بدھ14؍شوال المکرم 1442ھ26؍مئی 2021ء

ٹائٹینک کے زندہ بچ جانے والے چھ ’گمنام‘ مسافروں کی کہانی

ٹائٹینک کے زندہ بچ جانے والے چھ ’گمنام‘ مسافروں کی کہانی

  • ژاؤیِن فینگ اور یِٹسِنگ وانگ
  • بی بی سی ورلڈ سروس

لِنگ ہی، فینگ لینگ اور آہ لیم

،تصویر کا ذریعہLP Films

،تصویر کا کیپشن

لِنگ ہی، فینگ لینگ اور آہ لیم زندہ بچ جانے والوں میں شامل تھے

تمام جدید سہولتوں سے آراستہ برطانوی مسافر بردار بحری جہاز ٹائٹینِک جب اپریل 1912 میں بحرِ اوقیانوس میں غرق ہو رہا تھا تو اس پر سوار ہزاروں افراد جہاز پر سے ٹھنڈے برفیلے پانی میں گر رہے تھے۔

اس ڈوبتے جہاز کی صرف ایک لائف بوٹ سمندر میں ڈوبنے سے ممکنہ طور پر بچ جانے والوں کی تلاش میں واپس آئی تھی۔ مدد کے لیے آنے والوں کو سخت اندھیرے میں ایک چینی نوجوان لکڑی کے ایک دروازے سے چمٹا ہوا نظر آیا جو سردی سے ٹھٹھر رہا تھا مگر زندہ تھا۔

یہ فینگ لینگ تھا، ٹائی ٹینک کے چھ بچ جانے والے چینی مسافروں میں سے ایک۔ ان کے بچ جانے کا منظر 1997 میں ہالی وڈ کی بلاک بسٹر فلم ٹائی ٹینک میں بھی دکھایا گیا ہے۔ مگر ان چینی مسافروں کی بقا ان کی مصیبتوں کا خاتمہ ہرگز نہ تھا۔

نیو یارک کے ایلِس آئی لینڈ پر پہنچنے کے 24 گھنٹے کے اندر ہی انھیں متنازع چائنیز ایکسپلشن ایکٹ کے تحت ملک بدر کر دیا گیا۔ اس قانون کے تحت امریکہ میں چینیوں کے ترک وطن کر کے آنے پر پابندی تھی۔

اس کے بعد یہ چھ چینی تاریخ کے اوراق سے گم ہو گئے۔ تاہم حال ہی میں ایک چینی دستاویزی فلم ’دا سِکس‘ میں اس حادثے کے 109 برس بعد ان کی زندگیوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

فلم میں ٹائٹینک سے ہٹ کر بھی موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے، مثلاً نسلی امتیاز اور تارکین وطن مخالف پالیسی جس کی باز گشت حال ہی میں امریکہ میں ایشیائی نژاد امریکیوں کے ساتھ روا رکھی جانے والی بد سلوکی میں سنائی دیتی ہے۔

زندہ بچ جانے والے چھ چینی مسافر کون تھے؟

ان کی شناخت لی بِنگ، فینگ لینگ، چینگ چِپ، آہ لیم، چنگ فو اور لِنگ ہی کے ناموں سے ہوئی۔ باور کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ ملاح یا جہاز راں تھے اور جزائرِ غرب الہند جانا چاہتے تھے۔

برطانوی فلم ساز اور ’دا سِکس‘ کے ڈائریکٹر آرتھر جونز کہتے ہیں کہ ’ان لوگوں کے بارے میں اجتماعی طور پر زیادہ معلومات موجود نہیں ہیں۔‘

ٹائٹینک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

بد قسمت ٹائٹینک 1912 میں سمندر میں ڈوب گیا تھا

ان زندہ بچ جانے والے چینیوں کے نام ٹائٹینک پر سفر کرنے والوں کی فہرست میں موجود تھے، اور اس بحری جہاز کے بارے میں اخبارات میں شائع ہونے والے مضامین میں ان کا ذکر ملتا ہے۔

مگر تاریخ دانوں اور محققین کے مطابق اس حادثے میں بچ جانے والے دوسرے مسافروں کے مقابلے میں، جنھیں میڈیا میں خوب جگہ ملی اور انھیں سراہا گیا، مغرب میں چین مخالف جذبات کی وجہ سے ان چینی مسافروں کی تذلیل کی گئی۔

