الزائمر سے نجات کی نئی امید، ’جین سوئچ تھراپی‘ روک تھام میں کامیاب

طبی سائنس دانوں نے الزائمر (بھولنے کی بیماری) کے علاج میں ایک اہم ترین سائنسی پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے، جس کی مدد سے بیماری پیدا کرنے والے بنیادی جینیاتی محرکات کو روکا جا سکے گا۔
اس تھراپی کے تحت ایک خاص مالیکیول استعمال کیا جاتا ہے جو دماغی خلیوں میں جا کر اس مخصوص جین کی سرگرمی کو دبا دیتا ہے (جیسے سوئچ آف کرنا) جو ’ایمیلوئیڈ‘ نامی زہریلے پروٹین کی پیداوار کا باعث بنتا ہے۔
دماغ میں ایمیلوئیڈ پروٹین کا جمع ہونا نیورانز کو نقصان پہنچاتا ہے اور الزائمر کا بنیادی سبب بنتا ہے۔ یہ نیا علاج پروٹین کی اس تخریب کاری کو ابتدائی سطح پر ہی روک دیتا ہے۔
الزائمر علامات ظاہر ہونے سے پہلے ہی بیماری روکنے کیلئے دوا کا ٹرائل شروع
ماضی کے علاج صرف علامات کو کنٹرول کرنے پر مرکوز تھے، جبکہ ’جین سوئچ تھراپی‘ بیماری کی اصل جڑ پر حملہ کرتی ہے، جس سے ناصرف الزائمر کا علاج بلکہ اس کی پیشگی روک تھام بھی ممکن ہو جائے گی۔
ماہرین کے مطابق اگر اس تھراپی کے کلینیکل ٹرائلز حتمی مراحل میں کامیاب رہتے ہیں تو یہ مستقبل میں الزائمر کے مریضوں کے لیے ایک سستا اور انتہائی مؤثر علاج ثابت ہو سکتا ہے۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
بشکریہ روزنامہ جنگ