وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی قرار داد پر ووٹنگ کے لیے منعقدہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں افطار اور نماز مغرب کا وقفہ کردیا گیا، اجلاس اب ساڑھے 7 بجے شروع ہوگا۔
قومی اسمبلی کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو اس کی صدارت پینل آف چیئر امجد نیازی نے کی۔
اس سے قبل اجلاس دوبارہ شروع ہوتے ہی شاہ محمود قریشی نے اپنی بقایا تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آپ غلامی کا طوق پہننا چاہتے ہیں، ہم کسی جارحیت کے حق میں نہیں، ہم بین لااقوامی قوانین پر یقین رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے اس پالیسی کا جنرل اسمبلی میں مظاہرہ کیا، ہم نے کہا کہ ہم امن میں کردار ادا کریں گے، تنازعات میں نہیں۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ امریکا سے بہتر کون جانتا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کی وجہ سے کتنی قربانی دی، ہمارے یوکرین کے ساتھ اچھے تعلقات تھے اور ہیں ۔
ان کا کہنا ہے کہ میں نے یوکرین کے وزیرِ خارجہ سے بات کی، کسی سے بگاڑنا ہمارا مفاد نہیں ہے، امریکا چاہتا ہے کہ ہم انہیں ہرمعاملے پر سپورٹ کریں جو امریکا کے لیے اہم ہے، کیا مسئلہ کشمیر مسئلہ نہیں؟
شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ہم امریکا کو کہتے ہیں مسئلہ کشمیر میں کردار ادا کریں تو کہتے ہیں ’’نو‘‘، امریکا کہتا ہے یہ دو طرفہ معاملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات کرنا الیکشن کمیشن کی ذمے داری ہے، آپ اس سے غفلت نہیں کر سکتے، اگر عدم اعتماد نہیں آتی اور اسمبلی تحلیل ہو جاتی تو کیا الیکشن کمیشن 90 روز میں الیکشن نہ کراتا، آئینی ذمے داری ہے، قوم تقاضہ کرتی ہے کہ آپ آئینی ذمے داری سے غفلت نہیں برتیں گے، عوامی لیڈر عوام سے رجوع کرتا ہے، آپ نے گھبرانا نہیں ہے، 27 مارچ کو پریڈ گراؤنڈ میں لاکھوں کا مجمع آیا۔
شاہ محمود نے کہا کہ دفترِ خارجہ نے اسلام آباد میں اور واشنگٹن میں ڈی مارش کیا، پارلیمنٹ کی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا، اپوزیشن کو پارلیمانی سلامتی کمیٹی میں مدعو کیا گیا، ڈپٹی اسپیکر نے ووٹنگ سے انکار نہیں کیا تھا، ہارس ٹریڈنگ کا ماحول پیدا کیا گیا، وفاداریاں بدلنے کی کوشش کی گئی، ضمیر فروشی کا بازار لگا سب نے دیکھا۔
ان کا کہنا ہے کہ آئین کے تحفظ کی قسم اٹھانے والی قوتیں نہیں دیکھ رہی ہیں کہ وفاداریاں تبدیل کی جا رہی ہیں، سینیٹ میں ارکان خریدنے کی ویڈیو الیکشن کمیشن میں پیش کی، ایک سال ہو گیا، فیصلہ محفوظ ہے، انصاف نہیں ملا، حکومت کی درپردہ تبدیلی کی کوششیں کی جا رہی ہیں، ایک وقت آئے گا کہ تاریخ یہ ناٹک رچانے والوں کو بے نقاب کرے گی۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیرِ اعظم نے کہا کہ فیصلہ کرنا ہے کہ بحیثیت قوم کیسے چلنا ہے، غلامی سے یا خود داری سے، آج شاید ایوان میں میرا آخری دن ہے، وزیرِ اعظم نے روس کے دورے کا فیصلہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کیا، پاکستان چھوٹا صحیح، مگر خود مختار ملک ہے، حنا بی بی آپ غلامی کا طوق چاہتی ہیں ہم نہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنرل اسمبلی میں ہمارے مندوب نے پاکستان کا نقطۂ نظر پیش کیا، یوکرین سے پاکستان کے اچھے تعلقات تھے اور ہیں، یوکرین سے تمام پاکستانیوں کو ہم واپس لے کر آئے، بلاول نے کہا تھا کہ پاکستانیوں کو یوکرین سے کون واپس لائے گا میں نے کہا ہم لائیں گے، سینیٹ انتخابات میں خرید و فروخت کے ثبوتوں کے باوجود ایک سال سے فیصلہ نہیں آیا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپوزیشن لیڈر شہباز شریف چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹوزرداری کی نشست پر آئے جس کے بعد دونوں ممبران کے درمیان مشاورت ہوئی۔
بلاول بھٹو زرداری سے مشاورت کے بعد شہباز شریف ایوان سے باہر چلے گئے۔
شاہ محمود قریشی کے بعد قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اظہارِ خیال کیا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ جنابِ اسپیکر آپ ناصرف توہینِ عدالت کر رہے ہیں بلکہ آئین شکنی بھی کر رہے ہیں، اسپیکر صاحب! آپ ان کے جرائم میں شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آپ توہینِ عدالت کرتے ہوئے نا اہل ہو جائیں گے، عدالت کا حکم ہے کہ آپ کو آج ووٹنگ کرانا ہے، مگر آپ کا کپتان بھاگتے بھاگتے آئین شکنی کر رہا ہے۔
چیئرمین پی پی پی نے نام لیے بغیر شاہ محمود قریشی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم کو پہلے ہی آگاہ کیا تھا کہ یہ جو شخص ابھی تقریر کر رہا تھا یہ آپ کو پھنسائے گا۔
آج ساڑھے 10 بجے شروع ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اسپیکر اسد قیصر نے ساڑھے 12 بجے تک وقفہ کیا تھا، مقررہ وقت گزرنے کے بعد نمازِ ظہر کے بعد اجلاس شروع کرنے کا کہا گیا تاہم اجلاس نماز کے بعد بھی شروع نہیں ہو سکا تھا۔
’جیو نیوز‘ کے سینئر تجزیہ کار حامد میر نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس کے سلسلے میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں جن میں شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن رہنماؤں کو اسپیکر اسد قیصر کے حوالے سے گارنٹی دیتے ہوئے تقاریر کے دوران ہنگامہ آرائی نہ کرنے اور افطاری کے بعد رات 8 بجے تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
حامد میر کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے چیمبر میں ہوئے ہیں۔
اجلاس دوبارہ شروع ہونے میں تاخیر پر اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے اپوزیشن پارلیمانی رہنماؤں نے مشاورت کی ہے۔
مشاورتی اجلاس اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں ہوا جس میں اسعد محمود، اختر مینگل، خالد مگسی، شاہ زین بگٹی، محسن داوڑ، شاہدہ اختر علی اور دیگر رہنما شریک ہوئے۔
اجلاس میں قومی اسمبلی کے اجلاس سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا اور ایوان میں حکومتی حکمتِ عملی سے متعلق بھی بات چیت کی گئی۔
اس دوران سابق صدر، پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری بھی اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے چیمبر پہنچ گئے ۔
اس موقع پر دونوں رہنماؤں کے درمیان ووٹنگ کے لیے حکومت کے تاخیری ہتھکنڈوں پر بات چیت ہوئی۔
آج صبح قومی اسمبلی کے اجلاس کا آغاز تلاوتِ قرآن مجید و ترجمے سے کیا گیا، جس کے بعد نعتِ رسول ﷺ اور قومی ترانہ پڑھا گیا۔
اجلاس کی ابتداء میں رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر شازیہ کی والدہ کے انتقال پر فاتحہ خوانی کی گئی۔
تحریکِ عدم اعتماد کی قرار داد قومی اسمبلی کے آج کے 6 نکاتی ایجنڈے کے اجلاس میں چوتھے نمبر پر ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن کے 176 اور 19 پی ٹی آئی منحرف ارکان سمیت کُل 195 حکومت مخالف ارکان موجود ہیں۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت کے 51 ارکان موجود ہیں۔
فاتحہ خوانی کے بعد اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ دیا، اس حکم کے تابع اسپیکر کارروائی چلائیں۔
انہوں نے کہا کہ ایوان آئینی و قانونی طریقے سے سلیکٹڈ کو آج شکستِ فاش دینے جا رہا ہے، عدالتی حکم کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے۔
شہباز شریف کے اظہارِ خیال کے دوران حکومتی ارکان نے شور شرابہ کیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ جو عدالت کا فیصلہ ہے اس پر من و عن عمل کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق ایوان چلائیں گا، عدالتی حکم پر اس کی روح کے مطابق عمل ہو گا۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ حکومت ہٹانے سے متعلق غیرملکی سازش پر بھی بحث ہو گی۔
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی جانب سے بین الاقوامی سازش کے ذکر پر بھی شور شرابہ ہوا۔
اسپیکر نے شاہ محمود قریشی کو شہباز شریف کی بات کا جواب دینے کی ہدایت کی۔
