جمعرات 8؍ شوال المکرم 1442ھ20؍مئی 2021ء

سرگئی لیوروف کا دورہ پاکستان: کیا تعلقات میں حالیہ گرم جوشی برقرار رہ پائے گی؟

سرگئی لیوروف کا دورہ پاکستان: کیا تعلقات میں حالیہ گرم جوشی برقرار رہ پائے گی؟

  • سارہ عتیق
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

روس پاکستان تعلقات

،تصویر کا ذریعہGetty Images

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لیوروف نے اپنے پاکستان کے دو روزہ دورے کے دوران پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے علاوہ اپنے وفد کے ہمراہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات میں دو طرفہ باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

دونوں ممالک کے وفود کے درمیان مذاکرات کے بعد اپنے روسی ہم منصب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہیں، روس سے دفاع اور انسداد دہشت گردی میں تعاون بڑھانا چاہتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان، روس کے اشتراک سے روس میں بنی کورونا کی سپٹنک ویکسین کی مقامی سطح پر تیاری کے پہلوؤں پر غور کر رہا ہے جبکہ روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ روس نے پاکستان کو ویکسین کی پچاس ہزار خوراکیں مہیا کی ہیں اور مزید ایک لاکھ پچاس ہزار خوراکیں فراہم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور روس کورونا ویکسین کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

اس کے علاوہ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان علاقائی سکیورٹی کے معاملات جن میں افغان امن عمل اور پاکستان انڈیا تعلقات میں کشیدگی میں کمی جیسے موضوع زیر بحث آئے۔

یہ بھی پڑھیے

قریشی

،تصویر کا ذریعہ@SMQureshiPTI

پاکستان اور روس کے تعلقات کی تاریخ

روس کے وزیر خارجہ کا نو برس بعد پاکستان کا دورہ کرنا اس لیے بھی خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کی تاریخ بہت طویل ہے۔

پاکستان کے قیام کے بعد 1949 میں روس نے پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو روس آنے کی دعوت دی تھی لیکن تاریخوں پر اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے یہ دورہ اس وقت ممکن نہیں ہو سکا تھا اور پاکستان کے وزیراعظم اس سے اگلے برس مئی 1950 میں امریکہ کے دورے پر چلے گئے تھے۔

اس کے بعد روس نے سرد جنگ میں پاکستان کو امریکی کیمپ کا حصہ مانتے ہوئے کسی قسم کے تعلقات نہ رکھنے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ اسی دوران انڈیا اور روس کے تعلقات مضبوط ہوتے رہے۔

امریکہ اور روس کے درمیان سرد جنگ کے دوران جہاں انڈیا اپنے آپ کو غیر جانبدار رکھنے کے لیے ’نان الائنمنٹ موومنٹ‘ یعنی غیر جانب دار ملکوں کی تحریک کا حصہ بن گیا وہیں پاکستان روس کے اثرو رسوخ اور کمیونزم کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بنے سیٹو (1954) اور سینٹو (1955) جیسے اتحاد کا حصہ بن کر باضابطہ طور پر امریکی اتحادی بن گیا۔

پاکستان اور روس کے تعلقات میں مزید گشیدگی اس وقت آئی جب پاکستان نے اپنی فوجی اڈے امریکہ کو فراہم کیے تاکہ وہ روس کی جاسوسی کر سکے اور 1960 میں پشاور سے آڑنے والا امریکی جاسوس طیارہ یو-ٹو کو روس نے نہ صرف مار گرایا بلکہ اس وقت کے روسی وزیر اعظم نیکیتا کروشیو نے پشاور کو میزائلوں سے تباہ کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔

جنگی مشقیں

،تصویر کا ذریعہAFP

1962 کی چین انڈیا جنگ کے نتیجے میں جب امریکہ اور انڈیا کے درمیان تعلقات استوار ہونے لگے تو پاکستان نے بھی روس کے ساتھ اپنے تعلقات میں بہتری لاتے ہوئے تیل کی تجارت کا معاہدہ کیا اور اپریل 1965 میں پاکستان کے صدر ایوب خان نے روس کا دورہ کیا اور شاید یہی وجہ تھی کہ بعد میں 1965 کی پاکستان انڈیا جنگ کے دوران روس نے ثالث کا کردار ادا کیا اور معاہدہ تاشقند کے ذریعے جنگ کا اختتام ممکن ہوا۔