مثال کے طور دا بروکلین ڈیلی ایگل میں اس حادثے کے بعد شائع ایک رپورٹ میں ان لوگوں کو ایک ایسی ’مخلوق‘ کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے جو ’خطرے کی پہلی علامت‘ کے ساتھ ہی لائف بوٹس میں نشستوں کے نیچے چھپ گئی تھی۔

مگر دستاویزی فلم بنانے والے کی تحقیق بتاتی ہے کہ یہ دعوٰی جھوٹا تھا۔

ٹیم نے ٹائٹینک پر موجود لائف بوٹ کی ایک نقل تیار کی اور دیکھا کہ اس میں ان چینیوں کے لیے کسی کی نظر میں آئے بغیر چھپنا ناممکن ہے۔ آرتھر جونز کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال میں ہم آج بھی وہ ہی چیز دیکھ رہے ہیں۔ پریس تارکین وطن کو قربانی کا بکرا بنا رہا ہے۔‘

میڈیا میں آنے والی دوسری خبروں کے مطابق ان چینی افراد نے عورتوں کا لباس پہن لیا تھا تاکہ انھیں دوسروں پر ترجیح مل سکے۔

ٹکٹ

،تصویر کا ذریعہLP Films

،تصویر کا کیپشن

ایک ہی ٹکٹ پر آٹھ چینی مسافروں کے نام، ان میں سے چھ کو بچا لیا گیا تھا

ٹائٹینِک کے مورخ ٹِم مالٹِن کہتے ہیں کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ان زندہ بچ جانے والے چینی مسافروں نے بھیس بدلا تھا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ سب کہانیاں پریس اور لوگوں نے اس واقعہ کے بعد گھڑی ہیں۔‘

مالٹِن کہتے ہیں کہ ان چینی مسافروں نے تو زندہ بچ جانے والے دوسرے مسافروں کی مدد کی تھی۔ فینگ لینگ، جو سمندر میں ایک لکڑی کے دروازے سے چپکے ہوئے تھے اور تیرتے ہوئے لائف بوٹ کی طرف گئے تھے، نے سب کو محفوظ مقام کی طرف لے جانے میں مدد دی تھی۔

حادثے کے بعد ان کے ساتھ کیا ہوا؟

امریکہ میں داخل ہونے کی اجازت نہ ملنے کے بعد ان چھ افراد کو کیوبا بھیج دیا گیا تھا، وہاں سے وہ جلد ہی برطانیہ آ گئے جہاں پہلی جنگ عظیم کے دوران برطانوی ملاحوں کی فوج میں بھرتی کی وجہ سے جہاز رانوں کی کمی ہو گئی تھی۔

چینگ چِپ حادثے کی بد نصیب رات کے بعد مسلسل بیمار ہوتے چلے گئے اور آخر کار 1914 میں نمونیا کا شکار ہونے کے بعد انتقال کر گئے۔ انھیں لندن کے ایک قبرستان میں بغیر کتبے والی ایک قبر میں دفنا دیا گیا تھا۔

دوسروں نے 1920 تک ایک ساتھ برطانیہ میں کام کیا۔ اس وقت ملک جنگ کی وجہ سے شدید مالی بحران سے گزر رہا تھا اور تارکین وطن کے خلاف جذبات عروج پر تھے۔

آرتھر جونز (بائیں سے دوسرے)

،تصویر کا کیپشن

آرتھر جونز (بائیں سے دوسرے) کی سرکردگی میں ایک ٹیم نے بچ جانے والے اُن چھ چینی مسافروں کی اولاد کا پتا لگانے کی کوشش کی۔

ان میں سے کچھ چینیوں نے برطانوی عورتوں سے شادی رچا لی تھی اور یہاں ان کی اولادیں بھی پیدا ہوئیں۔ مگر تارکین وطن مخالف پالیسی کی وجہ سے انھیں بغیر پیشگی اطلاع کے یہ ملک اور اپنے پیاروں کو چھوڑ کر جانا پڑا۔

جونز کہتے ہیں کہ ’اس میں ان کا کوئی قصور نہیں تھا۔ ایسے تمام خاندان سیاست کی بھینٹ چڑھ گئے تھے جس پر ان کا کوئی اختیار نہیں تھا۔‘

آہ لینگ کو ہانگ کانگ بدر کر دیا گیا تھا جبکہ لِنگ ہی ایک دُخانی جہاز پر کلکتے کے لیے سوار کر دیے گئے۔

