جمعرات، 29 اکتوبر، 2026 · 19 جمادی الاول، 1448 ہجری

دنیا بھر میں سپر ال نینو سے آئندہ مارچ تک 3 لاکھ 73 ہزار اموات کا خدشہ

تازہ ترین
دنیا بھر میں سپر ال نینو سے آئندہ مارچ تک 3 لاکھ 73 ہزار اموات کا خدشہ

بحرالکاہل میں طاقت ور شکل اختیار کرنے والے موسمی سسٹم ال نینو کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، سیلاب اور طوفانوں کا خطرہ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

موسمیاتی اثرات کے جائزے سے وابستہ ادارے کلائمیٹ امپیکٹ لیب کے تیار کردہ اموات کے تخمینے کے مطابق آئندہ 6 ماہ کے دوران شدید گرمی کے باعث دنیا بھر میں 373,000 سے زائد اضافی اموات ہو سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اکتوبر سے مارچ کے دوران آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے ملک بھارت میں گرمی سے تقریباً 55,000 اموات کا خدشہ ہے جن میں زیادہ تر ہلاکتیں مارچ میں متوقع ہیں جبکہ نائجیریا میں تقریباً 56,000 اموات کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

بحرالکاہل میں ال نینو ’سپر اسٹیٹس‘ تک پہنچ گیا، بارش، خشک سالی و گرمی کا خدشہ بڑھ گیا

تخمینے کے مطابق انڈونیشیا میں شدید گرمی سے تقریباً 29,000 جبکہ برازیل میں 19,000 اموات ہو سکتی ہیں، ال نینو سے متاثرہ زیادہ تر ممالک کا تعلق ترقی پذیر خطوں سے ہے۔

کلائمیٹ امپیکٹ لیب کے شریک بانی مائیکل گرین اسٹون کا کہنا ہے کہ گرمی سے ہونے والی اموات کے خطرات کی پیشگی نشاندہی سے حکام کو بروقت اقدامات کرنے اور انسانی جانیں بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ال نینو کے باعث ممبئی میں فضائی آلودگی بھی بڑھ سکتی ہے۔

دوسری جانب بھارتی ادارے سفار کے بانی اور موسمیاتی ماہر ڈاکٹر غفران بیگ کے مطابق ہواؤں کی رفتار کم ہونے سے ممبئی شہر میں آلودگی کے قدرتی طور پر پھیلنے اور کم ہونے کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق رواں سال ال نینو 1950ء کے بعد سے شدید ترین قرار دیا جا رہا ہے اور اس کی شدت دسمبر میں عروج پر پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ اس کے اثرات 2027ء کے اوائل تک برقرار رہ سکتے ہیں۔

سپر ال نینو سے 4.5 لاکھ اضافی اموات کا خدشہ

واضح رہے کہ ال نینو بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصوں میں سمندر کی سطح کا درجۂ حرارت بڑھنے کا قدرتی موسمیاتی سسٹم ہے جس سے دنیا بھر میں ہواؤں، فضائی دباؤ اور بارشوں کے نظام میں تبدیلیاں آتی ہیں۔

یہ نظام عموماً ہر 2 سے 7 سال بعد پیدا ہوتا ہے اور تقریباً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے، اس کے برعکس سسٹم کو لا نینا (La Nina) کہا جاتا ہے جبکہ دونوں کے درمیان غیر جانبدار موسمی حالات بھی پیدا ہوتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ جنگ