کولمبیا میں سابق گوریلا جنگجو گسٹاوو پیٹرو ملک کے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ بائیں بازو کے نظریات رکھنے والا کوئی سیاستدان ملک کا سربراہ بنا ہے۔
پیٹرو نے روڈلفو ہرنانڈز کو تنخابات میں شکست دی، وہ جولائی میں اپنا دفتر سنبھالیں گے۔
اتوار کی رات کو گسٹاوو پیٹرو کی انتخابی جیت کا اعلان ہوا، پیٹرو نے اپنی تقریر میں کہا کہ ملکی مسائل کا حل نکالنے کے لیے تمام اپوزیشن اراکین کا صدارتی محل میں استقبال کیا جائے گا۔
رخصت ہونے والے صدر ایوان ڈیوک نے انتخابی نتائج کا اعلان ہونے کے بعد پیٹرو کو مبارک باد دی۔
صدارتی انتخابات میں پیچھے رہ جانے والے روڈلفو ہرنانڈز نے اپنی انتخابی شکست کو تسلیم کیا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ شہریوں کی اکثریت نے دوسرے امیدوار کو چُنا ہے، میں ان نتائج کو تسلیم کرتا ہوں۔
امریکی سیکرٹری خارجہ اینٹونی بلنکن نے کولمبیا کی عوام کو صاف اور شفاف صدارتی انتخابات میں اپنی آواز بلند کرنے پر مبارک باد دی۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں مضبوطی اور اپنی اقوام کو بہتر مستقبل کی جانب گامزن کرنے کے لیے ہم منتخب صدر پیٹرو کے ساتھ کام کریں گے۔
واضح رہے کہ گسٹاوو پیٹرو 80 کی دہائی میں باغی گروپ کا حصہ تھے، بعد ازاں وہ سیاست میں آئے اور سینیٹر منتخب ہوئے، وہ ملک کے دارالحکومت بوگوٹا کے میئر بھی رہ چکے ہیں۔
Comments are closed.