بدھ، 28 اکتوبر، 2026 · 18 جمادی الاول، 1448 ہجری

سعودی عرب کی جانب داغے گئے حوثی باغیوں کے 3 بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیے گئے

قومی خبریں
سعودی عرب کی جانب داغے گئے حوثی باغیوں کے 3 بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیے گئے

ریاض: سعودی عرب نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے تنازعات کے حل پر زور دیا ہے، جبکہ سعودی اتحادی افواج نے مشرقی علاقے کی جانب داغے گئے 3 بیلسٹک میزائلوں کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق سعودی فوجی اتحاد کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے مشرقی علاقے کو نشانہ بناتے ہوئے 3 بیلسٹک میزائل فائر کیے گئے، تاہم سعودی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تینوں میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کردیا، جس کے باعث وہ اپنے ممکنہ اہداف تک نہیں پہنچ سکے۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق میزائل حملے کے خدشے کے پیش نظر سعودی عرب کے مشرقی علاقے اور الخرج گورنریٹ میں ہنگامی خطرے کا انتباہ بھی جاری کیا گیا تھا۔ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد یہ انتباہ کچھ دیر بعد واپس لے لیا گیا۔

دوسری جانب سعودی وزارت خارجہ نے خطے میں جاری بحران کے خاتمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی رابطوں کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کے نمائندوں نے تہران کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے اعلیٰ ایرانی حکام سے ملاقاتیں کیں۔

وزارت خارجہ کے مطابق ان ملاقاتوں کا مقصد خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا، فریقین کے درمیان بات چیت کے مواقع پیدا کرنا اور موجودہ بحران کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کے امکانات تلاش کرنا تھا۔ سعودی حکام نے ان رابطوں کو کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کے حل کے لیے جاری کوششوں کا حصہ قرار دیا۔

سعودی عرب نے اس موقع پر پاکستان اور قطر کی جانب سے ثالثی کے لیے کی جانے والی کوششوں کی حمایت بھی دہرائی۔ ریاض کے مطابق خطے میں امن قائم کرنے اور اختلافات کو مزید شدت اختیار کرنے سے روکنے کے لیے سفارتی اقدامات اور مذاکرات کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔

خطے میں ایک طرف میزائل حملوں کے واقعات اور سکیورٹی خدشات برقرار ہیں تو دوسری جانب مختلف ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ سعودی عرب نے اپنے مؤقف میں مذاکرات، مکالمے اور سفارتی ذرائع کو موجودہ بحران کے حل کے لیے اہم قرار دیا ہے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت