بدھ14؍شوال المکرم 1442ھ26؍مئی 2021ء

اسلام آباد لڑکا لڑکی تشدد کیس، مرکزی ملزم سمیت 5 کو عمر قید

اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون لڑکا لڑکی تشدد کیس میں مرکزی ملزم عثمان مرزا سمیت 5 مجرمان کو عمر قید کی سزا کا حکم دے دیا گیا ہے۔

ایڈیشنل سیشن کورٹ اسلام آباد میں لڑکا لڑکی تشدد کیس کی سماعت ہوئی ، پولیس نے عثمان مرزا سمیت تمام ملزمان کو عدالت میں پیش کیا۔

سیشن جج نے ملزم فرحان شاہین سےسوال کیا کہ بتاؤ بھی کیا ہوا تھا، کیا تم موقع پر موجود تھے؟ جج نے ریمارکس دیئے کہ وکیل کو مت دیکھو مجھے بتاؤ وکلاء نے جو کہنا تھا وہ کہہ دیا،ملزم نے جواب دیا کہ میں بےگناہ ہوں اور موقع پر نہیں تھا۔

اسلام آبادکے علاقے سیکٹر ای الیون میں لڑکا ، لڑکی تشدد کیس میں مرکزی ملزم عثمان مرزا اور محب خان کے وکیل نے حتمی دلائل دے دیے۔

جج نے کہا کہ اگر نہیں تھے تو جاؤ، تم نےبات ہی ختم کر دی، عدالت نے پولیس کو حکم دیا کہ ملزم کو واپس لے جائیں۔

اس کے بعد جج نے ملزم محب بنگش سے سوال کیا کہ آپ جائے وقوعہ پر کیا لینے گئے تھے، ملزم نے جواب دیا کہ وقوعہ والے دن میں گھر پر تھا، اس پر جج نے ہدایت کی کہ ملزم کی ویڈیو دکھاؤ، پھر جج نے حکم دیا کہ باقی جو ملزمان رہ گئے ہیں ان کو اکٹھے ہی بلا لو۔

جج نے مرکزی ملزم عثمان مرزا سے سوال کیا کہ کیا مسئلہ تھا ویڈیو کیوں بنائی تھی، ملزم نے جواب دیا کہ کچھ بھی نہیں ،مجھے ویڈیو کا علم ہی نہیں، جج نے ریمارکس دیئے کہ اس کا چہرہ فرنٹ پر کرکےاس کو دکھاؤ ، آپ ان کےچہرے پکڑ کر کیمرے کی طرف کر رہے ہیں۔

لڑکا لڑکی کیس کے مرکزی ملزم عثمان مرزا نے واقعہ کے بعد بھی دونوں کا پیچھا جاری رکھا اور بلیک میل کرکے مختلف اوقات میں لاکھوں روپے بٹورے۔

عثمان مرزا نے کہا کہ یہ وائرل ویڈیو ہمارے مخالفین نے بنائی ان کا کام ہے، جج نے سوال کیا کہ مخالف تو کاروبار میں ہوتے ہیں لیکن ویڈیو کیوں بنائی، اس کے بعد جج نے تمام ملزمان کو حکم دیا کہ آپ نے جانا نہیں ہے، اِدھر عدالت میں ہی بیٹھ جاؤ۔

اس کے بعد عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد مرکزی ملزم عثمان مرزا، عطا الرحمٰن، ادارس قیوم بٹ، محب بنگش اور فرحان شاہین کو عمر قید کی سزا کا حکم سنایا جبکہ دو ملزمان عمر بلال اور ریحان کو بری کر دیا۔

بشکریہ جنگ
You might also like

Comments are closed.