اسرائیل میں انتخابات کے لیے پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری

فوٹو: بشکریہ انٹرنیشنل میڈیا
اسرائیل میں انتخابات کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہوگیا، اس وقت ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔
اسرائیلی چینل 12 کے ایگزٹ پول کے مطابق اسرائیلی انتخابات میں کوئی واضح فاتح نہیں ہوگا، نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی اسرائیلی پارلیمنٹ میں سب سے بڑی جماعت ہوگی۔
لیکوڈ پارٹی اسرائیلی پارلیمنٹ کی 120 میں سے 24 نشستیں حاصل کرے گی جبکہ نیتن یاہو کے حریف اور سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت والی پارٹ 22 نشستیں حاصل کرے گی۔
نیتن یاہو کی پارٹی کو انتخابات میں شکست نظر آنے لگی، نیا پلان تیار کرلیا
ادھر اسرائیلی چینل 11 کے ایگزٹ پول کے مطابق آئزن کوٹ کی قیادت والا بلاک نیتن یاہو کی قیادت والے بلاک سے بڑا ہونے کا امکان ہے۔
آئزن کوٹ نے ایگزٹ پولز کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلیوں کو نیتن یاہو پر بالکل بھی اعتماد نہیں ہے۔
اسرائیلی پارلیمنٹ کی 120 نشستوں پر حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 نشستوں کی اکثریت درکار ہوگی۔
خبر ایجنسی کے مطابق ایگزٹ پولز نے ظاہر کیا کہ نہ تو وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور نہ ہی حریف آئزن کوٹ کو حکومت سازی کے لیے اکثریت حاصل ہوسکے گی۔
حتمی نتائج میں کئی دن لگ سکتے ہیں، حکومت سازی میں طویل وقت لگ سکتا ہے اور یہ تعطل نیتن یاہو کے حق میں کام کرسکتا ہے جس سے وزیر اعظم کو نگراں کی حیثیت سے اقتدار میں رہنے کی اجازت ملتی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ کا نیا ریکارڈ بن گیا، شام چار بجے تک 55.7 فیصد ووٹرز نے حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ یہ 1973 کے بعد کی بلند ترین شرح ہے۔
عرب اکثریتی علاقوں میں ووٹرز کی بڑی تعداد میں شرکت پر نیتن یاہو پریشان ہوگئے اور انہوں نے سوشل میڈیا پیغامات میں یہودی ووٹرز سے گھروں سے نکلنے اور ووٹ ڈالنے کی اپیل کی۔
نیتن یاہو نے کہا کہ یہودی ریاست کا مستقبل داؤ پر ہے یہودیوں نے ووٹ نہ ڈالے تو عرب جماعتوں کی حکومت بن جائے گی۔
7 اکتوبر 2023 کے حملوں اور خطے میں جاری کشیدگی کے بعد ہونے والے یہ پہلے انتخابات ہیں جنہیں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو کو اپنی سیاسی بقا اور اقتدار برقرار رکھنے کے لیے سخت ترین چیلنجز اور مشکلات کا سامنا ہے۔ طویل جنگ اور اندرونی مسائل نے ان کی پوزیشن کو کمزور کردیا ہے۔
بشکریہ روزنامہ جنگ