بدھ، 28 اکتوبر، 2026 · 18 جمادی الاول، 1448 ہجری

امریکا کا زوال اور ایٹمی جنگ: امریکی نوسٹرڈیمس کی 2028ء سے متعلق 3 خوفناک پیشگوئیاں

تازہ ترین
امریکا کا زوال اور ایٹمی جنگ: امریکی نوسٹرڈیمس کی 2028ء سے متعلق 3 خوفناک پیشگوئیاں

امریکی طاقت کے زوال، ممکنہ ایٹنی حملوں اور 27 سال تک جاری رہنے والی عالمی جنگ سے متعلق 3 خوفناک پیش گوئیوں نے میڈیا کی توجہ حاصل کر لی۔

برطانوی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق خود کو’امریکا کا نوسٹرڈیمس‘ کہنے والے مصنف جان ہوگ گزشتہ تقریباً 4 دہائیوں سے 16 ویں صدی کے فرانسیسی نجومی نوسٹرڈیمس کی تحریروں کا مطالعہ کر رہے ہیں۔

وہ قدیم تحریروں، علمِ نجوم اور موجودہ عالمی سیاسی حالات کو ملا کر مستقبل کے بارے میں اپنے اندازے پیش کرتے ہیں۔

امریکا کا زوال

’اہم عالمی شخصیت کی موت، 7 ماہ کی عظیم جنگ‘، نوسٹرڈیمس کی 2026ء کیلئے ہوش ربا پیشگوئیاں

جان ہوگ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا 11 ستمبر 2028ء تک عالمی طاقت ہونے کی حیثیت کھو سکتا ہے، جو امریکا میں نائن الیون حملوں کی 27 ویں برسی ہو گی۔

انہوں نے کہا ہے کہ ستمبر 2026ء سے ستمبر 2028ء تک جاری رہنے والا دور امریکا کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔

جان ہوگ نے اپنے خدشات کی وجوہات میں بڑھتا ہوا قرض، مہنگائی، ایندھن کی ممکنہ قلت، سیاسی تقسیم اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کا ذکر کیا ہے۔

انہوں نے بتایا ہے کہ یہ عوامل امریکی عالمی اثر و رسوخ کو کمزور کر سکتے ہیں، تاہم ان دعوؤں سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ امریکا کی معیشت یا عالمی طاقت واقعی اس تاریخ تک زوال پذیر ہو جائے گی۔

ایران پر ممکنہ ایٹمی حملہ اور بڑے تنازع کا خدشہ

جان ہوگ کی دوسری پیش گوئی امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ ایٹمی تصادم سے متعلق ہے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ ایران کی زیرِ زمین جوہری تنصیبات پر حملہ خطے میں بڑے پیمانے پر جوابی کارروائیوں کا سبب بن سکتا ہے۔

جان ہوگ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران امریکی بحری جہازوں کو میزائلوں سے نشانہ بنا سکتا ہے، جبکہ شمالی کوریا کے ڈرون بھی بحیرۂ عرب میں امریکی بحریہ کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

ان کے پیش کردہ منظرنامے میں روس اور یورپی ممالک کے درمیان کشیدگی بھی بڑھ سکتی ہے، خصوصاً اگر یورپی ممالک یوکرین جنگ میں براہِ راست مداخلت کریں۔

اُنہوں نے کہا ہے کہ ایسے واقعات بتدریج ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال اور تیسری عالمی جنگ تک پہنچ سکتے ہیں۔

برطانوی ویب سائٹ کے مطابق یہ فی الحال صرف جان ہوگ کے دعوے ہیں اور یہ دعوے اس بات کا ثبوت نہیں کہ امریکا نے ایران پر ایٹمی حملے کا فیصلہ کر لیا ہے یا ایسا تنازع لازماً پیش آئے گا۔

27 سال تک جاری رہنے والی تیسری عالمی جنگ

جان ہوگ کی تیسری اور سب سے غیر معمولی پیش گوئی ایک ایسی عالمی جنگ سے متعلق ہے جو ان کے مطابق 27 سال تک جاری رہ سکتی ہے۔

ایران جنگ: کیا بابا وانگا کی خطرناک پیشگوئی سچ ثابت ہونیوالی ہے؟

انہوں نے کہا کہ 27 سال تک جاری رہنے والی جنگ سے مغربی ایشیاء میں تیل، قدرتی گیس اور ہیلیئم کی صنعتیں متاثر ہو سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں توانائی کی فراہمی، خوراک اور پانی کے نظام پر شدید دباؤ پڑ سکتا ہے۔

کیا یہ پیش گوئیاں حقیقت بن سکتی ہیں؟

ہوگ کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد لوگوں کو خوف زدہ کرنا نہیں بلکہ جنگ اور تشدد کے ممکنہ نتائج سے خبردار کرنا اور امن کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔

واضح رہے کہ نوسٹرڈیمس کی تحریروں کا مطلب لوگ صدیوں سے مختلف نکالتے رہے ہیں، ان کے مبہم اشعار کو بعد کے واقعات سے جوڑنے کے طریقے پر بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔

علمِ نجوم یا قدیم پیش گوئیوں کی بنیاد پر کسی مخصوص جنگ، معاشی تباہی یا عالمی طاقت کے زوال کی درست تاریخ قابلِ اعتماد طور پر متعین نہیں کی جا سکتی۔

بشکریہ روزنامہ جنگ