اتوار26؍رمضان المبارک 1442ھ 9؍مئی2021ء

چھ باتیں جو خواتین اور چاکلیٹ کے بیچ ’گہرے تعلق‘ کو ظاہر کرتی ہیں

چھ اہم باتیں جو خواتین اور چاکلیٹ کے بیچ تعلق کو بیان کرتی ہیں

خواتین اور چاکلیٹ

بہت کم لوگوں سے سننے کو ملتا ہے کہ انھیں چاکلیٹ پسند نہیں۔ لیکن خواتین کے بارے میں اکثر کہا جاتا ہے کہ ان میں سے کچھ کو تو چاکلیٹ اتنی پسند ہوتی ہے، جیسے چاکلیٹ کی لت ہو۔ لیکن یہ خیال آخر آیا کہاں سے اور کیا یہ سچ ہے؟

بی بی سی نے خواتین اور چاکلیٹ کے تعلق سے منسلک چند غیر معمولی دعوؤں کو سمجھنے کی کوشش کی۔

کیا خواتین کو چاکلیٹ مردوں سے زیادہ پسند ہوتی ہے؟

برطانیہ کی اینگلیا رسکن یونیورسٹی میں کنزیومر سائیکالوجی پڑھانے والی ڈاکٹر کیتھرین جینسن بوئڈ کے مطابق ’اس بات کے کوئی شواہد موجود نہیں کہ خواتین کو چاکلیٹ مردوں سے زیادہ پسند ہوتی ہے۔‘

’ریسرچ میں سامنے آیا ہے کہ چاکلیٹ پسند کرنے کے پیچھے سماجی اثرات کا بڑا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ ہمیں مسلسل ایسی باتیں سننے کو ملتی ہیں کہ خواتین کو چاکلیٹ زیادہ پسند ہونی چاہیے، اور یہ بھی کہ ماہواری سے پہلے کے چند دنوں میں چاکلیٹ کھانے سے فائدہ ہوتا ہے۔ لیکن یہ سب بے بنیاد باتیں ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

‘کوکووا: این ایکسپلوریشن آف چاکلیٹ’ نامی کتاب کی مصنفہ سو کوئن کہتی ہیں کہ ’ہزاروں برسوں سے چاکلیٹ کو ادویات، کسی مذہبی تقریب کے موقع پر اور طاقت دینے والے مشروب کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

’جنگ کے لیے جانے والے فوجیوں کو چاکلیٹ پلائی جاتی تھی اور بچے کی پیدائش کے دوران ماں کی اس عمل سے گزرنے میں مدد کرنے کے لیے اسے چاکلیٹ پلائی جاتی تھی۔ جب سپین نے برطانیہ پر حملہ کیا تو وہ نہیں جانتے تھے کہ اس کی کیا اہمیت ہے۔

’انھیں چاکلیٹ کے مشروبات اور ادویات بنانے والوں پر بھی شک ہونے لگا، جو کہ خواتین تھیں۔ اور وہیں سے خواتین اور چاکلیٹ کے تعلق کے بارے میں مختلف باتیں کی جانے لگیں۔‘

یہ سمجھا جاتا تھا کہ چاکلیٹ کھانے سے خواتین ’پاگل‘ ہوجاتی ہیں

سو کوئن نے بتایا کہ ’18ویں صدی میں ڈاکٹروں کا دعویٰ تھا کہ چاکلیٹ کی وجہ سے خواتین کو پاگلپن کے دورے پڑتے تھے۔’

انھوں نے بتایا کہ ’ایک پادری نے سپین کے چیاپس نامی علاقے کی چند خواتین کے بارے میں لکھا تھا کہ انھیں چاکلیٹ کی اتنی لت لگ چکی تھی کہ ایک مذہبی تقریب میں انھیں منع کیے جانے کے باوجود وہ جلسے کے دوران چاکلیٹ پینے سے خود کو روک نہ سکیں۔‘

کوئن کے بقول اس داستان کے ذریعے وہ پادری بتانا چاہتے تھے کہ ان خواتین کو چاکلیٹ کی ایسی لت لگ گئی تھی کہ وہ ’جہنم کی آگ میں جھونکے جانے کا خطرہ بھی مول لینے کے لیے تیار تھیں۔ تو آپ اس سے سمجھ سکتے ہیں کہ خواتین کو چاکلیٹ کی لت لگی ہوئی تھی۔‘

کیا ڈارک چاکلیٹ صحت کے لیے اچھی ہے؟

کوئن نے بتایا کہ ’ڈارک چاکلیٹ اس لیے بہتر ہے کہ اس میں چینی کی مقدار کم ہوتی ہے۔ یہ ذائقے میں تھوڑی کڑوی بھی ہوتی ہے اس لیے آپ اسے زیادہ مقدار میں کھا بھی نہیں سکتے ہیں۔‘

