لوگ ووٹ ڈالنے نہ نکلے تو عرب جماعتوں کی حمایتی حکومت بن جائے گی، نیتن یاہو کااسرائیلیوں پر نفسیاتی وار

تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے عام انتخابات کے موقع پر اپنے حامیوں پر زور دیا ہے کہ وہ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے باہر نکلیں، بصورت دیگر عرب جماعتوں کی حمایت سے مخالفین کی حکومت قائم ہوسکتی ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے انتخابی مہم کے دوران کہا کہ عرب آبادی والے علاقوں میں ووٹرز بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشنوں کا رخ کر رہے ہیں، جبکہ دائیں بازو کے حامیوں میں ووٹنگ کا رجحان نسبتاً کم دکھائی دے رہا ہے۔
نیتن یاہو نے اپنے حامیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ گھروں سے نکلیں اور اپنی جماعت لیکوڈ کو ووٹ دیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دائیں بازو کے ووٹرز نے ووٹ نہ ڈالا تو اپوزیشن عرب جماعتوں کی حمایت سے حکومت بنانے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔
اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات کے دوران عرب جماعتوں کے ووٹ اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔ انتخابی جائزوں کے مطابق اگر کسی سیاسی اتحاد کو پارلیمان میں واضح اکثریت نہ ملی تو عرب جماعتیں حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہیں۔
اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ کی 120 نشستوں میں حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ ایسے میں عرب جماعتوں کی انتخابی کارکردگی اور ان کی حمایت حکومت سازی کے عمل پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔
نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان سخت مقابلے کے تناظر میں ووٹرز کی شرکت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ انتخابی نتائج کے بعد حکومت سازی کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات متوقع ہیں۔
بشکریہ روزنامہ جسارت