امریکا نے چینی خفیہ خلائی جہاز کی پہلی واضح ترین تصویر جاری کر دی

امریکی انٹیلی جنس ادارے نے چین کے پُراسرار خلائی جہاز کی پہلی واضح ترین تصویر جاری کر دی۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق جاری کردہ تصویر میں ایک ایسے خلائی جہاز کو دکھایا گیا ہے جو خفیہ طور پر زمین سے سیکڑوں میل کی بلندی پر سرگرم ہے اور مدار میں نامعلوم اشیاء چھوڑ رہا ہے۔
امریکی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی (ڈی آئی اے) نے پیر کو ’چیلنجز ٹو سیکیورٹی اِن اسپیس‘ (Challenges to Security in Space) کے نام سے رپورٹ جاری کی ہے، اس رپورٹ میں شائع ہونے والی تصویر میں ایک خلائی جہاز نظر آ رہا ہے، جسے شین لونگ (Shenlong) قرار دیا گیا ہے، چینی روایت میں شین لونگ روحانی ڈریگن کو کہتے ہیں۔
جاپان دنیا کا پہلا مشن مریخ کے چاند پر روانہ کرنے کیلئے تیار
رپورٹ میں امریکی سیٹلائٹس اور دیگر خلائی اثاثوں کو لاحق ممکنہ خطرات کا جائزہ لیا گیا۔
ساخت کے اعتبار سے یہ خلائی جہاز امریکی فوج کے ایکس 37 بی (X-37B) خلائی جہاز سے خاصی مماثلت رکھتا ہے۔
یہ تصویر 2024ء میں میکسار ٹیکنالوجیز (Maxar Technologies) کے زیرِ انتظام ایک تجارتی سیٹلائٹ نے حاصل کی تھی، جسے اب وینٹور (Vantor) کے نام سے جانا جاتا ہے۔
تصویر میں موجود مبینہ چینی خلائی جہاز کے پر، کھلا ہوا کارگو بے اور پچھلے حصے سے باہر نکلے ہوئے شمسی پینل واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
امریکی ڈی آئی اے کی رپورٹ کے مطابق چین نے ستمبر 2020ء میں اپنے پہلے مداری مشن کے بعد سے اس خلائی جہاز کے ڈیزائن اور مشنز کو بڑی حد تک خفیہ رکھا ہوا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق اس خلائی جہاز نے 2022ء سے اب تک کم از کم 9 نامعلوم اشیاء زمین کے مدار میں چھوڑی ہیں، تاہم ان اشیاء کے اصل مقاصد تاحال واضح نہیں ہو سکے، ان میں سے بعض اشیاء چھوٹے سیٹلائٹس ہیں، جنہیں دوسرے خلائی جہازوں کے قریب جانے، انہیں پکڑنے اور دوبارہ چھوڑنے سے متعلق حرکات و سکنات کی آزمائش کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
امریکی ڈی آئی اے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مبینہ طور پر یہ خلائی جہاز اس وقت اپنے چوتھے مشن پر ہے، اسے 7 فروری کو لانگ مارچ 2 ایف راکٹ کے ذریعے خلاء میں روانہ کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی ایکس 37 بی کی طرح شین لونگ بھی کئی ماہ تک زمین کے گرد مدار میں رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کے بعد یہ مستقبل کے مشنز کے لیے رن وے پر اتر کر دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
جاپان: مریخ کے چاند سے مٹی کے نمونے لینے پہلا خلائی مشن روانہ
دوسری جانب چینی حکام کا مؤقف ہے کہ ان کا دوبارہ قابلِ استعمال خلائی جہاز تیار کرنے کا پروگرام خلائی سفر کو زیادہ سہل اور کم خرچ بنانے والی ٹیکنالوجیز کی تیاری کے لیے ہے، تاہم اس تصویر کے اجراء کے بعد بیجنگ کی بڑھتی ہوئی خلائی صلاحیتوں میں دلچسپی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب چین اور امریکا کے درمیان خلائی میدان میں مسابقت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اگرچہ اس خلائی جہاز کے ممکنہ فوجی استعمال کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، تاہم عوامی سطح پر ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ شین لونگ میں ہتھیار نصب ہیں۔
بشکریہ روزنامہ جنگ