’کوکو ایک ایسی چیز ہے جس میں صحت کے لیے مفید متعدد عناصر موجود ہیں۔ اس بات کے شواہد بھی ملے ہیں کہ ان میں سے چند عناصر بلڈ پریشر کم کرنے اور دل کے امراض کے خدشات کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔‘

لیکن اس سلسلے میں متعدد تحقیقات کی جا چکی ہیں اور جن فوائد کی یہاں بات کی جا رہی ہے وہ اس چاکلیٹ میں ہونا ممکن نہیں جو ہم عام طور پر کھاتے ہیں۔

کوئن نے کہا ہے کہ ’میں نے جن سائنسدانوں سے بات کی انھوں نے مجھے بتایا کہ صحت کے جن فائدوں کی ہم بات کر رہے ہیں انھیں حاصل کرنے کے لیے ڈارک چاکلیٹ کی بہت ہی زیادہ مقدار کھانی ہوگی۔

چاکلیٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’حالانکہ میرا خیال ہے کہ کوئی بھی چیز جو آپ کو خوشی دیتی ہے اسے کھانا آپ کے جسم اور روح کے لیے اچھا ہے۔ یہ صحت کے لیے زبردست چیز نہیں ہے لیکن ذائقے کے لیے ڈارک چاکلیٹ کھانے میں کوئی ہرج نہیں۔‘

کوکو کی کاشتکاری میں مردوں سے زیادہ خواتین

لا ٹروب یونیورسٹی میں تاریخ کی لیکچرر ایما رابرٹسن نے بتایا کہ ‘ہم خواتین کو چاکلیٹ کی گاہک کے طور پر اشتہارات میں دیکھنے کے عادی ہو گئے ہیں۔ لیکن ہم ان کا تصور کوکو کی پیداوار یا فیکٹریوں کے ساتھ جوڑ کر چاکلیٹ بنانے والوں کے طور پر نہیں کرتے ہیں، جہاں اصل میں کام کرنے والوں کی آدھی سے زیادہ آبادی کی خواتین ہوتی ہیں۔’

کوکو کی پیداوار میں اصل میں 68 فیصد شراکت خواتین کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ‘میرا خیال ہے لوگوں کو لگتا ہے کہ اس کی کاشتکاری میں مردوں کا زیادہ کام ہے۔ خواتین کا تصور ہلکے کاموں کے لیے کیا جاتا ہے، جیسے کوکو کے پودے سے پھلیاں نکالنا اور مردوں کی شرکت کھیتوں کے کاموں میں سمجھتی جاتی ہے۔

’لیکن آپ وہاں کام کرنے والی خواتین سے بات کریں تو پتا چلتا ہے کہ وہ کھیتوں میں کاشت پر سپرے کرنے اور نکائی جیسے مختلف کام کرتی ہیں۔’

چاکلیٹ بنانے والی خواتین کی مردوں کے مقابلے کم آمدن

فیئر ٹریڈ کی سی ای او نیاگوئے نیونگو کہتی ہیں خواتین اس شعبے میں کام کرنے والے مردوں سے کم کماتی ہیں۔ مردوں کی روزمرہ آمدنی کا تقریباً پانچواں حصہ ہی خواتین کو حاصل ہوتا ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ایک گاہک کی حیثیت سے جب آپ چاکلیٹ خریدتے ہیں تو آپ کو دیکھنا چاہیے کہ اس پر فیئر ٹریڈ کا لیبل لگا ہے یا نہیں۔ ہم بازار کی غیر یقینی حالت سے کاشتکاروں کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے ہم نے کم از کم ادا کی جانے والی ایک فیئر ٹریڈ قیمت تعین کی ہے اور ایک فیئر ٹریڈ پریمیئم قیمت ہے۔ ہم اپنے پروگرام کے ذریعے مغربی افریقہ میں چند بے حد متاثرہ خواتین کی مدد کر رہے ہیں۔‘

چاکلیٹ کسی دور میں غلامی کا باعث بنی

ایما رابرٹسن نے چاکلیٹ کے بارے میں جتنا پڑھا اتنا انھیں معلوم ہوا کہ کس طرح اس کا تعلق بادشاہوں کے دور سے ہے۔

انھوں نے بتایا ‘برطانیہ میں چاکلیٹ کی صنعت کا انحصار مغربی افریقہ، نائجیریا، اور گھانا جیسے برطانوی نو آبادیاتی علاقوں پر تھا اور یہاں سے خام مال لایا جاتا تھا۔’

’بیسویں صدی کی انتدا میں بھی ایک سکینڈل پیش آیا تھا کیونکہ چاکلیٹ بنانے والی برطانوی کمپنیاں اوپن ماکیٹ سے کوکو خرید رہی تھیں جسے مغربی افریقہ میں پیدا کیا گیا تھا۔ یہ بھی غلامی کی ایک شکل تھی۔‘

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.