عالمی بینک نے پاکستان کی معاشی صورتحال پر اپ ڈیٹ رپورٹ جاری کردی ہے، رپورٹ میں اسٹرکچرل چیلنجز کو پائیدار معاشی ترقی کیلئے بڑے خطرات قرار دے دیا۔
ورلڈ بینک کی رپورٹ میں کم سرمایہ کاری، برآمدات اور پیداوار میں کمی کو معاشی بحالی کیلئے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اشیاء کی عالمی قیمتوں میں اضافے اور درآمدات بڑھنے سے مہنگائی میں اضافہ ہوا، موجودہ مالی سال شرح نمو 4.3 فیصد اور اگلے سال 4 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
بینک نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ سال 2024 میں معاشی ترقی کی رفتار 4.2 فیصد ہو جائے گی، پاکستان میں غربت کی شرح میں نسبتاً کمی آئی، سال 2020 میں غربت 37 فیصد جبکہ 2021 میں 34 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق خوراک اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے باعث عوام کی قوت خرید میں کمی متوقع ہے، کورونا سے بحالی پاکستان کی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی معیشت کیلئے میکرو اکنامک خطرات بہت زیادہ ہیں، سیاسی غیر یقینی میکرو اکنامک میں عدم توازن پیدا کر سکتی ہے۔
ورلڈ بینک نے مالی خسارے پر قابو پانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت لچک دار ایکسچینج ریٹ کی پالیسی برقرار رکھے۔
Comments are closed.