منگل 20؍محرم الحرام 1445ھ 8؍اگست 2023ء

خواہش ہے پاکستان میں مزید خواتین کوہ پیمائی کی جانب آئیں، نائلہ کیانی

پاکستان کی کامیاب ترین خاتون کوہ پیما نائلہ کیانی کی خواہش ہے کہ پاکستان میں مزید خواتین کوہ پیمائی کی جانب آئیں، دنیا کی 14 میں سے 8 بلند ترین چوٹیاں سر کرنے والی نائلہ کہتی ہیں کہ دنیا کی کوئی ایسی رکاوٹ نہیں جس کو عبور نہیں کیا جاسکتا۔ 

نائلہ کیانی حال ہی میں نانگا پربت اور براڈ پیک سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون کوہ پیما بنی تھیں، انہوں نے پاکستان میں موجود تمام پانچ اور نیپال کی تین آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیاں سر کرلی ہیں اور وہ یہ کارنامہ انجام دینے والی پہلی پاکستانی خاتون ہیں۔

جیو نیوز سے خصوصی گفتگو میں نائلہ نے کہا کہ انہوں نے ارادہ بناکر کوہ پیمائی کا آغاز نہیں کیا، یہ سفر اس وقت شروع ہوا جب وہ ٹریکنگ کیلئے کے ٹو بیس کیمپ گئی تھیں تو وہاں دیگر کوہ پیماؤں کو دیکھا۔ 

نائلہ نے کہا کہ ان میں یہ جستجو تھی کہ وہ اس احساس کو سمجھیں جو ایک کوہ پیما کو پہاڑ سر کرتے وقت ہوتا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ ’’جب پہلی بار گیشربرم سر کرنے گئی تو معلوم بھی نہیں تھا کہ سمٹ ہوپائے گا یا نہیں لیکن کامیابی ملی اور پھر سلسلہ شروع ہوگیا۔ 8 ہزار میٹر سے بلند آٹھ چوٹیاں سر کرلینا اعزاز کی بات ہے، کبھی کبھی تو یقین ہی نہیں آتا کہ یہ سب کیسے شروع ہوا اور کیسے یہ سب کچھ حاصل کرلیا۔‘‘

نائلہ کیانی بتایا کہ ان کی دو بیٹیاں ہیں ایک کی عمر دو سال اور ایک کی عمر چار سال ہے، ان کو چھوڑ کر آنا بہت مشکل ہوتا ہے لیکن جب پہاڑ پر کوئی بھی دشواری ہوتی ہے تو بیٹیوں کا سوچ کر ان کو حوصلہ ملتا ہے۔ 

خاتون کوہ پیما کی خواہش ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنی  بیٹیوں اور ساتھ ساتھ دیگر خواتین کیلئے یہ مثال قائم کریں کہ دنیا میں کوئی کام ناممکن نہیں اور ہر رکاوٹ کو عبور کیا جاسکتا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ ’’میرا پیغام یہی ہے کہ اپنے اہداف ہمیشہ ذہن میں رکھیں اور ہمیشہ بلند اہداف کا عزم رکھیں اور حوصلہ کبھی نہ ہاریں‘‘

نائلہ چاہتی ہیں کہ پاکستان میں دیگر خواتین بھی کوہ پیمائی کی جانب آئیں مگر ان کو شکوہ ہے کہ پاکستان میں کوہ پیماؤں کو سپورٹ نہیں ملتی نہ ہی ماونٹینئرنگ کا مناسب انفرااسٹرکچر ہے۔

ان کا کہنا ہے تھا کہ اگر ریسکیو سسٹم اور دیگر انفرااسٹرکچر کو بہتر کیا جائے تو پاکستان میں اور بھی کوہ پیما ترقی حاصل کریں گے۔ 

 نائلہ کیانی کا کہنا تھا کہ آٹھ چوٹیاں سر کرنے کے بعد ان کی نظریں  باقی چھ چوٹیوں پر ہیں، ان کی کوشش ہوگی کہ جلد از جلد جتنی زیادہ چوٹیاں سر کرسکتی ہیں سر کرلیں کیوں کہ بیٹیوں کو چھوڑ کر پہاڑ سر کرنے نکلنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔

ایک سوال پر نائلہ کیانی نے کہا کہ انسان جب پہاڑ سر کرتا ہے اور چوٹی کے ٹاپ پر ہوتا ہے تو وہ نظارہ الفاظ میں بیان نہیں ہوسکتا۔ 

نائلہ کیانی نے کہا کہ آٹھ چوٹیاں سر کرنے کے بعد بھی اکثر لوگ حوصلہ شکن تنقید کرتے ہیں، لیکن ان کی کوشش ہوتی ہے کہ تنقید کے نشتر سے اپنے جذبات زخمی کرنے کی بجائے ان کو اپنی حوصلہ افزائی کا ذریعہ بناؤں۔

ایک سوال پر پاکستان کی ٹاپ کلائمبر نے کہا کہ نانگا پربت سر کرنا ان کی سب سے دشوار اور سب سے یادگار کلائمب تھی کیوں کہ اس میں وہ دیگر کوہ پیماؤں سے کافی تیز رہیں اور محسوس کیا کہ ان کے اسکلز میں کافی بہتری آچکی ہے۔

بشکریہ جنگ
You might also like

Comments are closed.