اتوار26؍رمضان المبارک 1442ھ 9؍مئی2021ء

20 ہزار یہودی جنھیں چین نے دوسری عالمی جنگ کے دوران بچایا

’شنگھائی کا معجزہ‘: دوسری عالمی جنگ کے دوران چین نے کیسے 20 ہزار یہودیوں کی زندگی بچائی

  • رونن او کونل
  • بی بی سی ٹریول

چین، یہودی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہ ایسی علامت ہے جو بظاہر اپنی صحیح جگہ پر نہیں۔ مرکزی شنگھائی میں شہر کی چمکتی فلک بوس عمارتوں کے قریب میں نے اینٹوں سے بنی ایک پُرانی عمارت دیکھی جس پر سٹار آف ڈیوڈ یعنی ستارہ داؤدی موجود ہے۔

یہودیوں کا یہ نشان اتنا چھوٹا ہے کہ شاید پاس سے گزرنے والے اسے دیکھ ہی نہ پائیں۔ تاہم یہ شنگھائی کی تاریخ میں سب سے غیر معمولی کہانیوں میں سے ایک کی نشانی ہے۔ یہ واقعہ تیلانکیاؤ کے علاقے میں پیش آیا تھا۔

سنہ 1930 کی دہائی میں ہزاروں مجبور افراد کے لیے یہ چینی شہر آخری پناہ گاہ تھا۔ نازی جرمنی میں ظلم و ستم کے دوران اکثر ملکوں اور شہروں نے یہودیوں کے داخلے پر پابندی لگا رکھی تھی۔ لیکن اس فہرست میں شنگھائی شامل نہیں تھا۔

اس کثیر الثقافتی پناہ گاہ میں برطانوی، فرانسیسی، امریکی، روسی اور عراقی شہری رہائش پذیر تھے۔ یہ ان واحد جگہوں میں سے تھا جہاں یہودی پناہ گزین کو آنے کی اجازت تھی، اور وہ بھی بغیر کسی ویزے کے۔

یہ بھی پڑھیے

سٹار آف ڈیوڈ

،تصویر کا ذریعہWolfgang Kaehler/Getty Images

،تصویر کا کیپشن

شنگھائی کی اس پُرانی عمارت پر موجود سٹار آف ڈیوڈ یہاں یہودیوں کی تاریخ کا ثبوت ہے

جرمنی، پولینڈ، آسٹریا اور دیگر ملکوں کے 20 ہزار سے زیادہ بے گھر یہودیوں کے لیے شنگھائی سات ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر موجود تھا۔ لیکن اس کے باوجود یہودیوں کی نسل کشی (ہولوکاسٹ) سے بچنے کے لیے 1933 سے 1941 کے درمیان وہ چین کے سب سے بڑے شہر آگئے تھے۔ مگر شنگھائی ان کے لیے صرف محفوظ پناہ گاہ ہی نہیں تھا۔

یہ ایک جدید شہر تھا جہاں روسی یہودیوں نے ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل یہاں اپنی برداری تشکیل دے رکھی تھی۔ انھوں نے اس عمارت کو تعمیر کیا تھا جہاں سٹار آف ڈیوڈ کا نشان موجود تھا۔ اس کا نام دی اوہل موشے سیناگوگ ہے۔

اس سفر کے ابتدا میں تو شنگھائی کے باسی اپنے نئے مہمانوں کی آمد پر پُرامن رہے۔ شنگھائی کے رہائشیوں نے یہودی پناہ گزین کا خیر مقدم کیا اور یہاں سکولوں سمیت ایک مضبوط کمیونٹی تشکیل دی گئی جہاں سماجی روابط اچھے تھے۔ کچھ پناہ گزین نے بطور ڈینٹسٹ اور ڈاکٹر کام شروع کردیا۔ باقیوں نے دکانیں، کیفے اور کلب تعمیر کر لیے۔

