
پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے سابق وزرائے اعظم سید یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف اور شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ سندھ ہاؤس میں آج رات پولیس گردی کی گئی تو اس کے ذمے دار وزیرِ اعظم عمران خان اور وزیرِ داخلہ شیخ رشید ہوں گے۔
جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں سابق وزرائے اعظم سید یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف اور شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اسلام آباد انتظامیہ خبردار رہے، سیاسی عمل کا حصہ نہ بنے۔
’’عدم اعتماد میں پولیس و انتظامیہ فریق بنی تو آئین شکنی ہو گی‘‘
مشترکہ بیان میں تینوں سابق وزرائے اعظم نے کہا ہے کہ تحریکِ عدم اعتماد کے آئینی عمل میں پولیس اور انتظامیہ فریق بنی تو یہ آئین شکنی ہو گی۔
انہوں نے کہا ہے کہ آئین شکنی کرنے، ان کی مدد کرنے والوں کو سزا کے لیے تیار رہنا ہو گا، ارکانِ قومی اسمبلی کے خلاف پولیس گردی پارلیمنٹ پر حملہ تصور ہو گا۔
’’پارلیمنٹ لاجز والی حرکت دہرانے کے سنگین نتائج برآمد ہونگے‘‘
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ لاجز والی حرکت سندھ ہاؤس میں دہرائی گئی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
تینوں سابق وزرائے اعظم نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ عمران خان 172 ارکان لا نہیں پا رہے، حکومت پولیس اور انتظامیہ کے ذریعے ارکان کے اغواء کی تیاری کر رہی ہے۔
’’عمران خان اکثریت کا اعتماد کھو چکے‘‘
یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشریف اور شاہد خاقان نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ اوچھے ہتھکنڈے اعلان ہیں کہ عمران خان اکثریت اور ایوان کا اعتماد کھو چکے ہیں۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ آئین، جمہوریت اور پارلیمان پر حملہ کرنے والوں کو کٹہرے میں کھڑا کریں گے، ’’نہیں چھوڑوں گا‘‘ کہنے والے کو سب چھوڑ کر جا رہے ہیں۔
’’ اسپیکر کی خاموشی پارٹی لیڈر کے تابع ہونے کا ثبوت ہے ‘‘
انہوں نے مزید کہا ہے کہ آئین کے راستے پر چلنے والے ارکانِ پارلیمان کے خلاف حملہ دہشت گردی اور لاقانونیت ہو گی۔
سابق وزرائے اعظم سید یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف اور شاہد خاقان عباسی نے مشترکہ بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ پولیس گردی پر اسپیکر کی خاموشی ثبوت ہے کہ وہ آئین کے بجائے پارٹی لیڈر کے تابع ہیں۔
Comments are closed.