جمعرات 8؍ شوال المکرم 1442ھ20؍مئی 2021ء

’ہم نے آپ سے کہا تھا کہ وہ اسے مار ڈالے گا اور اس نے میری بہن کو مار ڈالا‘

کویت: فرح حمزہ اکبر کا قتل، ’ہم نے آپ سے کہا تھا کہ وہ اسے مار ڈالے گا اور اس نے میری بہن کو مار ڈالا‘

  • سمیہ بخش
  • بی بی سی مانیٹرنگ

مظاہرہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

‘ہم نے آپ سے کہا تھا کہ وہ اسے مار ڈالے گا اور اس نے میری بہن کو مار ڈالا‘ کہاں ہے حکومت؟’ یہ الفاظ کویتی خاتون دانا اکبر کے ہیں جو یہ خبر سن کر چیخ پڑی تھیں۔

اس لمحے کو ویڈیو میں قید کر لیا گیا اور پھر پورے کویت میں اس پر غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔

فرح حمزہ اکبر کو گذشتہ ہفتے کویت میں قتل کر دیا گیا تھا۔ حالانکہ ان کے گھر والوں کی جانب سے حکام سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ انھیں اس شخص سے بچائیں جو انھیں ہراساں کر رہا تھا۔

مبینہ طور پر اس شخص نے انھیں ان کی بیٹی اور بھانجی کے سامنے سے اغوا کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

وزارت داخلہ کے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایک شخص نے فرح اکبر کو ان کی کار سے اٹھا لیا تھا اور انھیں نامعلوم مقام پر لے گیا تھا، پھر انھیں ہسپتال کے باہر چھوڑ دیا گیا جہاں انھیں مردہ قرار دیا گیا۔ وزارت نے بتایا کہ اس کے فورا بعد ہی اس شخص کو گرفتار کر لیا گیا اور اس نے ان کے سینے میں خنجر گھونپنے کا اعتراف کیا ہے۔

اس شخص پر فرسٹ ڈگری قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے جس کے لیے کویت میں موت کی سزا ہے۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@DANAAKBAR

،تصویر کا کیپشن

دانا اکبر نے اپنی بہن کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ہم چپ نہیں رہیں گے

فرح کے اہل خانہ نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ وہ شخص ان کے جاننے والوں میں نہیں تھا لیکن اس سے قبل انھوں نے اس کے خلاف ہراساں کرنے کی اطلاع دی تھی۔

طویل راستہ منتظر ہے

اس واقعے نے کویت میں خواتین کو تشدد اور ہراس کے خلاف زیادہ تحفظ فراہم کرنے کے پہلے سے جاری مطالبہ کو مزید تقویت بخشی ہے۔ رواں سال کے شروع میں خواتین کی طرف سے سوشل میڈیا پر #لن-اسکت (میں خاموش نہیں رہوں گی) کے تحت ہراساں کرنے کے معاملے کو اجاگر کرنے کے لیے مہم چلائی گئی تھی۔ اس مہم میں خواتین کے خلاف بے شمار واقعات بیان کیے گئے تھے۔

پارلیما

،تصویر کا ذریعہGetty Images

حالیہ برسوں میں خاندان کے افراد کے ہاتھوں قتل ہونے والی متعدد خواتین کی خبروں نے بھی خواتین کو محفوظ بنانے کے لیے قانون سازی اور سماجی تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

گذشتہ سال ستمبر میں گھریلو تشدد سے متعلق بنائے جانے والے قانون کو ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس میں خواتین کے لیے پناہ گاہیں قائم کرنے کے منصوبے شامل ہیں اور ظالموں کو متاثرین سے رابطہ کرنے سے روکنے کے احکامات شامل ہیں۔ لیکن ابھی راستہ بہت طویل ہے اور اس کے شواہد بھی ہیں۔

فرح اکبر کے قتل کے بعد خواتین اور مرد قومی اسمبلی کی صاف شفاف سفید عمارت کے قریب ارادہ سکوائر پر جمع ہوئے تھے اور انھوں نے اس قتل کی مذمت کی تھی۔ خیال رہے کہ گذشتہ سال دسمبر میں اس اسمبلی میں تمام مرد رکن پارلمیان منتخب ہو کر آئے تھے۔

واضح رہے کہ وہیں فاطمہ العجمی بھی ایک گارڈ کی حیثیت سے کام کرتی تھیں اور مبینہ طور پر اسی ماہ ان کے بھائی نے ان کا قتل کر دیا تھا۔

نوجوان خاتون کے قتل کے پس پشت تفصیلات سامنے نہیں آئیں کیونکہ اس طرح کے معاملات میں اکثر ایسا ہوتا ہے جب گھر والوں کے ذریعہ ہی خواتین کا قتل کیا جاتا ہے تو ایک قسم کی خاموشی برتی جاتی ہے۔