لی بِنگ کینیڈا چلے گئے جبکہ فینگ لینگ برطانیہ اور ہانگ کانگ کے درمیان جہاز رانی کرتے رہے اور آخر کار اسی ملک کی شہریت حاصل کر لی جس نے کبھی انھیں دھتکار دیا تھی ۔۔۔ یعنی امریکہ۔

فینگ لینگ کے بیٹے ٹوم فونگ ٹائٹینک غرق ہونے کے تقریباً نصف صدی بعد وِسکونسن میں پیدا ہوئے۔

انھیں ’کبھی نا ڈوبنے والے‘ جہاز پر اپنے والد کے تجربات کا برسوں تک علم نہ ہو سکا۔ ٹائٹینک بنانے والوں کا دعوٰی تھا کہ یہ جہاز کبھی نہیں ڈوبے گا۔

فونگ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’انھوں نے اس بارے میں کسی سے کبھی کوئی بات نہیں کی۔ کم سے کم مجھ سے یا میری ماں سے کبھی ذکر نہیں کیا۔‘

فینگ کا انتقال 90 برس کی عمر میں 1985 میں ہوا۔ فونگ کو اپنے والد کے مرنے کے 20 برس بعد ایک رشتہ دار کی زبانی علم ہوا کہ وہ جہاز رانی کی تاریخ کے اس بڑے حادثے میں زندہ بچ گئے تھے۔

ٹوم فونگ

،تصویر کا کیپشن

ٹوم فونگ کو اپنے والد کے تجربات کا کوئی علم نہیں ہے

فونگ کا خیال ہے کہ ان کے والد نے ٹائٹینک میں بچ رہنے کے بارے میں شاید اس لیے انھیں نہیں بتایا کہ وہ اس حادثے سے پہنچنے والے صدمے اور اس کے نتیجے میں اٹھائی گئی ذلت کو راز میں رکھنا چاہتے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ان لوگوں کے کشتی میں چھپنے اور عورتوں کا بھیس بدلنے کے بارے میں ان دنوں بہت کچھ کہا گیا تھا۔ اس طرح کی بہت سی کہانیاں گردش میں تھیں۔‘

جب تحقیقاتی ٹیم ان لوگوں کے لواحقین کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہوئی تو ان میں سے بہت سے ایک صدی پہلے اپنے خاندان والوں کو ملنے والی رسوائی کی وجہ سے اس بارے میں بات کرنے سے کترا رہے تھے۔

وِسکونسن میں پرورش پانے والے فونگ نے کئی ایسے واقعات دیکھے ہیں جب ان کے والد کو نسل پرستی کے خلاف باقاعدہ لڑنا پڑا تھا، بلکہ ایک بار تو انھوں نے گالم گلوچ کے جواب میں ایک شخص کو مُکّا بھی مار دیا تھا۔

اپریل 1912 میں جب اس حادثے کی خبر نیو یارک پہنچی تو لوگ اخبار کے دفتر کے باہر آویزاں نشریے دیکھنے کے لیے اکٹھا ہونے لگے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

اپریل 1912 میں جب اس حادثے کی خبر نیو یارک پہنچی تو لوگ اخبارات کے دفاتر کے باہر آویزاں نشریے دیکھنے کے لیے اکٹھا ہو گئے۔

فونگ کا کہنا ہے کہ ان کے والد ’اس وقت تک شریف آدمی تھے جب تک انھیں یہ احساس نہ ہو جاتا کہ انھیں نسلی تعصب کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘

ان زندہ بچ جانے والے چھ چینی افراد کو جس نسلی منافرت کا سامنا کرنا پڑا تھا آج ایک سو سے بھی زیادہ برس بعد بھی عالم گیر وبا کے دنوں میں ایشیائی نژاد افراد کو اسی طرح کی نسل پرستی کی بازگزشت سنائی دے رہی ہے۔

صرف امریکہ میں ہی حالیہ چند ماہ کے دوران ہزاروں ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن میں لوگوں پر تھوکا گیا، ان سے بد کلامی کی گئی یا ان پر حملے کیے گئے۔

فونگ نے اپنے خاندان کی کہانی اس لیے سنائی تاکہ لوگوں کو ٹائٹینک کے حادثے میں زندہ بچ جانے والے ان چھ چینی مسافروں کے بارے میں حقائق کا علم ہو سکے اور وہ آج رونما ہونے والے واقعات کا اس دور میں روا رکھے گئے رویوں سے موازنہ کر سکیں۔

فونگ کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ تاریخ کے بارے میں نہیں جانتے تو وہ خود کو دہراتی ہے۔‘

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.