لیکن روس اور پاکستان کے تعلقات میں گرم جوشی زیادہ دیر برقرار نہ رہ پائی اور 1971 کی پاکستان انڈیا جنگ میں روس نے انڈیا کا نہ صرف کھل کر ساتھ دیا بلکہ اس کے ساتھ 20 سالہ دوستانہ معاہدہ بھی کیا جو دونوں ممالک کو مزید قریب لے آیا اور روس کی جانب سے انڈیا کو دفاعی ہتھیاروں کی فراہمی میں بھی اضافہ ہوا۔

وہیں پاکستان نے بھی ایک بار پھر امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کرتے ہوئے چین اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور یہ پاکستان ہی کی سفارتی کوشش تھیں جس سے 1972 میں امریکی صدر رچرڈ نِکسن کا دورائے چین ممکن ہو پایا تھا۔

لیکن ذوالفقار علی بھٹو نے جن کی اس وقت کی پالیسیاں سوشلزم سے متاثر تھیں، ایک بار پھر روس کے طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے پہلے 1972 اور پھر 1974 میں روس کا دورہ کیا اور اسی دوران پاکستان امریکہ کے بنائے ہوئے تمام اتحادوں سے بھی دستبردار ہو گیا۔

اس بار بھی پاکستان روس تعلقات میں گرم جوشی پائیدار ثابت نہیں ہوئی اور جب 1979 میں روس نے افغانستان پر حملہ کیا تو پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دیتے ہوئے افغان طالبان کو روس کے خلاف کھل کر مدد فراہم کی اور پاکستان اور روس کے تعلقات میں آنے والے کشیدگی نہ صرف سوویت یونین کے ٹوٹنے تک بلکہ اس کے بعد بھی برقرار رہی۔

روس پاکستان تعلقات میں کشیدگی کی اہم وجہ نہ صرف پاکستان کی طالبان کی حمایت تھی بلکہ نوے کی دہائی میں روس نے متعدد بار پاکستان پر چیچن جنگجؤں کو سپورٹ کرنے کا الزام بھی عائد کیا جسے پاکستان مسترد کرتا آیا ہے۔

2001 کی دوسری افغان جنگ کے نتیجے میں پاکستان نے طالبان کی حمایت ختم کرتے ہوئے امریکہ کا ساتھ دیا تب بھی پاکستان روس تعلقات میں زیادہ بدلاؤ نہیں آیا البتہ 2007 میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک اہم موڑ تب آیا جب اپریل 2007 میں روس کے وزیر اعظم پاکستان کے دورے پر آئے۔ یہ کسی بھی روسی وزیراعظم کا پاکستان کا پہلا دورہ تھا۔

اس کے جواب میں 2011 میں اس وقت کے پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے روس کا دورہ کیا اور اپنے روسی ہم منصب ولا دیمیر پوتن کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی جو انھوں نے قبول کر لی۔

روسی ہیلی کاپٹر

،تصویر کا ذریعہAFP

تاہم صدر پوتن کا اکتوبر 2012 میں پاکستان کا ہونے والا دورہ نامعلوم وجوہات کی بنا پر منسوخ کر دیا گیا تاہم پاکستان روس کے تعلقات میں آہستہ آہستہ بہتری آتی رہی اور دونوں ممالک کے درمیان چند دفاعی معاہدے بھی ہوئے جن میں روس کی جانب سے پاکستان کو 20 ایم آئی 35 ہیلی کاپٹر اور روسی ساختہ جے ایف 17 طیاروں کے انجنوں کی فراہمی شامل ہے۔

کیا روس پاکستان تعلقات میں حالیہ گرم جوشی برقرار رہے گی؟

روس اور پاکستان کے سفارتی تعلقات میں بہتری زیادہ دیر برقرار نہ رہنے کی ایک طویل تاریخ ہے تو کیا تعلقات میں حالیہ استحکام دیرپا ثابت ہوگا؟