لیکن جو مرد مبینہ جنسی تعلقات کے الزام میں کسی خاتون رشتے دار کو قتل کرتے ہیں ان کی سزا میں ملک کے تعزیراتی قانون میں ایک ضابطے کی وجہ سے نرمی برتی جاتی ہے۔ بہرحال اس قانون کو ختم کرنے کی برسوں کی کوششوں کے باوجود یہ ابھی بھی برقرارہے۔

کویت

،تصویر کا ذریعہAFP

ان سنی آوازیں

خواتین کے حقوق سے متعلق بات چیت میں جن آوازوں کی ابھی تک نمائندگی کم رہی تھی وہ بھی ورچوئل سپیس میں ابھرنا شروع ہو گئی ہیں اور یہ سوشل میڈیا کی مرہون منت ہیں کیونکہ وہاں اصل کوائف ظاہر کیے بغیر انھیں اپنی بات کہنے کی سہولت موجود ہے۔

کویتی فیمنسٹس تنظیم کو ملک کی بہت حد تک قدامت پسند اور اکثریتی بدو قبائلی برادری کی خواتین کے ایک گروپ کے ذریعہ چلایا جاتا ہے۔ اس گروپ کے اراکین گمنام رہنا چاہتے ہیں اور انھوں نے نجی پیغامات کے ذریعہ بی بی سی سے بات کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔

انھوں نے گذشتہ سال آن لائن ملاقاتیں کرنا شروع کی تھیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اب ایک ایسا گروپ بن چکے ہیں جس میں مختلف پس منظر سے آنے والی خواتین شامل ہیں۔ وہ کویت میں بسنے والی تمام خواتین کا خیال رکھتی ہیں جن میں بے ملک بدو، غیر ملکی گھریلو ملازمین اور ٹرانس جینڈر جیسے غیر محفوظ گروپوں کی خواتین بھی شامل ہیں۔

جب بات ہراس اور تشدد سے بہتر تحفظ کی آتی ہے تو یہ گروپ خواتین کے بہتر تحفظ کے لیے قانون سازی کی حمایت کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کویت کی تمام خواتین کو خطرات کی اطلاع دینے اور ان کے معاملات کو سنجیدگی سے دیکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

لیکن انھوں نے مزید کہا کہ قبائلی خواتین کو امداد کا امکان کم ہی ہوتا ہے اور ان کی شکایات کو حکام کے ذریعہ خاندانی معاملات کے تحت نمٹا دیا جاتا ہے۔

اس گروپ کی ایک رکن نے کہا: ‘بدو کویتی عورت کی پریشانی خاندان کے اندر ہی شروع ہوتی ہے کیونکہ قبیلہ اپنے آپ میں ریاست میں ایک ریاست ہے۔ بدو خواتین کو اس ریاست کی اطاعت کرنی پڑتی ہے جس کے قوانین اس کے اہل خانہ اور اس کا پورے ماحول تیار کرتے ہیں۔’

مزید رکاوٹیں

کارکن حدیل الشماری جو کویت کے ایک لاکھ سے زیادہ بے ریاست بدو باشندوں میں سے ایک ہیں، انھوں نے وضاحت کی ہے کہ ان کی طرح کی خواتین کو اکثر مدد کے حصول میں زیادہ رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بدو برادری کے لوگ جن کے پاس شناختی دستاویزات موجود نہیں ہیں وہ حکام کو اپنے خلاف ہونے والی بدسلوکی یا ہراساں کرنے کی اطلاع دینے سے قاصر ہیں۔

حدیل کہتی ہیں کہ ایسے بہت سارے افراد کو تعلیم یا قانونی ملازمت تک رسائی کے لیے بھی جدوجہد کا سامنا ہوتا ہے کہ اگر یہ خواتین اس بدسلوکی والے ماحول کو چھوڑنا چاہیں تو وہ ایک طرح سے بے یارو مددگار ہو جائيں گی۔

‘ہم خواتین کی تکالیف میں شریک ہیں۔ لیکن بدو خواتین کو ان کی کمزور پوزیشن کی وجہ سے بھی پریشانیوں کا سامنا ہے۔’

وکیل اور ایکٹیوسٹ عمنیہ اشرف کا کہنا ہے کہ اگرچہ انھیں ذاتی طور پر اس قسم کے خطرات کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے لیکن وہ اپنے پیشے کے تحت اپنے معاشرے میں خواتین کو درپیش خطرات کو دیکھتی ہیں۔

‘صرف اس وجہ سے کہ میں، میری خواتین دوست اور اہل خانہ سلامتی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمام خواتین محفوظ ہیں۔ فرح کا معاملہ ہراساں کیے جانے سے شروع ہوا تھا اور قتل پر ختم ہوا۔ لہذا ہر عورت محفوظ نہیں ہے۔’

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.