لیکن ان پناہ گزینوں کو معلوم نہیں تھا کہ پوری دنیا کا چکر لگانے کے باوجود وہ ایک دن نازی جرمنی کے سب سے طاقتور اتحادی کے ہاتھ آجائیں گے۔ سنہ 1941 میں جاپان نے شنگھائی پر قبضہ کر لیا۔ نازیوں کے حکم پر جاپانی دستوں نے شہر کے تمام یہودیوں کو اکٹھا کر کے انھیں تیلانکیاؤ میں قید کردیا۔ اس طرح شنگھائی میں یہودیوں کی کچی آبادی وجود میں آئی۔

ہوشان پارک

،تصویر کا ذریعہullstein bild/Getty Images

،تصویر کا کیپشن

ہوشان پارک میں لگی تختی جس پر یہودی کی کچی آبادی کے بارے میں بتایا گیا ہے

میرے ذہن میں تاریخ کے یہ سیاہ باب گردش کر رہے تھے جب میں تیلانکیاؤ کے ہوشان پارک میں ایک پتھر سے بنی تختی پر رُکا۔ اس چھوٹے پارک میں کافی پودے لگے ہوئے ہیں۔ جب میں اس تختی کی تصویر کھینچ رہا تھا تو کچھ معمر چینی افراد نے مجھے دیکھ کر حیرانی ظاہر کی۔ تیلانکیاؤ کی یہودیوں سے متعلق تاریخ شاید اتنے بین الاقوامی سیاحوں کو یہاں کھینچ کر نہیں لاتی مگر یہ حصہ شہر کے مرکزی سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔

اس تختی پر انگریزی، مینڈارن اور عبرانی میں لکھا تھا کہ ہوشان پارک کا یہ حصہ یہودی کچی آبادی کی جگہ تھی۔ اس کے شمالی کنارے پر جوجیاسوئی روڑ، جنوب پر ہوئیمن روڑ، مشرق میں تونگبے روڑ اور مغرب میں گونگپنگ روڑ موجود ہے۔ یہ کچی آبادی قریب ایک مربع میل وسیع تھی۔

اس کی حدود میں 1940 کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں 15 ہزار سے زیادہ یہودی آباد تھے۔ ہوشان پارک ایک عوامی لیونگ روم جیسا تھا جہاں دن میں یہودی جمع ہوا کرتے تھے۔ یورپ میں یہودی کچی آبادیوں کے برعکس تیلانکیاؤ میں باڑ نہیں لگائی گئی تھی۔

شنگھائی

،تصویر کا ذریعہullstein bild/Getty Images

،تصویر کا کیپشن

یہودی کچی آبادی کی کئی عمارتیں اب بھی شنگھائی میں موجود ہیں

مگر اسرائیلی صحافی اور شنگھائی میں یہودیوں کی تاریخ کے ماہر دویر بار گال کے مطابق یہ محرومی کا شکار ایک مایوس جگہ تھی۔ وہ سنہ 2002 سے تیلانکیاؤ میں آ رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘تصور کریں کہ آپ ویانا میں ڈاکٹر، وکیل یا موسیقار تھے اور اچانک آپ بے روزگار ہونے کے بعد شنگھائی کی کچی آبادی میں رہنے لگتے ہیں۔’

‘تو یہ کوئی خوشحال مقام نہیں تھا۔ مگر انھوں نے تھیٹر اور موسیقی جیسی روایات کو برقرار رکھ کر یہودی طرز زندگی کو جاری رکھا۔ لیکن وہ یہ سب کر کے بہت کم پیسے کما رہے تھے لیکن (تیلانکیاؤ میں) 1930 کی دہائی کے دوران یہودی طرز زندگی ترقی پا رہی تھی۔’

