امریکا میں تاریخی بحری جہاز کو دنیا کی سب سے بڑی مصنوعی آبی چٹان میں بدلنے کی تیاری

امریکی ریاست فلوریڈا کے ساحل کے قریب ایک تاریخی بحری جہاز کو سمندر میں ڈبونے کی تیاریاں جاری ہیں، جس کے بعد اسے سمندری حیات کے لیے مصنوعی مسکن اور غوطہ خوری کے شوقین افراد کے لیے سیاحتی مرکز میں تبدیل کردیا جائے گا۔ منصوبے کے تحت تقریباً 305 میٹر طویل بحری جہاز ایس ایس یونائیٹڈ اسٹیٹس کو دنیا کی سب سے بڑی مصنوعی آبی چٹان بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق اوکالوسا کاؤنٹی کے حکام نے بتایا کہ جہاز کو نومبر کے دوسرے ہفتے میں خلیج میکسیکو میں سمندر برد کرنے کا منصوبہ ہے، تاہم موسمی حالات اور سمندر کی صورتحال کے باعث اس تاریخ میں تبدیلی بھی کی جاسکتی ہے۔ جہاز کو فلوریڈا کے ساحلی شہر ڈیستن سے جنوب مغرب کی جانب تقریباً 41 کلومیٹر دور سمندر میں ڈبویا جائے گا۔
ایس ایس یونائیٹڈ اسٹیٹس محض ایک عام بحری جہاز نہیں بلکہ بحری تاریخ میں اپنی غیر معمولی رفتار کے باعث نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اس جہاز نے 1952 میں اپنے پہلے سفر کے دوران بحر اوقیانوس عبور کرنے کی رفتار کا ریکارڈ قائم کیا تھا، جس نے اسے دنیا بھر میں شہرت دلائی۔ کئی دہائیوں تک تاریخی اہمیت رکھنے والا یہ جہاز اب ایک نئے مقصد کے لیے استعمال کیے جانے کی تیاریوں سے گزر رہا ہے۔
ماضی میں مختلف تنظیموں اور متعلقہ حلقوں نے اس تاریخی جہاز کو محفوظ رکھنے اور اسے تباہ ہونے سے بچانے کی کوششیں کیں، تاہم اسے برقرار رکھنے اور اس کی دیکھ بھال پر آنے والے بھاری اخراجات کے باعث یہ کوششیں کامیاب نہ ہوسکیں۔ بالآخر اسے سمندر میں ڈبونے اور مصنوعی آبی چٹان میں تبدیل کرنے کا منصوبہ سامنے آیا۔
منصوبے کے حامیوں کو امید ہے کہ جہاز سمندر کی تہہ میں پہنچنے کے بعد مختلف اقسام کی مچھلیوں اور دیگر آبی جانداروں کے لیے نیا مسکن بنے گا۔ اس کے علاوہ سمندری حیات کا مشاہدہ کرنے اور غوطہ خوری میں دلچسپی رکھنے والے افراد بھی اس مقام کا رخ کرسکیں گے، جس سے یہ علاقہ ایک منفرد سیاحتی مرکز بن سکتا ہے۔
حکام کے مطابق اس منصوبے سے مقامی معیشت کو بھی نمایاں فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ اندازہ ہے کہ مصنوعی آبی چٹان کی وجہ سے علاقے میں سیاحت کو سالانہ لاکھوں ڈالر کی آمدنی حاصل ہوسکتی ہے، جبکہ غوطہ خوری کے مراکز، ماہی گیری کی کشتیوں کے مالکان اور ہوٹلوں سمیت مختلف کاروباری شعبوں کو بھی نئے مواقع میسر آئیں گے۔
اس طرح بحری تاریخ میں اہم مقام رکھنے والا ایس ایس یونائیٹڈ اسٹیٹس اپنی سابقہ حیثیت کھونے کے باوجود ایک نئی شکل میں سمندری ماحول اور مقامی سیاحت کے لیے استعمال ہوگا۔ تاہم جہاز کو سمندر برد کرنے کا حتمی وقت موسمی حالات اور متعلقہ انتظامات سے مشروط ہے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت