بدھ14؍شوال المکرم 1442ھ26؍مئی 2021ء

خیبر پختونخوا میں دہشتگردی اور بھتہ خوری عروج پر

خیبر پختون خوا کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی اور بھتہ خوری عروج پر پہنچ گئی، وادیٔ سوات کا حسن گہنانے لگا۔

سوات میں دوبارہ بے امنی، شہر میں دہشت گردی کے پے در پے واقعات نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا۔

بے گناہ شہریوں پر حملوں اور امن و امان کی خراب صورتِ حال کے باعث شہری خوف و ہراس میں مبتلا ہو گئے، بڑے ہوں یا بچے، سب گھر سے باہر نکلنے سے ڈرنے لگے۔

صوبۂ خیبر پختون خوا کے مالا کنڈ ڈیویژن کے ضلع سوات میں اسکول وین پر فائرنگ ہوئی ہے جس کے نتیجے میں ڈرائیور جاں بحق ہو گیا۔

چند روز قبل چار باغ میں اسکول وین پر حملے میں وین ڈرائیور قتل اور 2 بچے زخمی ہوئے تھے۔

واقعے کے خلاف لوگوں نے سڑک پر لاش رکھ کر دھرنا دیا، مینگورہ میں بے امنی پر لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔

مظاہرے میں سول سوسائٹی کے افراد، وکلاء، طلباء، سیاسی کارکنوں اور مختلف مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی، جنہوں نے سفید جھنڈے بھی لہرائے۔

مظاہرین سے ایمل ولی، منظور پشتین، افراسیاب خٹک، سینیٹر مشتاق احمد اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ 2010ء نہیں ہے۔

سیاسی رہنہماؤں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم اپنا شہر، اپنا وطن نہیں چھوڑیں گے، ہمیں امن چاہیے، امن کے سوا کچھ نہیں چاہیے۔

بشکریہ جنگ
You might also like

Comments are closed.