بار گال کے مطابق جاپانی مداخلت سے پہلے بھی کئی یہودی پناہ گزین یورپ میں اپنی پُرتعیش کے مقابلے تیلانکیاؤ میں غربت کی زندگی گزار رہے تھے۔ صورتحال اس وقت مزید بگڑ گئی جب جاپانی فوجیوں نے شنگھائی بھر سے یہودیوں کو اکٹھا کیا اور انھیں اس نئی کچی آبادی کی حدود میں رہنے پر مجبور کیا۔ جاپانیوں پر اس جگہ سے نکلنے پر پابندی تھی۔ وہ جاپانی اہلکاروں کی اجازت کے بغیر کام نہیں کر سکتے تھے اور ایسا کم ہی ہوتا کہ انھیں اجازت دی جاتی۔

گھروں میں ہجوم کی وجہ سے بیماری اور غذائی قلت کے متاثرین بڑھتے گئے۔ بار گال کے مطابق ‘یہ ایک غریب علاقے سے ایک شدید غربت کا شکار علاقہ بن گیا۔’

شنگھائی

،تصویر کا ذریعہOlivier Chouchana/Getty Images

،تصویر کا کیپشن

شنگھائی 1930 کی دہائی میں ان شہروں میں سے تھا جہاں یہودیوں کے داخلے کی اجازت تھی

‘کئی لوگوں کے پاس نوکری نہیں تھی اور وہ مشترکہ گھروں میں رہنے پر مجبور تھے جہاں بستر، باتھ روم اور کچن مل بانٹ کر استعمال کرنا پڑتے تھے۔ ان کی زندگیوں میں کوئی رازدای نہیں تھی اور وہ لگ بھگ خوراک سے محروم تھے۔’

تاہم ہولوکاسٹ میں قریب 60 لاکھ یہویوں کا قتل عام ہوا اور 1937 سے 1945 کے درمیان جاپان سے جنگ کے دوران ایک کروڑ 40 لاکھ چینی فوجی اور سویلین مارے گئے۔ اس دوران شنگھائی میں یہودی پناہ گزین کی اکثریت زندہ بچ نکلی۔

اس غیر معمولی کہانی کو تاریخ دان ڈیوڈ کرینزر نے ‘شنگھائی کا معجزہ (میراکل آف شنگھائی)’ قرار دیا ہے۔ بار گال کے مطابق یہودی اس لیے بچ گئے تھے کیونکہ وہ جاپانی فورسز کا بنیادی ہدف نہیں تھے۔

سنہ 1945 میں دوسری عالمی جنگ جاپان اور نازی جرمنی کی شکست سے اختتام پذیر ہوئی۔ جاپانی فوجی دستے واپس چلے گئے اور شنگھائی میں یہودیوں نے یہاں سے انخلا شروع کردیا۔ وہ امریکہ، آسٹریلیا اور کینیڈا جیسے ملکوں میں بسنے لگے۔

لیکن اگر اس وقت شنگھائی نے ان پناہ گزینوں کو جگہ نہ دی ہوتی تو شاید یہ 20 ہزار سے زیادہ یہودی نازی ڈیتھ سکواڈز کے ہاتھوں بچ نہ پاتے۔

شنگھائی

،تصویر کا ذریعہZUMA Press, Inc/Alamy

،تصویر کا کیپشن

اس میوزیم میں اس وقت کی یادیں موجود ہیں جب یہودیوں نے شنگھائی میں پناہ لی تھی

ان دنوں تیلانکیاؤ میں چینی شہریوں کی اکثریت آباد ہے اور مشکل سے یہاں کوئی غیر ملکی نظر آتا ہے۔ شنگھائی میں دو ہزار سے کم یہودی رہتے ہیں۔ بار گال کے مطابق کورونا وائرس کی عالمی وبا سے قبل یہ تعداد چار ہزار سے قریب تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ ان میں سے کسی کو معلوم نہیں کہ آیا ان کے یہودی رشتہ داروں میں سے کوئی اس کچی آبادی میں رہا ہو۔ لیکن پناہ گزینوں کی نسلوں میں سے بہت سے لوگوں نے تیلانکیاؤ کا دورہ کیا ہے۔ یہ لوگ شاید کسی دوسری صورت میں پیدا ہی نہ ہو پاتے۔

