منگل3؍رجب المرجب 1442ھ 16؍فروری 2021ء

کینیڈا کی سپریم کورٹ ایک لطیفے پر مقدمے کی سماعت کیوں کر رہی ہے؟

معذوری کے بارے میں ایک لطیفہ جو کینیڈا کی سپریم کورٹ تک پہنچا

جیریمی گیبریئل

نسل اور مذہب پر کئی لطیفوں کے ساتھ انھوں نے اپنے صوبے میں ان معروف شخصیات کو بھی ہدف بنایا جو ان کے مطابق ’مقدس گائے‘ کا درجہ رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق ایسے لوگ اپنے پیسے یا طاقت کی وجہ سے طنز و مزاح سے محفوظ رہتے ہیں۔

اس شو کے اثرات گذشتہ ایک دہائی سے کینیڈا کے اس صوبے میں مرتب ہوتے رہے ہیں اور اس کی وجہ وہ لطیفہ ہے جو مائیک وارڈ نے جیریمی گیبریئل سے متعلق سنایا تھا۔ اب اس پر 15 فروری کو ملک کی عدالت عظمیٰ میں قانونی بحث ہوگی۔

اسی شو میں مائیک وارڈ نے ایک دوسری گلوکارہ سیلین ڈیئون اور ان کے وفات پا چکے شوہر رین اینجلل کو بھی ہدف بنایا تھا۔

سیلین ڈیئون

گیبریئل نے سیلین ڈیئون کے لیے بھی گایا تھا جو اپنے وفات پا چکے شوہر رین اینجلل کے ساتھ وارڈ کے شو میں موجود تھیں

مائیک وارڈ اور جیریمی گیبریئل کی قانونی جنگ ذرائع ابلاغ میں بھی زیر بحث رہ چکی ہے۔ جیریمی گیبریئل نے اس کے بعد البم اور سوانح عمری بھی ریلیز کی تھی۔

کامیڈین کے لطیفے میں یہ بتایا گیا تھا کہ کیسے وہ سمجھ بیٹھے تھے کہ گلوکار شاید کسی مہلک بیماری میں مبتلا ہیں اور انھوں نے کیسے انھیں ڈبانے کی کوشش کی۔ انھوں نے گلوکار کی جسمانی صورت اور بیماری کا مذاق اڑایا تھا۔

عدالتی دستاویزات یا کاغذات میں وارڈ کی ادائیگی کا انداز موجود نہیں، اس لیے یہ سمجھ پانا مشکل ہے کہ لوگ کیوں اس لطیفے پر ہنستے ہیں، مگر وہ ہنستے ہیں اور دل کھول کر ہنستے ہیں۔

وارڈ ان کے ہنسنے پر کہتے ہیں کہ ’مجھے معلوم نہیں تھا کہ اس لطیفے پر میں کتنا دور جاسکتا ہوں۔ ایک لمحے پر میں نے خود سے کہا کہ میں بہت دور نکل گیا ہوں، وہ ہنسنا بند کردیں گے۔ لیکن نہیں، آپ لوگ تو ہنس رہے ہیں۔‘

یہ شو سنہ 2010 سے 2013 کے دوران 200 سے زیادہ بار پرفارم کیا گیا۔ اس کے کئی کاپیاں آن لائن بھی فروخت ہوئیں۔

گیبریئل نے پہلی بار اپنے بارے میں یہ لطیفہ 2010 میں سنا۔ وہ 13 سال کے تھے اور وہ ہائی سکول شروع کر رہے تھے۔ انھیں پہلے بھی تنگ کیا جاتا تھا لیکن وارڈ کے لطیفوں نے ان کی زندگی مزید مشکل بنا دی تھی۔

اب 24 سال کے ہوچکے گیبریئل کہتے ہیں کہ ’کوئی ایسا دن نہیں گزرتا تھا جب مجھے ان کا کوئی لطیفہ نہیں سنایا جاتا تھا۔‘

اپنی معذوری کے باعث وہ خود کو اس کا ہدف سمجھ رہے تھے۔ یہاں تک کہ انھوں نے سنجیدگی سے خودکشی کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا تھا۔ لیکن گیبریئل کے خاندان نے براہ راست کبھی کامیڈین سے رابطہ نہیں کیا تھا۔

گیبریئل کہتے ہیں کہ ’ان لطیفوں کی نوعیت کی وجہ سے ہمیں لگا کہ ہماری بات سنجیدگی سے نہیں لی جائے گی۔‘

پھر 2012 میں انھوں نے وارڈ کو ایک معروف نیوز پروگرام میں دیکھا جہاں وہ اس لطیفے پر بات کر رہے تھے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق انھوں نے اپنا موازنہ کسی کوکین کے عادی سے کرتے ہوئے کہا کہ انھیں ایسے لطیفے بنانے کی ضرورت ہوتی ہے جو دور تک جائیں۔‘

یہی وہ لمحہ تھا جب گیبریئل کے خاندان نے انسانی حقوق کی شکایت درج کروائی۔

جب وارڈ کا کیس کیوبیک کے ہیومن رائٹس ٹریبونل کے سامنے لایا گیا تو کامیڈین کو شکست ہوئی۔ یہ ٹریبونل حقوق کے صوبائی چارٹر کے تحت تفریق یا ہراسانی سے متعلق مقدمات سے نمٹتا ہے۔

ٹریبونل نے پایا کہ انھوں نے ’آزادی اظہار کی حدود سے تجاوز کیا تھا‘ اور یہ کہ ان کا لطیفہ معذوری کی بنا پر تفریق آمیز تھا۔

کامیڈی

اُنھوں نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی اور 2019 میں ایک تقسیم فیصلے میں کورٹ آف اپیل نے ٹریبونل کے فیصلے اور گیبریئل کے لیے 35 ہزار کینیڈین ڈالر (27 ہزار 500 امریکی ڈالر، 20 ہزار پاؤنڈ) کے ہرجانے کا فیصلہ برقرار رکھا۔

حکمنامے میں کہا گیا کہ عدالت کی ’نیت یہ نہیں ہے کہ تخلیق کو محدود کیا جائے یا فنکاروں کی رائے کو سینسر کیا جائے‘ مگر ’دوسرے شہریوں کی طرح کامیڈینز بھی اپنے الفاظ کے نتائج کے لیے ذمہ دار ہیں جب وہ مخصوص لکیروں کو پار کریں۔‘

وارڈ نے پہلے ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ اگر وہ ہار گئے تو وہ اس لڑائی کو کینیڈا کی اعلیٰ ترین عدالت تک لے جائیں گے۔

اُنھوں نے کورٹ آف اپیل کے فیصلے کے بعد ایک بیان میں کہا: ’کامیڈی جرم نہیں ہے۔ ایک ’آزاد‘ ملک میں کسی جج کے پاس یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ فیصلہ کرے کیا لطیفہ ہے یا نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ مجمعے کی ہنسی نے پہلے ہی اس سوال کا جواب دے دیا تھا۔

وارڈ نے کہا ہے کہ وہ ہرجانے کی ادائیگی سے انکار ’خود کے لیے نہیں بلکہ نوجوان کامیڈینز، مستقبل کے کامیڈینز‘ کے لیے کر رہے ہیں۔ انھوں نے دلیل دی کہ کامیڈینز کا رسک لینا ان کے فن کا بنیادی حصہ ہے۔

اور ان کا دعویٰ ہے کہ چونکہ گیبریئل ایک عوامی شخصیت ہیں اس لیے ان پر طنز کیا جا سکتا ہے۔

گیبریئل کہتے ہیں: ’ایسا نہیں ہے کہ اگر آپ عوامی شخصیت ہوں تو آپ کے کوئی حقوق نہیں ہوتے۔ ایک لکیر پار کی گئی ہے اور میں سختی سے اس پر قائل ہوں۔‘

کیوبیک اور دیگر جگہوں پر کئی کامیڈینز نے وارڈ کی حمایت کی ہے۔ مانٹریال کے مشہورِ زمانہ کامیڈی فیسٹیول جسٹ فار لافس نے چند سال قبل ایک شو کیا تاکہ وارڈ کو قانونی اخراجات کی ادائیگی میں مدد فراہم کی جا سکے۔

سپریم کورٹ

اس حمایت کے ساتھ ساتھ کامیڈی حلقوں میں یہ تشویش بھی ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ سماجی طور پر قابلِ قبول باتوں، آزادی اظہار، سینسرشپ، اور کینسل کلچر کی بحث میں الجھ رہے ہیں۔

کامیڈی پر سنسنی خیز اثرات کا خوف بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مائیکل لفشٹز ایک کینیڈین کامیڈین ہیں جو ملٹی پل کنجینیٹل مسکیولوسکیلیٹل ابنارملٹیز نامی عارضے کے ساتھ پیدا ہوئے اور وہ اپنی معذوری کے بارے میں آگاہی پھیلانے کے لیے سٹینڈ اپ کامیڈی کا سہارا لیتے ہیں۔

جب یہ مقدمہ پہلی بار شہ سرخیوں کی زینت بنا تو وہ مذاقاً کہتے تھے ’میں اپنی معذوری پر کیے جانے والے اپنے لطیفوں کی وجہ سے خود پر مقدمہ کروں گا، کیونکہ میں تسلیم کرتا ہوں میرے کچھ لطیفے سماجی طور پر قابلِ قبول نہیں ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنی حالت کی وجہ سے مختلف سلوک نہیں چاہتے، چاہے انھیں مذاق کا نشانہ کیوں نہ بنایا جائے۔ وہ اس مقدمے کو معذوری کے بارے میں سماجی رویے تبدیل کرنے کی ایک ناکام کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’مجھے نہیں سمجھ آتا کہ ایک عدالتی مقدمہ کیسے سب کو ساتھ لے کر چلنے کے مقصد کو بڑھاتا ہے یا لوگوں کو ہراسانی کا نشانہ بننے سے روکتا ہے۔‘

وہ اسے پھسلن بھری ڈھلوان سمجھتے ہیں۔

’میں سمجھتا ہوں کہ عدالت کا یہ کہنا کہ آپ کیا کہہ سکتے ہیں اور کیا نہیں، ایک خطرناک مثال ہے۔ اس کام کو عوامی رائے کی عدالت پر چھوڑ دینا چاہیے۔‘

سپریم کورٹ میں سماعت سے قبل گیبریئل کہتے ہیں کہ دونوں ہی فریق اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔

’میرے خیال میں ان چیزوں کے لیے کھڑا ہونا ضروری ہے جنھیں آپ مانتے ہیں۔ میرے خیال میں میں نے یہی کیا ہے اور میرے خیال میں مائیک وارڈ نے بھی ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف لڑائی جاری رکھ کر یہی کیا ہے۔‘

’میں بھی اپنے اس یقین پر قائم ہوں کہ آزادی اظہار نتائج سے آزادی نہیں فراہم کرتی۔‘

دوسری جانب وارڈ نے مذاقاً کہا تھا کہ اگر وہ اس آخری راؤنڈ میں ہار گئے تو وہ ’شام یا سعودی عرب یا کسی ایسے ملک‘ چلے جائیں گے ’جو کینیڈا کی طرح آزادی اظہار پر یقین رکھتا ہے۔‘

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.