ہفتہ10؍شوال المکرم 1442ھ 22؍ مئی 2021ء

لڑکیاں اگر خود جسم نہیں ڈھانپیں گی تو سکول کر دے گا: امریکی سکول میں طالبات کی تصویروں پر بحث

لڑکیاں اگر خود جسم نہیں ڈھانپیں گی تو سکول کر دے گا: امریکی سکول میں طالبات کی تصویروں پر بحث

تصاویر

،تصویر کا ذریعہCOURTESY OF FAMILY

فلوریڈا کے ایک ہائی سکول کو شدید تنقید کا سامنا ہے کہ اس نے اپنے سالانہ میگزین میں 80 لڑکیوں کی تصاویر میں تبدیلیاں کر کے ان کے سینے اور کندھے کو ڈھانپنے کی کوشش کی ہے۔

منتظمین نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ تصاویر میں تبدیلیاں اس لیے کی گئی تھیں کہ لڑکیوں کا لباس سکول کے طلبا کے لباس کے بارے میں قواعد کے مطابق نظر آئے۔ سکول میں خواتین کے لباس کے قواعد کے مطابق ان کی لباس کو ‘اخلاقی’ ہونا چاہیے۔

لیکن نقادوں کا کہنا ہے کہ اس سالانہ میگزین میں لڑکوں کے تصاویر میں کوئی ترامیم نہیں کی گئی حالانکہ ان کے لباس کا معیار بھی سکول کے قواعد کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

طلبا کا کہنا ہے کہ تصاویر میں ڈیجیٹل تبدیلیاں ان کی اجازت کے بنا کی گئی ہیں۔

سینٹ جانز کوئنٹی سکول ڈسٹرکٹ کا کہنا ہے کہ بارٹرام ٹریل ہائی سکول کے سالانہ میگزین میں طالبات کی تصاویر میں تبدیلی کا فیصلہ جریدے کی خاتون کو آرڈینیٹر نے یہ دیکھ کر کیا کہ یہ لباس سکول کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بارٹرام ٹریل سکول کی ویب سائٹ پر ایک پیغام کے ذریعے طلبا کو متنبہ کیا گیا ہے کہ سکول کے ڈریس کوڈ سے مطابقت نہ رکھنے کے باعث ان کی سالانہ میگزین کی تصاویر کو ڈیجیٹل طور پر بدلا کیا جاسکتا ہے۔

تاہم چند طلبا نے تصاویر میں تبدیلیوں کو پریشان کن قرار دیتے ہوئے سکول پر صنف کی بنیاد پر امتیاز برتنے کا الزام لگایا ہے۔

بارٹرام ٹریل سکول کی ایک 15 سالہ طالبہ ریلی او کیفی نے مقامی نیوز ادارے ڈبلیو جیکس کو بتایا کہ ‘سکول کی سالانہ جریدے کے لیے لڑکوں اور لڑکیوں کی تصاویر میں دہرے معیار کو اپنایا گیا ہے، انھوں نے ہمارے جسم کا کچھ حصہ دیکھا اور یہ سوچ لیا کہ جسم کا تھوڑا سے دکھاوا جنسی ہے۔ لیکن انھیں لڑکوں کی تیراکی کے لباس میں تصاویر یا دیگر کھیلوں کے لباس میں تصاویر سے کوئی مسئلہ نہیں اور یہ واقعتاً مایوس کن اور پریشان کرنے والی بات ہے۔‘

سکول طلبا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سکول کی جانب سے ڈبلیو جیکس نیوز کو دیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ سکول کی پہلی پالیسی یہ تھی کہ جو تصاویر سکول کے ڈریس کوڈ سے مطابقت نہیں رکھتیں انھیں سالانہ میگزین سے نکال دیا جاتا تھا، اس برس انھیں ڈیجیٹل طور پر اس لیے تبدیل کیا گیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تمام طلبا کی تصاویر کو شامل کیا گیا ہے۔

جیکسن ویل کے قریب 2500 طلبا والے اس سرکاری سکول نے تنقید کے بعد کہا ہے کہ وہ تصاویر میں تبدیلیوں سے پریشان ہونے والے والدین کو سالانہ جریدے کی قیمت میں سے سو ڈالر واپس ادا کرے گا۔

