بدھ، 28 اکتوبر، 2026 · 18 جمادی الاول، 1448 ہجری

اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کا اتحاد سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام

تازہ ترین
اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کا اتحاد سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام

اسرائیلی عام انتخابات میں نیتن یاہو کا اتحاد سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام ہوگیا، عرب جماعتوں نے 19 نشستیں جیت کر بادشاہ گر کی حیثیت حاصل کر لی، جس کے بعد عرب علاقوں میں جشن منایا گیا۔

ابتدائی انتخابی اندازوں کے مطابق وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے دائیں بازو کے سیاسی اتحاد کو تقریباً 53 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جو 120 رکنی اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) میں حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کم ہیں۔ اس طرح نیتن یاہو کا اتحاد سبکدوش ہونے والی پارلیمان میں حاصل اکثریت برقرار رکھنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔

120 رکنی پارلیمنٹ میں نیتن یاہو اتحاد کو 53 اور اپوزیشن رہ نما گادی آئزن کوٹ کے اتحاد کو 48 نشستیں ملنے کا امکان ہے، باقی 19 نشستیں عرب جماعتوں کو ملیں گی، عرب جماعتوں قائمہ المشترکہ کے 12 اور قائمہ العربیہ کے 7 نشستیں جیتنے کا امکان ہے۔

اسرائیلی انتخابات: ڈبل لفافوں میں ڈالے گئے ووٹ نتائج کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں، یہ نظام کیا ہے؟

نیتن یاہو اپوزیشن کی کسی جماعت کو اپنے ساتھ ملا کر حکومت بنانے کی کوشش کرسکتے ہیں، تاہم انتخابی مہم کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے ان کے ساتھ تعاون سے انکار کیا تھا۔ ماضی میں نیتن یاہو کی حکومت میں شامل ہونے والے بعض سیاست دانوں کی سیاسی پوزیشن کمزور ہوئی اور انہیں حکومتی پالیسیوں پر محدود اثرورسوخ حاصل رہا۔

وزیراعظم انفرادی طور پر اپوزیشن ارکان کو بھی اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرسکتے ہیں، لیکن اکثریت تک پہنچنے کے لیے انہیں متعدد ارکان کی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔

اسرائیل میں بیشتر ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد بھی کوئی جماعت واضح کامیابی حاصل نہیں کرسکی، جس کے باعث ملک میں آئندہ کئی ہفتوں یا ممکنہ طور پر کئی ماہ تک سیاسی غیر یقینی صورت حال برقرار رہنے کا امکان ہے۔

اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کیلئے بڑا چیلنج بننے والے گادی آئزنکوٹ کون ہیں؟

سیاسی تعطل کی صورت میں ایک اور امکان قومی اتحاد کی حکومت کا قیام ہے، جس میں نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ اور اپوزیشن کی ایک یا زیادہ جماعتیں شامل ہوسکتی ہیں۔ ایسا اتحاد موجودہ سخت گیر حکومت کی جگہ لے سکتا ہے۔

اگرچہ نیتن یاہو اور اپوزیشن رہنماؤں نے انتخابی مہم کے دوران اس امکان کو مسترد کیا تھا، تاہم سیاسی تجزیوں کے مطابق دوبارہ انتخابات سے بچنے کے لیے قومی اتحاد کی حکومت ان کے سامنے موجود چند ممکنہ راستوں میں سے ایک ہوسکتی ہے۔

اس طرح اسرائیل میں حکومت سازی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ سیاسی جماعتیں اپنے نظریاتی اختلافات اور انتخابی وعدوں سے آگے بڑھ کر 61 ارکان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کس حد تک سمجھوتے پر آمادہ ہوتی ہیں۔

بشکریہ روزنامہ جنگ