بدھ، 28 اکتوبر، 2026 · 18 جمادی الاول، 1448 ہجری

برطانیہ: فوجی اڈے پر حملے کی سازش، ایران سے تعلق کے شبہے میں دو افراد پر فردِ جرم عائد

قومی خبریں
برطانیہ: فوجی اڈے پر حملے کی سازش، ایران سے تعلق کے شبہے میں دو افراد پر فردِ جرم عائد

لندن: برطانوی حکام نے فوجی اڈے پر مبینہ حملے کے معاملے میں ایران سے ممکنہ تعلق رکھنے والے دو افراد پر قومی سلامتی کے قانون کے تحت فردِ جرم عائد کردی ہے۔ برطانوی پولیس کو شبہ ہے کہ ملزمان میں سے ایک نے برطانیہ میں ایرانی خفیہ ادارے کی مدد کی جبکہ دوسرے پر ایک ممنوعہ مقام میں مشتبہ مقصد کے تحت داخل ہونے کا الزام ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق 24 سالہ محمد عبد الکریم پر الزام ہے کہ اس نے 31 اگست سے 28 ستمبر کے دوران ایک غیر ملکی خفیہ ادارے کی ایسی سرگرمیوں میں مدد فراہم کی جو برطانیہ سے متعلق معاملات میں معاون ثابت ہوسکتی تھیں۔

دوسرے ملزم 24 سالہ نعمان اسغیر پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ اگست میں ایک ممنوعہ مقام میں ایسے مقصد کے تحت داخل ہوا جو برطانیہ کے مفادات کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔ حکام کی جانب سے دونوں ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے، الزامات کی حتمی حیثیت کا تعین عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔

یہ معاملہ 27 ستمبر کو اس وقت سامنے آیا تھا جب جنوب مغربی انگلینڈ میں واقع برطانوی فضائی اڈے آر اے ایف فیئر فورڈ کے قریب مشتبہ گاڑیوں کی موجودگی کی اطلاع ملی، ان گاڑیوں کے ذریعے حملے کی کوشش کی جاسکتی ہے، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے پانچ افراد کو گرفتار کیا تھا۔

پولیس کے مطابق مشتبہ گاڑیوں سے پیٹرول ملا تھا اور خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اسے حملے میں استعمال کیا جاسکتا ہے، تفتیشی حکام نے گاڑیوں سے آتش گیر یا دھماکا خیز مواد برآمد ہونے کی تردید کی تھی۔

واقعے کے بعد گرفتار کیے گئے افراد کو ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا، لیکن پولیس نے تحقیقات جاری رکھیں۔ اب دو افراد پر فردِ جرم عائد کیے جانے کے بعد معاملہ برطانوی قومی سلامتی اور فوجی تنصیبات کے تحفظ کے حوالے سے مزید اہمیت اختیار کرگیا ہے۔

آر اے ایف فیئر فورڈ جنوب مغربی انگلینڈ میں واقع ایک اہم فضائی اڈہ ہے، جہاں امریکی فضائیہ کے بھاری بمبار طیارے بھی تعینات رہے ہیں، یہ اڈہ ایران پر امریکی حملوں کے لیے استعمال ہوا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے تناظر میں امریکی طیارے وہاں سے واپس بلا لیے گئے۔

اس پس منظر میں فوجی اڈے کے قریب مشتبہ گاڑیوں کی موجودگی اور ممکنہ حملے کی اطلاعات نے برطانوی حکام کی تشویش میں اضافہ کیا۔ فوجی تنصیبات کی حفاظت اور غیر ملکی خفیہ اداروں کی مبینہ سرگرمیوں سے نمٹنا برطانوی سکیورٹی اداروں کے لیے اہم معاملہ بن گیا ہے۔

برطانوی پولیس کو شبہ ہے کہ اس معاملے میں ایرانی حکومت یا پاسداران انقلاب کا کردار ہوسکتا ہے، تاہم یہ الزام ابھی تحقیقات اور قانونی کارروائی کے دائرے میں ہے۔ ایران اس نوعیت کے الزامات کی تردید کرتا ہے۔

دونوں ملزمان پر عائد الزامات کی تفصیلات اور فوجی اڈے کے قریب پیش آنے والے واقعے کے درمیان تعلق کی مکمل نوعیت کے بارے میں مزید معلومات سامنے آنا باقی ہیں۔ حکام کی تحقیقات کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا مشتبہ سرگرمیوں کا کسی غیر ملکی خفیہ ادارے سے تعلق تھا اور آیا فوجی تنصیب کو نشانہ بنانے کا کوئی باقاعدہ منصوبہ موجود تھا۔

بشکریہ روزنامہ جسارت