جمعرات، 29 اکتوبر، 2026 · 19 جمادی الاول، 1448 ہجری

90 منٹ دورانیے کی ویڈیوز، انسٹاگرام کا یوٹیوب کو بڑا چیلنج

تازہ ترین
90 منٹ دورانیے کی ویڈیوز، انسٹاگرام کا یوٹیوب کو بڑا چیلنج

میٹا نے معروف سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام کے لیے ایک بڑی تبدیلی کی تیاری شروع کر دی۔

اس نئی تبدیلی کا مقصد انسٹاگرام کو مختصر دورانئے کے ساتھ ساتھ طویل دورانیے کی ویڈیوز کے لیے بھی ایک اہم ذریعہ بنانا ہے، جس سے یوٹیوب کے ساتھ انسٹاگرام کا مقابلہ مزید بڑھ سکتا ہے۔

انسٹاگرام نے ایک نیا فیچر متعارف کروایا ہے، جس کا نام ’فیچرز‘ رکھا گیا ہے، اس کے ذریعے پوڈکاسٹس، کامیڈی شوز، انٹرویوز اور دیگر طویل ویڈیوز کو انسٹاگرام پر شیئر کیا جا سکے گا۔

انسٹاگرام کے اس نئے فیچر میں ویڈیوز کا دورانیہ زیادہ سے زیادہ 90 منٹ ہو گا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے سربراہ ایڈم موسیری اور کمپنی کی نائب صدر برائے مصنوعات ٹیسا لیونز نے اس نئے فیچر کا اعلان کیا۔

اس کا ابتدائی تجربہ برازیل میں بعض تخلیق کاروں کے ساتھ کیا گیا جب کہ امریکا میں بھی منتخب تخلیق کاروں کے لیے اس کی آزمائش شروع کر دی گئی ہے اور فی الحال یہ سہولت تمام صارفین کے لیے دستیاب نہیں۔

فیس بک کا صارفین کیلئے پیسے کمانے کا ایک اور آسان طریقہ متعارف

نئے منصوبے کے تحت انسٹاگرام مختصر ریلز اور طویل ویڈیوز کو ایک دوسرے سے منسلک کرے گا یعنی صارفین کسی پوڈکاسٹ یا شو کی مختصر ریل دیکھنے کے بعد اس سے منسلک مکمل ویڈیو بھی کھول سکیں گے۔

اس کے علاوہ کمپنی ویڈیوز کو اقساط کی شکل میں ترتیب دینے کے لیے سیریز فیچر پر بھی کام کر رہی ہے، جس سے تخلیق کار اپنے مواد کو موضوعات اور مختلف اقساط کے تحت پیش کر سکیں گے۔

صرف اتنا ہی نہیں بلکہ انسٹاگرام اپنی ٹی وی ایپ کو بھی وسعت دے رہا ہے تاکہ صارفین موبائل فون کے بجائے بڑی اسکرین پر بھی ویڈیوز دیکھ سکیں۔

ان تبدیلیوں کا مقصد مختصر ریلز کے ذریعے ناظرین کی توجہ حاصل کرنا اور انہیں مکمل پروگرام دیکھنے کے لیے ٹی وی کی طرف راغب کرنا ہے۔

کیا کنٹینٹ کری ایٹرز کو ویڈیوز سے آمدنی بھی ہو گی؟

اس نئے فیچر کے حوالے سے ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا طویل ویڈیوز کنٹینٹ کری ایٹرز کی آمدنی کا ذریعہ بھی ہوں گی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق انسٹاگرام فی الحال ان طویل ویڈیوز پر اشتہارات کی آمدنی میں تخلیق کاروں کو حصہ دینے کا منصوبہ نہیں رکھتا، تاہم برانڈز کے ساتھ اشتہاری معاہدوں اور اسپانسر شپ کے امکانات موجود ہیں۔

بشکریہ روزنامہ جنگ