سکول کے قواعد و ضوابط میں کہا گیا ہے کہ لڑکیوں کا لباس ‘لازمی طور پر ان کے کندھوں کو ڈھانپتا ہو’ اور لازمی طور پر اخلاقی ہو اور اس میں جسم کا کوئی حصہ دکھائی نہ دیتا ہو۔’ سکول میں غیر ضروری یا زیادہ میک اپ کر کے آنے کی اجازت نہیں ہے اور سکول میں ‘انتہائی ہیر سٹائلز’ بنا کر آنے کی اجازت بھی نہیں ہے۔’

ڈسٹرکٹ انتظامیہ کے مطابق سکولوں میں لڑکیوں کے ڈریس کوڈ سے متعلق قواعد پر عملدرآمد مخلتف سکولوں میں مختلف ہیں۔ بارٹرام ٹریل سکول کے ان اصولوں کے اطلاق سے اس سال کے شروع میں بھی اس وقت تنازعہ کھڑا ہوا تھا جب 31 طلبا کو ایک ہی دن میں ڈریس کوڈ کی خلاف ورزی پر سزا ہوئی تھی۔

پندرہ، 16 سال کی متعدد طالبات نے کہا ہے کہ اس وقت انھیں اساتذہ اور دیگر طلبہ کے سامنے اپنے سویٹر اور جیکٹس کو کھولنے کا کہا گیا تھا تاکہ وہ اس کے نیچے اپنی براز اور ٹینک ٹاپس دکھائیں۔

اس کے جواب میں، طالب علم ریلی نے ایک آن لائن پٹیشن تیار کی جس میں ڈریس کوڈ میں تبدیلی کی درخواست کی گئی تھی۔ اس درخواست میں اس کا کہنا ہے کہ ’یہ ڈریس کوڈ واضح طور پر نوجوان خواتین کو صرف سیکس کے نقطہ نظر سے دیکھتا ہے۔‘

سکولو ں میں لڑکیوں کے ڈریس کوڈ کو ایک بار پھر شہہ سرخیوں میں لاتے ہوئے اس آن لائن پٹیشن پر اب 5000 سے زیادہ افراد نے دستخط کیے ہیں۔ امریکہ میں سکولوں میں لڑکیوں کے ڈریس کوڈ حالیہ برسوں میں تنقید کی زد میں رہے ہیں، ان کے حوالے سے کچھ کا کہنا ہے کہ یہ ایک طرح سے نوجوان لڑکیوں اور خواتین کو باڈی شیم کرتے ہیں۔

سنہ 2018 میں واشنگٹن، ڈی سی میں نیشنل ویمن لاء سینٹر کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ سیاہ فام لڑکیوں اور طالب علموں کو غیر ضروری طور نشانہ بنایا گیا تھا۔

طالبہ ریلی کی والدہ سٹیفنی فبرے نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘اس مسئلہ نے اس طرف توجہ مبذول کروائی جو کبھی مسئلہ تھا ہی نہیں۔’ ان کا کہنا تھا کہ ‘کسی نے بھی اس میگزین کو یا ان تصاویر کو اس طرح نہیں دیکھنا تھا یا اس نے بارے میں ایسا سوچنا تھا ماسوائے اس کے کہ یہ نویں جماعت کے بچوں کی خوبصورت تصاویر ہیں۔’

‘تصاویر میں ان تبدیلیوں نے ان میں سے کچھ لڑکیوں کے لیے جذباتی تناؤ اور تمسخر کی صورتحال پیدا کر دی کیونکہ ان کی تصاویر کو بہت ہی برے طریقے سے فوٹو شاپ کیا گیا تھا اور ان کی تصاویر کو میمز کے طور پر اور سنیپ چیٹ پر پھیلایا جا رہا ہے جو کہ بہت ہی افسوسناک ہے۔’

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس لڑکیوں میں سے چند کے خاندان سکول سے معافی کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ اصل تصاویر کے ساتھ میگزین دوبارہ شائع کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

لیکن تمام والدین ان قواعد کے خلاف نہیں ہیں۔ بارٹرام ٹریل میں پڑھنے والی ایک اور طالبہ کی والدہ ریچل نے ڈبلیو جیکس نیوز کو بتایا کہ وہ تصاویر میں ان تبدیلیوں کے حق میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ‘اگر گھر میں والدین بچیوں کو نہیں بتائیں گے کہ کیسا لباس پہننا ہے اور اخلاقی لباس کیا ہے تو سکول کو بتانا پڑے گا۔’

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.