امریکہ کی جارج میسن یونیورسٹی میں بین الااقوامی تعلقات کے پروفیسر احسن بٹ کا کہنا ہے کہ ’روس اور پاکستان کے آج کے تعلقات کو سرد جنگ کے زاویے سے دیکھنا درست نہیں، کیوںکہ تب اور اب کے حالات میں بڑی تبدیلی آ چکی ہے۔ اور اب پاکستان یا روس صرف اس لیے قریب نہیں آ رہے کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات پہلے جیسے نہیں رہے بلکہ تعلقات میں بہتری کی یہ بھی وجہ ہے کہ اب دونوں کے مفادات بہت حد تک ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔‘

احسن بٹ کا کہنا ہے کہ ’روس پاکستان تعلقات میں بہتری کی اہم وجہ افغان امن عمل ہے اور روس سمیت متعدد مغربی ممالک پاکستان کو اس لیے اس میں اہم فریق مانتے ہیں کیونکہ پاکستان کا طالبان پر کچھ نہ کچھ اثرو رسوخ آج بھی قائم ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’روس یہ وجہ جانتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس عمل میں روس کے موقف کو بھی سنا جائے اور اس کے لیے پاکستان سے بہتر کوئی ملک نہیں۔‘

اسلام آباد کی ائیر یونیورسٹی میں شعبہ ایرو سپیس اینڈ سٹریٹیجک سٹڈیز کے سربراہ ڈاکٹر عادل سلطان کا کہنا ہے کہ ’روس اور پاکستان افغان امن عمل سے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے زیادہ مخلص ہیں کیونکہ ان کی سکیورٹی اس سے براہ راست جڑی ہے۔‘

ڈاکٹر عادل سلطان کے مطابق ’اگر افغان امن عمل ناکام ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں ایک بار پھر خانہ جنگی ہو جاتی ہے تو اس کا اثر خطے کے ممالک، پاکستان اور روس کی سکیورٹی پر پڑے گا، اس لیے دونوں اس عمل کی کامیابی کے لیے زیادہ متحرک اور مخلص ہیں۔‘

احسن بٹ کے مطابق پاکستان اور روس کے تعلقات میں حالیہ بہتری سے ایسی غیر حقیقی امیدیں وابسطہ نہیں رکھنی چاہییں کہ یہ تعلقات فوراً روس اور انڈیا تعلقات کی سطح پر پہنچ جائیں گے اور نہ ہی پاکستان کو ایک بڑی عالمی طاقت سے تعلقات بہتر ہونے کی صورت میں باقی طاقتوں سے اپنے تعلقات کو ختم کر دینا چاہیے۔

احسن بٹ کہتے ہیں کہ آج کل کے دور میں کسی ملک کہ جتنی بھی عالمی طاقتوں سے تعلقات بہتر ہوں اتنا اچھا ہے۔

روس پاکستان تعلقات

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وہ کہتے ہیں ’آج انڈیا کو روس، امریکہ، برطانیہ اور فرانس جیسے تمام بڑے ممالک کی حمایت حاصل ہے جبکہ پاکستان کو اس وقت صرف چین کی حمایت حاصل ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان نہ صرف روس بلکہ امریکہ سے بھی اپنے تعلقات برقرار رکھے۔

جبکہ ڈاکٹر عادل کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ’ہمارے ساتھ یا ہمارے خلاف‘ والا رویہ ہرگز اختیار نہیں کرنا چاہیے اور انڈیا روس تعلقات سے بالاتر ہو کر روس کے ساتھ اپنے تعلقات قائم کرنے چاہییں۔

ڈاکٹر عادل کے مطابق اس وقت دنیا معاشی مفادات کی طرف زیادہ توجہ دے رہی ہے اور یہ یہی چین اور امریکہ کی معاشی کشیدگی میں بھی دیکھا گیا ہے لہذا روس اور پاکستان بھی اپنے معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے نئے اتحاد کی طرف دیکھ رہے ہیں اور پاکستان اور روس ایک دوسرے سے معاشی طور پر بھی استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر عادل کا کہنا ہے کہ بس اب ضرورت اس عمل کی ہے کہ پاکستان اپنی ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرائے اور کسی ایک عالمی طاقت کے کیمپ کا مستقل حصہ نہ بنے بلکہ تمام بڑے ممالک جیسا کہ امریکہ، چین حتیٰ کہ انڈیا کہ ساتھ بھی پر امن تعلقات قائم کرنے پر توجہ دے۔

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.