بدھ، 28 اکتوبر، 2026 · 18 جمادی الاول، 1448 ہجری

جنوبی وزیرستان: مسجد میں نماز کے دوران ڈرون حملہ، چار افراد زخمی

قومی خبریں
جنوبی وزیرستان: مسجد میں نماز کے دوران ڈرون حملہ، چار افراد زخمی

ڈیرہ اسماعیل خان: جنوبی وزیرستان کے علاقے کراچ خیل میں مسجد کے اندر نماز کے دوران ڈرون یا کواڈ کاپٹر حملوں کے نتیجے میں چار افراد زخمی ہوگئے جبکہ علاقے میں مارٹر گولے گرنے اور مسلسل فائرنگ کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ فائرنگ اور گولہ باری کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگوں کو زخمیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ پیر کی شام اس وقت پیش آیا جب کراچ خیل کی مسجد میں نماز ادا کی جا رہی تھی۔ اسی دوران علاقے میں ڈرون یا کواڈ کاپٹر حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جن کے نتیجے میں چار افراد زخمی ہوگئے۔

زخمیوں کی شناخت ولی مت خان ولد مشال خان، صدام حسین ولد لعل گل، سعید ولد میر عباس اور قاری حسین ولد میر عباس کے ناموں سے ہوئی ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں تشویش کی فضا پیدا ہوگئی جبکہ مسلسل فائرنگ اور گولہ باری کی اطلاعات نے مقامی آبادی کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا۔

اطلاعات کے مطابق واقعے کے بعد علاقے میں مسلسل فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں جبکہ مارٹر گولے گرنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔ اس صورتحال کے باعث زخمیوں کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کرنا مشکل ہوگیا۔

مقامی آبادی کو ڈرون یا کواڈ کاپٹر حملوں، مارٹر گولوں اور فائرنگ کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ علاقے میں خوف و ہراس کے باعث متعدد افراد گھروں میں محصور رہے اور لوگوں کو باہر نکلنے میں خطرات کا سامنا تھا۔

مسلسل فائرنگ اور گولہ باری کی اطلاعات کے باعث شہریوں کی نقل و حرکت بھی متاثر ہوئی جبکہ زخمیوں کو محفوظ مقام تک پہنچانے کے لیے سازگار صورتحال میسر نہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

مسجد میں نماز کے دوران پیش آنے والے اس واقعے نے مقامی آبادی میں تشویش پیدا کردی ہے۔ مذہبی عبادت کے دوران مبینہ فضائی حملوں اور علاقے میں فائرنگ کی اطلاعات کے بعد شہریوں کو اپنی سلامتی کے حوالے سے خدشات لاحق ہوگئے۔

جنوبی وزیرستان کے اس علاقے میں پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے دستیاب اطلاعات میں ڈرون یا کواڈ کاپٹر حملوں کا ذکر کیا گیا ہے، حملوں کی نوعیت اور ذمہ دار عناصر کے بارے میں آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

ابتدائی میڈیا رپورٹس میں چار افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، زخمیوں کی حالت، انہیں طبی امداد کی فراہمی اور واقعے کے بعد کی صورتحال سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔

اسی طرح علاقے میں مارٹر گولے گرنے اور فائرنگ کے واقعات کی نوعیت، ڈرون یا کواڈ کاپٹر کی سرگرمیوں اور واقعے کے پس منظر کے بارے میں بھی سرکاری مؤقف یا تفصیلی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

واقعے کے بعد مقامی آبادی کو درپیش مشکلات اور علاقے میں فائرنگ و گولہ باری کی اطلاعات کے تناظر میں صورتحال سے متعلق مزید تفصیلات اہمیت اختیار کرگئی ہیں۔

بشکریہ روزنامہ جسارت