سردیوں میں گرم پانی سے نہانا جلد اور بالوں کے لیے نقصان دہ کیوں ہوسکتا ہے؟

سرد موسم میں گرم پانی سے نہانا جسم کو حرارت پہنچانے اور تھکن دور کرنے کا باعث بنتا ہے، تاہم ضرورت سے زیادہ گرم پانی کا مسلسل استعمال جلد کی قدرتی نمی کو متاثر کرسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس عادت کے نتیجے میں جلد خشک، کھردری اور حساس ہوسکتی ہے جبکہ بعض افراد کو خارش، سرخی اور جلن جیسی شکایات کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
سردیوں میں درجہ حرارت کم ہونے کے باعث جلد پہلے ہی خشکی کا شکار ہوسکتی ہے، ایسے میں دیر تک گرم پانی سے نہانا اس کیفیت کو مزید خراب کرسکتا ہے۔ جلد کو صحت مند رکھنے کے لیے صفائی کے ساتھ اس کی قدرتی نمی برقرار رکھنا بھی ضروری ہے، کیونکہ جلد کی بیرونی تہہ میں موجود قدرتی چکنائی اسے خشک ہونے اور بیرونی اثرات سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
جلد کی قدرتی نمی متاثر ہونے کا خدشہ
بہت زیادہ گرم پانی جلد کی بیرونی سطح پر موجود قدرتی چکنائی کو کم کرسکتا ہے، جس سے جلد کی نمی برقرار رکھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں جلد کی سطح خشک اور کھردری ہونے لگتی ہے اور اس کی تازگی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ سردیوں میں یہ مسئلہ ان افراد میں زیادہ نمایاں ہوسکتا ہے جن کی جلد پہلے ہی خشک رہتی ہے۔
خشکی کے ساتھ خارش اور جلن کی شکایت
گرم پانی سے مسلسل اور طویل وقت تک نہانے کے باعث جلد میں کھنچاؤ، خارش اور جلن پیدا ہوسکتی ہے۔ بعض صورتوں میں جلد پر سرخی نمایاں ہونے لگتی ہے یا خشک حصوں پر پپڑیاں بھی بن سکتی ہیں۔ اگر جلد کی قدرتی نمی مسلسل کم ہوتی رہے تو یہ علامات زیادہ تکلیف دہ ہوسکتی ہیں۔
جلدی امراض میں شدت کا امکان
حساس جلد یا ایگزیما جیسے جلدی عوارض میں مبتلا افراد کو نہاتے وقت خصوصی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ بہت زیادہ گرم پانی ان افراد میں جلد کی جلن، خشکی اور خارش کی شدت بڑھا سکتا ہے۔ ایسے افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی جلد کی کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے نہانے کے طریقے اور جلد پر استعمال ہونے والی مصنوعات کا انتخاب کریں۔
نہانے کے لیے پانی کا درجہ حرارت کتنا ہو؟
سردیوں میں جلد کو نقصان سے بچانے کے لیے بہت زیادہ گرم پانی کے بجائے نیم گرم پانی استعمال کرنا بہتر ہے۔ پانی کا درجہ حرارت ایسا ہونا چاہیے کہ نہاتے وقت جلد پر جلن یا سرخی محسوس نہ ہو۔ ہر شخص کی جلد مختلف ہوتی ہے، اس لیے پانی کے کسی ایک مقررہ درجہ حرارت کو سب کے لیے یکساں طور پر موزوں قرار نہیں دیا جاسکتا۔
اس کے ساتھ نہانے کا دورانیہ بھی محدود رکھنا چاہیے۔ طویل وقت تک شاور کے نیچے کھڑے رہنے سے جلد کی خشکی بڑھ سکتی ہے، اس لیے تقریباً 10 منٹ کے اندر نہانے کی کوشش کریں۔
نہانے کے بعد جلد کی حفاظت کیسے کریں؟
جلد کی نمی برقرار رکھنے کے لیے نہانے کے فوراً بعد موئسچرائزر کا استعمال مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ جلد کو تولیے سے خشک کرنے کے بعد مناسب نمی بخش کریم یا لوشن لگانے سے اس کی خشکی کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ خشک اور حساس جلد والے افراد کو ایسی مصنوعات کا انتخاب کرنا چاہیے جو ان کی جلد کے لیے موزوں ہوں اور جلن کا سبب نہ بنیں۔
نہاتے وقت جلد کو زور سے رگڑنے سے بھی گریز کرنا چاہیے۔ اسی طرح جسم خشک کرتے ہوئے تولیے کو نرمی سے استعمال کرنا بہتر ہے، تاکہ جلد پر غیر ضروری رگڑ نہ پڑے۔
سردیوں میں گرم پانی سے نہانے کی عادت ترک کرنا ضروری نہیں، تاہم پانی کا درجہ حرارت معتدل رکھنا، نہانے کا وقت کم کرنا اور بعد میں جلد کو نمی فراہم کرنا اہم ہے۔ ان احتیاطی تدابیر سے جلد کی خشکی اور جلن کے امکانات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اگر خارش، سرخی یا جلد کی سوزش مسلسل برقرار رہے یا بڑھنے لگے تو جلد کے معالج سے رجوع کرنا چاہیے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت