نیتن یاہو سیاسی میدان سے کنارہ کشی اختیار کریں: اسرائیلی اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ

اسرائیلی اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ نے نیتن یاہو کو سیاسی میدان سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا مشورہ دے دیا۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق گادی آئزن کوٹ کا کہنا ہے کہ ووٹرز نے نیتن یاہو کی مسلسل قیادت کو مسترد کر دیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی سلامتی کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال نہ کیا جائے گا۔
اپوزیشن رہنما نے معاشرے کے تمام طبقات کی نمائندگی کرنے والی حکومت تشکیل دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔
بدھ کی علی الصبح تل ابیب میں اپنی جماعت یاشار کے ہیڈکوارٹر میں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے گادی آئزن کوٹ نے کہا کہ اسرائیلی عوام نے تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا ہے، میں تمام طبقات کی نمائندہ حکومت بنانے کے لیے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کروں گا۔
اسرائیل میں انتخابات کے لیے پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری
انہوں نے کہا کہ ایک اور انتخاب کرانا غلطی ہو گی، عوام کی خواہش پوری کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا میری ذمے داری ہے۔
آئزن کوٹ نے تسلیم کیا کہ انتخابات کے حتمی نتائج ابھی آنا باقی ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو کو پہلے ہی ایک بڑی اور زیادہ مضبوط صہیونی اکثریت کا سامنا ہے، جو ان کی مسلسل حکمرانی کی مخالف ہے۔
نیتن یاہو کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی سلامتی کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنے کی جرأت نہ کریں۔
انہوں نے سیکیورٹی اداروں کے سربراہان سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ یاد رکھیں کہ نیتن یاہو ایک نگراں حکومت کی سربراہی کر رہے ہیں اور ان کی ذمے داری عوام کی خدمت کرنا ہے، سیکیورٹی ادارے دباؤ ڈالنے کی کوششوں کے سامنے ثابت قدم رہیں۔
اپوزیشن رہنما نے اعلان کیا کہ تقسیم اور اشتعال انگیزی کا دور ختم ہو چکا ہے۔
انہوں نے لازمی فوجی بھرتی پر توجہ مرکوز کرنے والی صہیونی حکومت تشکیل دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
واضح رہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز پولنگ ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی تھی جو فی الحال جاری ہے، انتخابات کے سرکاری نتائج کا اعلان 4 نومبر کو متوقع ہے۔
مرکزی انتخابی کمیٹی کے مطابق حالیہ انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ 77.7 فیصد رہا، جو 1999ء کے بعد سب سے زیادہ ہے، یہ شرح 2022ء کے انتخابات کے مقابلے میں 7.1 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔
بشکریہ روزنامہ جنگ