عالمی وبا سے قبل بار گال یہودی سیاحوں کو یہاں بتایا کرتے تھے کہ کیسے ان کے آبا ؤ اجداد ان خستہ حال عمارتوں میں رہتے تھے۔ وہ اس تجربے کو یاد کرتے ہیں کیونکہ گذشتہ سال وبا کے پھیلاؤ کے باعث انھوں نے شنگھائی چھوڑ دیا تھا اور اپنے دورے معطل کر دیے تھے۔

تاہم اس کے باوجود اس یہودی کچی آبادی کی کہانی شنگھائی جیووش ریفیوجیز میوزیم میں مل جاتی ہے۔ یہ اوہل موشے سیناگوگ میں واقع ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران یہ یہودی عبادت گاہ لوگوں کے میل جول کا ذریعہ بنتی تھی۔

پھر 2007 میں اسے میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا تھا اور اسے گذشتہ دسمبر میں تعمیر نو کے بعد دوبارہ کھولا گیا تھا۔ اس کی ویب سائٹ کے مطابق اس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ کیسے شنگھائی یہودیوں کے لیے ‘نوح کی جدید کشتی’ بنا تھا۔

عبادت خانے کا ہال میوزیم کے داخلی دروازے کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور اس کے استعمال میں آنے کے بعد سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

میوزیم کی نمائشی اور تحقیقاتی محکمہ کی ڈائریکٹر صوفیہ تیان کے مطابق، نمائشوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تیلانکیاؤ کی یہودی برادری کی تشکیل کے ساتھ ہی یہودی پناہ گزینوں کی گہری ذاتی کہانیاں بھی سامنے آئیں۔

میں خاص طور پر ڈاکٹر جیکب روزن فیلڈ کی کہانی سے متاثر ہوئی۔ یہ یہودی مہاجر 1939 میں آسٹریا سے شنگھائی آیا تھا اور اس کے بعد اس نے حملہ آور جاپانیوں کے خلاف جنگ میں چینی فوج میں شمولیت اختیار کی تھی، اس نے فیلڈ ڈاکٹر کی حیثیت سے کام کیا اور متعدد زخمی چینی فوجیوں کی جان بچائی۔

چین کے متعدد فوجی تمغوں سے نوازا جانے کے بعد، روزن فیلڈ 1949 میں اپنے اہل خانہ کے پاس واپس آسٹریا چلا گیا تھا۔ ایک اور نمائش میں جیری موسیز کی جذباتی یادوں کو پیش کیا گیا جو صرف چھ سال کا تھا جب وہ اور اس کا کنبہ 1941 میں جرمنی سے شنگھائی فرار ہو کر آیا تھا۔

یہودی، شنگھائی

،تصویر کا ذریعہullstein bild/Getty Images

موسز کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ ‘اگر [شنگھائی کے عوام] اتنے روادار نہ ہوتے تو ہماری زندگی دکھی ہوتی۔ اگر یورپ میں کوئی یہودی فرار ہوتا ہے تو اسے روپوش رہنا پڑتا ہے ، اور یہاں شنگھائی میں ہم ناچ سکتے ، عبادت اور کاروبار کر سکتے ہیں۔”

میوزیم تیلانکیاؤ کے تاریخی یہودی مقامات اور نقشہوں والے تفصیلی کتابچے فراہم کر کے یہودیوں کی بستیوں کے آزادانہ دوروں کی بھی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ ان کتابچوں میں انگریزی میں تصفیل درج ہوتی ہے۔ اس کی گلیوں میں گھومتے ہوئے مجھے یہ تصور کرنے کی اجازت ملی کہ 80 سال قبل جب جاپانی فوجیوں نے شنگھائی پر حملہ کیا تھا تو تلانکیاؤ نے کیسا دکھتا ہوگا۔

