بدھ، 28 اکتوبر، 2026 · 18 جمادی الاول، 1448 ہجری

ہم بے گناہ ہیں، ہمیں پنجرے میں رکھ کر ٹرائل کیا گیا: ایمان مزاری

تازہ ترین
ہم بے گناہ ہیں، ہمیں پنجرے میں رکھ کر ٹرائل کیا گیا: ایمان مزاری

اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں بیریئر ہٹانے اور کارِ سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں ایمان مزاری اور ہادی علی کا ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت ریکارڈ کرایا گیا بیان سامنے آ گیا۔

ایمان مزاری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ بیان احتجاجاً جمع کرا رہی ہوں، کرکٹ ٹیم اس راستے سے گزر ہی نہیں رہی تھی اور پولیس نے خود بتایا تھا کہ ٹیم دوسرے راستے سے جا چکی ہے۔

ایمان مزاری کا کہنا ہے کہ سڑک کی عارضی بندش کے لیے پولیس کے پاس مجسٹریٹ کا حکم موجود نہیں تھا، ہمیں بطور وکیل انسدادِ دہشت گردی عدالت پہنچنا تھا، اس لیے ہم نے 15 منٹ انتظار کے بعد سڑک کھولنے کی درخواست کی، غیر قانونی طور پر سڑکیں بند کرنے سے شہریوں کی نقل و حرکت کے آئینی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔

ایمان مزاری کا 342 کا بیان ریکارڈ کرانے سے انکار

انہوں نے کہا ہے کہ پولیس سے صرف یہ کہا تھا کہ سڑک کسی کی ذاتی ملکیت نہیں، اگر بیریئر ہٹانے سے سیکیورٹی کا خطرہ تھا تو پولیس نے موٹر سائیکل سواروں کو کیوں نہیں روکا؟

بیان میں ایمان مزاری نے کہا ہے کہ پراسیکیوشن نے جان بوجھ کر ویڈیو کی اصل ٹرانسکرپٹ چھپائی، جو پراسیکیوشن کے جھوٹ کا پردہ فاش کرتی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ بغیر وردی کے پولیس اہلکار ابراہیم نے ہم پر لوہے کا بیریئر پھینکا، جس سے میں زخمی ہوئی، میرے شوہر نے مجھے تشدد اور جسمانی نقصان سے بچانے کے لیے دفاعی قدم اٹھایا، جبکہ پمز اسپتال کی میڈیکل رپورٹ بھی ثبوت کے طور پر عدالت میں جمع کرائی گئی ہے۔

ایمان مزاری نے کہا ہے کہ پولیس اہلکار کے زخمی ہونے کا کوئی ثبوت ریکارڈ پر موجود نہیں اور واقعے کے بعد ایک پولیس اہلکار نے پولیس کے رویے پر ہم سے معافی بھی مانگی تھی۔

انہوں نے یو ایس بی کو غیر مصدقہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسے پولیس اسٹیشن میں کئی دن تک بغیر سیل کیے رکھا گیا، ہائی کورٹ کی جانب سے ریمانڈ معطل کیے جانے کے بعد تمام تفتیشی کارروائی غیر قانونی تھی۔

بیریئر ہٹانے کا کیس: ایمان مزاری و ہادی علی چٹھہ پر فردِ جرم عائد

بیان کے مطابق مقدمے کے تمام گواہ پولیس اہلکار ہیں اور کوئی آزاد یا نجی گواہ شامل نہیں کیا گیا، انسانی حقوق کے لیے کام کرنے اور مفت قانونی خدمات فراہم کرنے کے بدلے ہمارے خلاف انتقامی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے کے باوجود اڈیالہ جیل میں ہمیں دوبارہ تشدد کا نشانہ بنا کر گرفتار کیا گیا، ہمیں پنجرے میں رکھ کر ٹرائل کیا گیا اور وکیل تک رسائی سے محروم رکھا گیا۔

ایمان مزاری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم بے گناہ ہیں اور حقوق العباد کی جنگ میں ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔

ملزم ہادی علی کا بھی اڈیالہ جیل میں ریکارڈ کیا گیا 342 کا بیان سامنے آ گیا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ مجھے اور میری اہلیہ کو جیل ٹرائل کے دوران پنجرے میں بند رکھا گیا، پنجرے میں ٹرائل، عدم موجودگی میں شہادتیں ریکارڈ کرنے اور سرکاری کونسل کی تقرری کوچیلنج کیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ تینوں کو اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے، پولیس اہلکاروں نے تصدیق کی تھی کہ متبادل راستہ صرف 15منٹ کے لیے بند کیا گیا تھا، پولیس کے پاس سڑک بند کرنے کا کوئی مجسٹریٹ آرڈر موجود نہیں تھا، سڑک کی غیر قانونی بندش نے نقل و حرکت اور روزگار کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کی۔

نظام ناکام ہوچکا ہے: ایمان مزاری اور ہادی علی کو عدالت میں پیش نہ کرنے پر جج کا اظہارِ برہمی

ہادی علی کا کہنا ہے کہ پراسیکیوشن نے ویڈیو کی ٹرانسکرپٹ چھپائی، جو پولیس کے جھوٹے کیس کو بے نقاب کرتی ہے، پولیس اہلکار نے لوہے کے بیریئر سے میری حاملہ بیوی پر حملہ کیا، میں نے اپنی اہلیہ کے دفاع کے لیے جوابی قدم اٹھایا، پمز اسپتال کا طبی ریکارڈ پولیس کے تشدد اور اہلیہ کو لگی چوٹوں کی تصدیق کرتا ہے۔

بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ یو ایس بی فارنزک اور وائس میچنگ سمیت تمام تفتیشی کارروائیاں غیر قانونی طور پر کی گئیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے جوڈیشل ریمانڈ معطل کرنے کے بعد یہ کارروائیاں غیر قانونی تھیں، سپریم کورٹ کے رہائی کےحکم کے بعد ہمیں دوبارہ تشدد کر کے گرفتار کیا گیا، ہمیں17 ستمبر کو اڈیالہ جیل کے اندر سے دوبارہ تشدد کرکے گرفتار کیا گیا۔

بشکریہ روزنامہ جنگ