جس کے بعد شاہ محمود قریشی نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ قائدِ حزبِ اختلاف نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا، تسلیم کرتا ہوں کہ عدم اعتماد کی آئین میں گنجائش موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک کو پیش کرنا اپوزیشن کا حق ہے، اس کا دفاع کرنا میرا فرض ہے، ہم آئینی جمہوری انداز سے عدم اعتماد کی تحریک کا دفاع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 12 اکتوبر کو ایک آئین شکنی ہوئی، عدلیہ کے سامنے کیس گیا تو ناصرف وضاحت تلاش کی گئی، بلکہ آئین میں ترمیم کی اجازت بھی دی گئی، مولانا فضل الرحمٰن نے بیان دیا کہ نظریۂ ضرورت کا فیصلہ قبول نہیں کریں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ آج ہم سب نظریۂ ضرورت کا سہارا لینے کے لیے تیار نہیں، وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ مایوس ہوں لیکن اعلیٰ عدلیہ کا احترام کروں گا، عدلیہ نے کہا کہ ساڑھے 10 بجے اجلاس بلایا جائے گا، عدلیہ نے کہا کہ اجلاس جاری رہے گا اور ملتوی نہیں ہو گا جب تک عمل مکمل نہیں ہو جاتا۔
اس موقع پر اپوزیشن ارکان نے ’’ووٹنگ کراؤ، ووٹنگ کراؤ‘‘ کے نعرے لگائے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عدلیہ کے فیصلے کی نظر میں آج 3 اپریل ہے، اتوار کو دفاتر کھولے گئے، اجلاس منعقد ہوا، کارروائی کا آغاز ہوا، عدالت نے فیصلے میں متفقہ طور پر رولنگ کو مسترد کیا،اپوزیشن 4 سال سے نئے انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اس بحران سے نکلنے کے لیے عوام کے پاس چلتے ہیں، عدلیہ کے فیصلے کو تسلیم کر لیا، عدلیہ کے پاس ہمارے دوست کیوں گئے، از خود نوٹس کیوں لیا گیا، اس کا ایک پس منظر ہے۔
شاہ محمود قریشی نے یہ بھی کہا کہ قاسم سوری نے آئینی عمل سے انکار نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ ایک نئی صورتِ حال آئی ہے، بیرونی سازش کی بات ہو رہی ہے اس لیے اجلاس کا غیر معینہ مدت تک ملتوی ہونا ضروری ہے، نیشل سیکیورٹی کا اعلیٰ ترین فورم ہے۔
شاہ محمود قریشی کے خطاب کے بعد اسپیکر اسد قیصر نے ساڑھے 12 بجے تک قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا۔
اجلاس ملتوی کیے جانے پر اپوزیشن ارکان شہباز شریف کی سربراہی میں اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے جنہوں نے اسپیکر سے تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کا مطالبہ کیا، حکومتی ارکان بھی اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے۔
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ساڑھے 12 بجے تک وقفہ کیا تھا، مقررہ وقت سے آدھے گھنٹے کی تاخیر کے باوجود اجلاس شروع نہ ہو سکا۔
اپوزیشن ارکان بینچوں پر موجود ہیں، اپوزیشن ارکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کورم پورا رکھنے کے لیے اپنی نشستوں پر رہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے ملاقات کرنے اسپیکر چیمبر پہنچ گئے۔
بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ راجہ پرویز اشرف اور نوید قمر سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
اس موقع پر چیئرمین پی پی پی نے اسپیکر اسد قیصر سے کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ میں تاخیر نہ کرائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ ووٹنگ نہ کرانا سپریم کورٹ کی حکم عدولی ہو گی، عدالتی فیصلے پر عمل درآمد اسپیکر کی ذمے داری ہے۔
بلاول بھٹوزرداری نے یہ بھی کہا کہ عدالت کے فیصلے کے مطابق ووٹنگ آج ہی ہونا ہے۔
اسپیکر اسد قیصر نے چیئرمین پیپلز پارٹی سے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر اجلاس بلایا گیا ہے، جو بھی کروں گا قواعد و ضوابط اور عدالتی فیصلے کی روشنی میں کروں گا۔
اجلاس سے قبل اپوزیشن ارکان اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر پہنچ گئے جہاں انہوں نے اسپیکر اسد قیصر سے ملاقات کی۔
اسپیکر سے مذاکرات کے لیےآنے والے اپوزیشن ارکان کے وفد میں مولانا اسعد محمود، سعد رفیق، ایازصادق، رانا ثناء اللّٰہ، محسن داوڑ، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ ، نوید قمر اور دیگر شامل ہیں۔
اپوزیشن ارکان نے ملاقات کے دوران اسپیکر اسد قیصر سے سپریم کورٹ کے آرڈر اور اسمبلی کے قواعد پر بات کی۔
اپوزیشن کے وفد نے واضح کیا کہ عدالتی حکم اور اسمبلی قواعد کی رو سے کوئی ایجنڈا لیا نہیں جا سکتا، تحریکِ عدم اعتماد پارلیمانی، جمہوری اور آئینی اقدام ہے۔
اپوزیشن وفد نے یہ بھی کہا کہ تحریکِ عدم اعتماد سے روگردانی کر کے بچا نہیں جا سکتا، کوئی اور چیز زیرِ بحث لائی گئی تو یہ توہینِ عدالت اور آئین کے منافی ہو گا۔
قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف میاں شہباز شریف کی زیرِ صدارت اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی لیڈران کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا اسعد، ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی اور دیگر نے شرکت کی۔
اپوزیشن پارٹیوں کے پارلیمانی اجلاس میں 176 ارکانِ قومی اسمبلی شریک ہوئے۔
اجلاس میں آج تحریکِ عدم اعتماد کے حوالے سے قومی اسمبلی کے اجلاس کے بارے میں حکمتِ عملی طے کی گئی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تحریکِ عدم اعتماد آئینی و جمہوری حق ہے، اس کے لیے آج ہونے والی ووٹنگ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
عدم اعتماد کی قرار داد سے نمٹنے کے لیے حکومت نے بھی حکمتِ عملی تیار کر لی۔
اس سے قبل سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کے صاحبزادے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری پارلیمنٹ پہنچ گئے۔
بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے ملنے ان کے چیمبر میں پہنچ گئے۔
منحرف ارکانِ اسمبلی بھی پارلیمنٹ پہنچ گئے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری ہمشیرہ آصفہ بھٹو زرداری بھی پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئیں۔
پارلیمنٹ پہنچنے والے مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا ہے کہ آئین اور سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق آج ووٹ ہونا ہے، آج تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹ ہونا آئین کا تقاضہ ہے۔
وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کا طریقہ کار سامنے آگیا جس کے مطابق:
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہر صورت آج ہو گی۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ حکام کا کہنا ہے کہ خط کے معاملے پر ایوان میں بحث نہیں کی جا سکتی، اسپیکر قومی اسمبلی کوئی اور ایجنڈا نہیں لے سکتے۔
حکام کے مطابق آج ووٹنگ نہ کرانے پر اسپیکر کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کے موقع پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق اسلام آباد کا ریڈ زون مکمل طور پر سِیل کر دیا گیا ہے، پارلیمنٹ جانے کے لیے صرف مارگلہ روڈ کا راستہ کھلا ہے۔
ریڈ زون کے اطراف کسی ریلی، احتجاج یا جشن کے لیے لوگوں کو اکٹھے ہونے کی اجازت نہیں ہے۔
جناح ایونیو پر چائنہ چوک، ایمبیسی روڈ سے راستے سِیل کر دیے گئے ہیں۔
جناح ایونیو پر چائنہ چوک، ایمبیسی روڈ سے پیدل جانے والوں کے داخلے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔
اسلام آباد پولیس و رینجرز اور پنجاب پولیس و رینجرز کی نفری ریڈ زون کے اندر اور اطراف تعینات کی گئی ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس، پی ایم سیکریٹریٹ اور سپریم کورٹ کے اطراف اسپیشل برانچ اور پولیس کے سادہ لباس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ جمعرات 7 اپریل کو سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کو بحال کر دیا، تمام وزیر اپنے عہدوں پر بحال ہو گئے۔
چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال نے پانچ صفر سے متفقہ فیصلہ سنا دیا۔
سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر کی 3 اپریل کی رولنگ آئین کے خلاف قرار دے کر کالعدم کر دی، وزیرِ اعظم عمران خان کی اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس بھی مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ وزیرِ اعظم آئین کے پابند تھے، وہ صدر کو اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس نہیں کر سکتے تھے، قومی اسمبلی بحال ہے، تمام وزیر اپنے عہدوں پر بحال ہیں، اسپیکر کا فرض ہے کہ اجلاس بلائے۔
عدالتِ عظمیٰ نے اسپیکر کو قومی اسمبلی کا اجلاس فوری بلانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ 9 اپریل کو صبح 10 بجے سے پہلے پہلے تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کرائی جائے۔
سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کے دوران کسی رکنِ قومی اسمبلی کو ووٹ کاسٹ کرنے سے روکا نہیں جائے، تحریکِ عدم اعتماد کا عمل مکمل ہونے تک اجلاس مؤخر نہیں کیا جا سکتا۔
Comments are closed.