اس دورے کے دوران پہلا ڈھانچہ جو میرے راستے میں آئی تھی وہ قدیم تلاکیاؤ جیل تھی۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران، جاپانیوں نے اس جیل کی پتھر کی موٹی دیواروں کے پیچھے درجنوں یہودی پناہ گزینوں اور اختلاف رائے رکھنے والے چینیوں کو نظر بند کر دیا تھا۔ جاپانیوں کی بربریت نے یہودیوں اور چینیوں کو ایک مشترکہ دشمن اور تجربہ دیا تھا۔ تیان کے بقول ، یہ تعلق آج بھی مصبوط ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہودی برادری نے شنگھائی کے مقامی باشندوں کے ساتھ تعاون اور پیار کا ایک خاص رشتہ قائم کیا تھا۔ وہ یوروپی ثقافت کو شنگھائی لائے اور مقامی باشندوں کے ساتھ ہم آہنگی اور ثقافتی طور پر مربوط رہے۔’

اس کے بعد چنگیانگ روڈ پر، میں ایک سابقہ یہودی پناہگاہ کے پاس سے گزرا۔ اب یہاں زیادہ تر اپارٹمنٹس ہیں، یہ سات کثیر منزلہ عمارتوں میں 1940 کی دہائی کے اوائل میں تین ہزار سے زیادہ یہودی آباد تھے۔

ہووشن اور ژوشان شاہراؤں کا قریبی اور ساتھ کا علاقہ کبھی لٹل ویانا کے نام سے جانا جاتا تھا اور یہ تلانکیاؤ یہودی محلے کا خوشحال حصہ تھا۔

1930 کی دہائی کے آخر میں یہ سڑکیں شنگھائی کی یہودی برادری کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی تھیں اور یہودی کاروبار اور سابق براڈوے تھیٹر کے اوپر واقع ماسکوٹ روف گارڈن میں باقاعدہ سماجی تقریبات کا گڑھ ہوا کرتی تھیں۔

ڈیکو آرٹ کی یہ خوبصورت عمارت، جہاں اب ایک چھوٹا سے ہوٹل ہے دوسری جنگ عظیم سے قبل شہر کے یہودیوں کے لیے خوشی کا باعث ہوا کرتی تھی۔

شنگھائی کی یہودی برادری میں جذبے کو برقرار رکھنے کے لیے اس طرح کے کام ضروری تھے، کیونکہ ان میں سے بیشتر افراد کے اہل خانہ تب بھی یورپ میں خطرے میں تھے۔

ایک ایسے وقت میں جب پوری دنیا کے کاروباری افراد یہاں آ رہے تھے ، ایسے میں ماہی گیری کرنے والے ایک گاؤں سے شنگھائی دنیا کا پانچواں بڑا شہر بن گیا تھا۔ تلانکیاؤ نے یہودی پناہ گزینوں کو دولت یا عیش و آرام کی پیش کش نہیں کی تھی بلکہ اس سے کہیں زیادہ قیمتی چیز حفاظت فراہم کی تھی۔

آج بھی آٹھ دہائیاں گزرنے کے بعد دنیا یہاں بقا کی ان کہانیوں کو گونجتا سن رہی ہے جو یہاں رونما ہوئی تھی۔ اور اگر آپ سٹار آف ڈیوڈ تلاش کرتے ایک مقدس عبادت گاہ میں قدم رکھیں جو آج بھی موجود ہے تو آپ یہ متاثر کن کہانی جان سکتے ہیں کہ کس طرح چین نے خوفزدہ یہودیوں کو پناہ دی جن کے پاس کوئی حققوق نہیں تھے اور نہ ہی ان گھر واپسی کی کوئی امید۔

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.