد کو سات سال قید اور ڈھائی کروڑ تک جرمانہ ہوگا۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقدہ اس اجلاس میں پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کو بھی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت خصوصی قانونی اختیارات دینے کی منظوری دی گئی ہے۔ یہ اقدام آئی ایم ایف کے طے شدہ ایکشن پلان کے مطابق عمل میں لایا گیا ہے۔

کمیٹی نے بینکوں میں روزانہ کی بنیاد پر کیش ٹرانزیکشن رپورٹنگ کی حد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ اب یہ حد بیس لاکھ روپے سے بڑھا کر تیس لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔ اس سے زائد رقم کی لین دین کی اطلاع فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کو دینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

ورچوئل اثاثہ جات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو اب قانون کے دائرہ کار میں لایا جائے گا اور وہ مشتبہ ٹرانزیکشنز کی رپورٹنگ کی پابند ہوں گی۔ فنانشل مانیٹرنگ یونٹ ان اداروں کی رجسٹریشن کا نیا طریقہ کار وضع کرے گا تاکہ ڈیجیٹل اثاثوں کے ذریعے ہونے والی منی لانڈرنگ کو روکا جا سکے۔

صوبائی انسدادِ بدعنوانی اداروں کو بھی اختیارات منتقل کرنے پر اصولی اتفاق ہوا ہے، تاہم اس عمل کو شفاف بنانے کے لیے سخت ایس او پیز تیار کیے جائیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا بنیادی مقصد ملکی مالیاتی نظام کو عالمی معیارات کے مطابق شفاف بنانا ہے۔

وزیر خزانہ نے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے تدارک کے لیے باہمی رابطوں کو بہتر بنائیں۔ اجلاس میں مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے مالیاتی جرائم کا سراغ لگانے کے طریقہ کار کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

کمیٹی نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی مشتبہ سرگرمی پر سخت کارروائی کی جائے گی اور اثاثوں کی ضبطی کا عمل یقینی بنایا جائے گا۔ حکومت کا عزم ہے کہ مالیاتی نظام میں موجود نقائص کو دور کر کے ملک کو منی لانڈرنگ کی لعنت سے پوری طرح محفوظ بنایا جائے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت