آن لائن سیکس فراڈ اور بھتہ خوری: ’چھ گھنٹے میں میرا بیٹا مر چکا تھا‘
،تصویر کا کیپشنبیٹے کے اس طرح دنیا سے جانے کے بعد سے جارڈن کی والدہ نوجوانوں کے لیے آگاہی پھیلانے کی مہم چلا رہی ہیں

  • مصنف, جو ٹائڈی
  • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • ایک گھنٹہ قبل

جارڈن ڈی مے نامی 17 سالہ نوجوان نے 2022 میں اس وقت اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا جب نائجیریا سے تعلق رکھنے والے دو بھائیوں نے آن لائن جنسی فراڈ کر کے انھیں بھتہ خوری کا نشانہ بنایا۔ اپنے بیٹے کے اس طرح دنیا سے جانے کے بعد سے جارڈن کی والدہ نوجوانوں کے لیے آگاہی پھیلانے کی مہم چلا رہی ہیں۔مشی گن کے کم عمر امریکی شہری جارڈن کو لاگوس سے سموئیل اور سیمسن اوگوشی نامی دو نائجیرین بھائیوں نے پہلے آن لائن ایک نوجوان لڑکی بن کر پھانسا اور پھران کی نازیبا تصاویر سے انھیں بلیک میل کرنے کی کوشش کی جس کے محض چھ گھنٹے بعد ہی جارڈن نے اپنی جان لے لی۔اور تب ہی ان کی والدہ جین بیوٹا نے نوجوانوں کو نائجیریا میں مقیم ایسے جھانسہ دینے والوں سے خبردار کرنے کی ٹھانی اور جارڈن کے نام سے بنائے جانے والے ٹک ٹاک اکاؤنٹ سے آگاہی فراہم کرنا شروع کی۔ جین کی بنائی گئی وڈیوز کو اب تک 10 لاکھ سے زیادہ افراد لائیک کر چکے ہیں۔

نائیجیریا کی پولیس نے بی بی سی نیوز کو بتایا ہے کہ ان کی جانب سے ان جرائم کو سنجیدگی سے نہ لینے کی کوئی بھی تجویز ’مضحکہ خیز‘ ہے۔نوجوان جارڈن کو بلیک میل کرنے والے 20 اور 22 سال کی عمر کے نوجوانوں نے انسٹا گرام پر لڑکی بن کر پہلے جارڈن کو جنسی تصاویر بھیجیں اور پھر انھیں اپنی نازیبا تصاویر شیئر کرنے پر راغب کیا۔ اس کے بعد جارڈن کو دھمکایا گیا کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کی تصاویر انٹرنیٹ پر وائرل نہ ہوں تو ان کو رقم دینا ہو گی۔اور جب جارڈن نے رقم دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا وہ مر جانا پسند کریں گے تو ان سے (لڑکی بن کر بات کرنے والے بلیک میلر) سیمسن اوگوشی نے کہا کہ ’پھر جلدی کر گزرو ورنہ میں ایسا کرنے پر تمھیں مجبور کر دوں گا۔‘امریکہ حوالگی پر دوران تفتیش سیمسن اوگوشی نے جرم قبول کیا اور اب سزا کا انتظار کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہNigeria Police

،تصویر کا کیپشننوجوان جارڈن کو بلیک میل کرنے والے دونوں نوجوانوں نے انسٹا گرام پر لڑکی بن کر پہلے جارڈن کو جنسی تصاویر بھیجیں اور پھر انھیں اپنی نازیبا تصاویر شیئر کرنے پر راغب کیا
’آن لائن سب کچھ ایک طے شدہ سکرپٹ کی طرح ہے‘جین امریکہ کے شمال میں واقع مشی گن کی رہائشی ہیں۔ انھوں نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’جب جارڈن کو انھوں نے بلیک میل کرنا شروع کیا تو اس نے چھ گھنٹے سے بھی کم وقت میں اپنی جان لے لی۔‘’وہاں آن لائن پر اصل میں سب کچھ ایک طے شدہ سکرپٹ کی طرح ہے۔‘نائجیریا کے نیشنل سائبر کرائم سینٹر کے تکنیکی افسران کی برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کے ساتھ رواں ہفتے لندن میں ملاقات طے ہے جس میں سائبر کرائم جیسے جنسی استحصال پر تعاون کو بہتر بنانے کے لیے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔نیشنل کرائم ایجنسی نے پچھلے ماہ بچوں اور سکولوں کو خطرات میں اضافے کے بارے میں ایک انتباہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ بیرون ملک مقیم منظم جرائم پیشہ گروہ طرف سے آن لائن سیکس سے متعلق بھتہ خوری میں کچھ مغربی افریقی ممالک بلکہ جنوب مشرقی ایشیا سے بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔سائبر سیکیورٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ یہ جرائم اکثر نائیجیریا کے ’یاہو بوائز‘ سے منسلک ہوتے ہیں، جس کا نام 2000 کی دہائی کے اوائل میں یاہو ای میلز کے نام پر رکھا گیا تھا۔اور اس سال کے شروع میں، امریکہ کی سائبر کمپنی نیٹ ورک کنٹیجین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے تجزیے نے نائجیریا کے ٹِک ٹاک ، یوٹیوب اور سکربڈ (ڈیجیٹل) اکاؤنٹس کے ذریعے نوجوانوں کو بلیک میل کرنے کے طریقوں کے حوالے سے آگاہ کیا۔سائبر کرائم سینٹر کے ڈائریکٹر اوچے ہینری نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے افسران ’مجرموں کو کٹہرے میں لا کر سختی سے نمٹ رہے ہیں۔‘’وہ لوگ جو نائجیریا کے اقدامات کو کافی نہیں سمجھتے ان پر صرف افسوس کیا جا سکتا ہے۔ حکومت نے ایک جدید ترین سائبر کرائم سینٹر کے قیام پر لاکھوں پاؤنڈ خرچ کر کے ثابت کر دیا ہے کہ وہ جنسی بھتہ خوری سمیت ایسے تمام جرائم کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔‘
،تصویر کا کیپشنسائبر کرائم سینٹر نائجیریا کے ڈائریکٹر اوچے ہینری نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے افسران مجرموں کو کٹہرے میں لا کر سختی سے نمٹ رہے ہیں

جرائم سے نمٹنے کے لیے عالمی حمایت کی ضرورت

اوچے ہینری نے کہا کہ ’ان جرائم کی روک تھام کے لیے مجرموں کو سنگین سزائیں دی جا رہی ہیں۔ بہت سے مقدمے چلائے گئے اور متعدد لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ ان جرائم میں ملوث بہت سے مجرم اب پڑوسی ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔‘جنسی جرائم اور بھتہ خوری کے واقعات میں اب بھی اضافہ ہو رہا ہے اور اس میں نائجیریا کے نوجوانوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ لیکن ان جرائم سے نمٹنے کے لیے صرف نائجیریا ہی نہیں بلکہ عالمی حمایت کی ضرورت ہوگی۔دوسری جانب ڈیجیٹل فوٹ پرنٹس نائیجیریا سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر تومبری سیبے نے کہا، سائبر فراڈ جیسا کہ جنسی بھتہ خوری نوجوان نسل کی بڑی تعداد کو متاثر کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بنیادی محرکات سماجی اور معاشی نوعیت کے ہیں۔’بے روزگاری اور غربت بھی اس کا بڑا سبب ہے۔ یہ ان تمام نوجوانوں کے لیے ایک ایسی سرگرمی کی مانند بن گیا ہے جہاں وہ واقعی بہت زیادہ نہیں سوچتے ہیں اور اس سے جلدی متاثر ہو جاتے ہیں۔‘

،تصویر کا کیپشنجارڈن کی والدہ کا کہنا ہے کہ اس مہم کے ذریعے امریکہ، آسٹریلیا اور برطانیہ میں انھوں نے ان دیگر والدین سے رابطہ کیا جنھوں نے ایسے جرائم کی وجہ سے اپنے بچے کھو دیے تھے

’بھتہ خور کا پروفائل اور پیغامات محفوظ رکھیں‘

دوسری جانب جین جارڈن کے والد کے ہمراہ نوجوانوں کے لیے آگاہی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس مہم کے ذریعے امریکہ، آسٹریلیا اور برطانیہ میں انھوں نے ان دیگر والدین سے رابطہ کیا گیا جنھوں نے ایسے جرائم کی وجہ سے اپنے بچے کھو دیے تھے اور ان کی تسلی اور داد رسی میں مدد کی گئی۔جین نے کہا، ’مجھے ہر وقت پیغامات آتے ہیں اور ایسے والدین کی جانب سے پیغامات موصول ہوتے ہیں جن کے بچے بھی اس صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں اور والدین کی طرف سے یہ پوچھا جاتا ہے کہ انھیں اس صورت حال میں کیا کرنا چاہیے۔‘’کبھی کبھی، وہ مجھے صرف یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ان کے بچے کے ساتھ کیا ہوا ہے اور بعض اوقات وہ کہتے ہیں کہ آپ کا شکریہ کیونکہ انھیں جاردن کی کہانی یاد تھی اور وہ مدد کے لیے میرے پاس آئے۔‘جین اور بہت سی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں جنسی جرائم کرنے والوں کے ذریعے نشانہ بنائے گئے لوگوں کو باقاعدگی سے مشورہ دیتی ہیں جس میں بتایا جاتا ہے کہ:

  • یاد رکھیں کہ آپ اکیلے نہیں ہیں اور یہ آپ کی غلطی نہیں ہے
  • پلیٹ فارم کی حفاظتی خصوصیت کے ذریعے اس جرم کا ارتکاب کرنے والے کے اکاؤنٹ کو رپورٹ کریں
  • مجرم کو رابطہ کرنے سے روکیں
  • پروفائل یا پیغامات کو محفوظ کریں جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مجرم کی شناخت اور روک تھام میں مدد مل سکتی ہے
  • رقم یا مزید تصاویر بھیجنے سے پہلے کسی قابل اعتماد بالغ یا قانون نافذ کرنے والے ادارے سے مدد طلب کریں
  • جنسی بلیک میلر کے ساتھ تعاون بمشکل ہی بھتہ خوری اور تکلیف کو روکتا ہے لیکن یہ کام قانون نافذ کرنے والے بآسانی کر سکتے ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہ

body a {display:none;}