بدھ14؍شوال المکرم 1442ھ26؍مئی 2021ء

محمد عباس آسٹریلیا کیخلاف کونسا سنگ میل عبور کرنے کے خواہشمند؟

ٹیسٹ فاسٹ بولر محمد عباس کا کہنا ہے کہ وہ آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے بھرپور تیاری کر رہے ہیں، آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کھیلنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا ٹارگٹ ہے کہ وہ اگر آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کھیلتے ہیں تو اپنے ٹیسٹ کیرئیر کی 100 وکٹیں مکمل کریں اور ایسی پرفارمنس دیں کہ پاکستان ٹیم آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف جیتے۔

ٹیسٹ فاسٹ بولر محمد عباس 25 ٹیسٹ میچز میں  90 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں، انہیں وکٹوں کی سنچری مکمل کرنے کے لیے 10 وکٹوں کی ضرورت ہے۔

محمد عباس نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا جیسی بڑی ٹیم کے دورہ پاکستان کے لیے پرجوش ہوں، آسٹریلیا کا مقابلہ کرنے کے لیے گزشتہ ماہ سے ٹریننگ شروع کر دی ہے، اس وقت ریڈ بال کے تمام کرکٹرز بڑی محنت کر رہے ہیں اور پریکٹس میں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اچھی بات یہ ہے کہ آسٹریلوی بورڈ، کھلاڑیوں اور میڈیا کی جانب سے اچھے پیغامات آ رہے ہیں، امید ہے کہ آسٹریلوی فل اسٹرنتھ ٹیم آئے گی اور اچھی کرکٹ ہو گی۔

فاسٹ بولر نے کہا کہ ٹیسٹ کھیلنے والی تمام ٹیمیں تگڑی ہیں، اب آسٹریلیا کی ٹیم پاکستان آ رہی ہے تو ہم نے اس لحاظ سے تیاری کرنی ہے، آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں اپنی ہوم کنڈیشنز کا فائدہ اٹھائیں گے، ہم نے اپنی کنڈیشنز میں نہ کھیلنے کے لیے دس برس قربانی دی ہے ہم اپنے ملک سے باہر کھیلتے رہے ہیں، لیکن پرفارم بھی اچھا کیا، دس برس میں بیرون ملک کھیلنے کے دوران کارکردگی سب کے سامنے ہے۔

کاؤنٹی کرکٹ میں ہیمپشائرکی نمائندگی کرتے ہوئے محمد عباس نے مڈل سیکس کےخلاف میچ میں9 وکٹیں حاصل کی تھیں جس میں پہلی اننگز کے دوران ان کی ہیٹ ٹرک بھی شامل تھی۔

محمد عباس نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی کرکٹرز کو آئی سی سی ایوارڈز ملنا بہت بڑی بات ہے، پلئیر آف دی ایئر، ٹی ٹوئنٹی پلئیر آف دی ایئر، ون ڈے پلئیر آف دی ایئر، آئی سی سی ٹیموں میں کھلاڑیوں کا شامل ہونا اور بابر اعظم کا کپتان بننا قابل فخر لمحات ہیں، میں بھی 2018 میں آئی سی سی ٹیسٹ ٹیم کا حصہ بنا، لیکن اس مرتبہ خوشی کچھ زیادہ ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے تین میچز کھیلا ہوں، دو میں مین آف دی میچ رہا ہوں، آخری میچ میں بھی مین آف دی میچ رہا ہوں، اب پی ایس ایل کا حصہ نہیں ہوں، لیکن جو بھی کرکٹ ملے انجوائے کرتا ہوں، جیسے اب میں پی ایس ایل نہیں کھیل رہا تو میں ٹیسٹ فارمیٹ کے لیے تیاری کر رہا ہوں تاکہ جب آسٹریلیا کے خلاف کھیلوں تو تیاری اچھی ہو اور اچھا پرفارم کروں۔

بشکریہ جنگ
You might also like

Comments are closed.