بدھ14؍شوال المکرم 1442ھ26؍مئی 2021ء

ٹیپو سلطان: ‘استعمار کی سب سے بڑی شکست’ کو پیش کرنے والی پینٹنگ کی نیلامی

ٹیپو سلطان: ‘استعمار کی سب سے بڑی شکست’ کو پیش کرنے والی پینٹنگ کی نیلامی

  • اپرنا الوری
  • بی بی سی نیوز، دلی

سوتھبیز

،تصویر کا ذریعہSOTHEBY’S

،تصویر کا کیپشن

سنہ 1780 کی پولیلور کی جنگ

برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کے فوجیوں پر سنہ 1780 کی جنگ میں ہندوستانی حکمرانوں کی اہم فتح کی تصویر کشی کرنے والی ایک پینٹنگ لندن میں نیلامی کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔

اس پینٹنگ کے لیے معروف نیلامی گھر سوتھبیز کی جانب سے بدھ کو نیلامی شروع ہوگی۔ اس کی ابتدائی بولی تین لاکھ 70 ہزار پاؤنڈ یعنی تقریبا چار لاکھ 85 ہزار امریکی ڈالر ہوگی۔

اس پینٹنگ میں میسور کی سلطنت کے سلطان حیدر علی اور ان کے بیٹے ٹیپو سلطان کو پولیلور کی مشہور جنگ میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی افواج کو شکست سے دوچار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ٹیپو سلطان کو عرف عام میں ‘شیر میسور’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے سخت ترین حریف رہے یہاں تک کہ سنہ 1799 میں ایک جنگ میں ان کی ہلاکت کے ساتھ ہی انھیں شکست ہوئی۔

معروف برطانوی مورخ ولیم ڈیلرمپل نے پولیلور کی جنگ کو پیش کرنے والی اس پینٹنگ کو ‘انڈیا میں بچ جانے والی استعمار کی شکست کی سب سے بڑی ہندوستانی تصویر’ کے طور پر بیان کیا ہے۔

ولیم ڈیلرمپل نے اپنی کتاب ‘دی انارکی’ میں اٹھارویں صدی میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے عروج کی داستان بیان کی ہے۔ انھوں نے اس جنگ کو ‘شدید ترین شکست’ سے تعبیر کیا ہے جس نے ان کے مطابق ‘ہندوستان میں برطانوی راج کا تقریباً خاتمہ’ قرار دیا تھا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹیپو کو پولیلور میں پہلی بار کمان دی گئی تھی اور انھوں نے ‘ہوا کا رخ انگریزوں کے خلاف موڑ دیا۔’

جنگ کے مناظر کو پیش کرنے کا حکم سب سے پہلے سنہ 1784 میں ٹیپو نے خود ہی دیا تھا۔ ان مناظر کو پہلے پہل میسور کے دارالحکومت سریرنگا پٹنم میں ان کے محل ‘دریا دولت باغ’ کی دیواروں اور چھتوں پر پینٹ کیا گیا تھا۔

ان میں سے کچھ مناظر سیاہی اور آبی رنگوں کی مصوری والے روغن کا استعمال کرتے ہوئے کاغذ پر کم از کم دو بار پینٹ کیے گئے تھے۔

پینٹنگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

میسور میں ٹیپو سلطان کے محل کے در و دیوار پر یہ نقش بنائے گئے تھے

ان پینٹنگز میں سے ایک سنہ 2010 میں منعقد نیلامی میں فروخت ہوئی تھی اور اسے قطر کے اسلامی آرٹ میوزیم نے حاصل کیا تھا۔ اس پینٹنگ کو کرنل جان ولیم فریزے انگلینڈ لائے تھے، جو ٹیپو کی شکست کے بعد سریرنگا پٹنم میں تھے۔ ان کے خاندان میں نسل در نسل یہ تصویر وراثت میں منتقل ہوتی رہی۔ لیکن سنہ 1978 میں اسے نوادرات کو اکٹھا کرنے والے ایک پرائیوٹ کلیکٹر کے ہاتھوں فروخت کر دیا گیا جنھوں نے سنہ 2010 میں اسے نیلامی کے لیے پیش کیا۔

دوسری پینٹنگ جسے سوتھبیز اب نیلام کر رہا ہے اس کی اصلیت بہت واضح نہیں ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ یہ جان ولیم فریزے کی حاصل کردہ پینٹنگ سے کتنی مماثلت رکھتی ہے، یہ فرض کیا جاتا ہے کہ اسے بھی ایک برطانوی افسر کے ذریعہ انگلینڈ لایا گیا تھا۔

سوتھبیز کے بینیڈکٹ کارٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ پینٹنگ پہلی بار سنہ 1980 کی دہائی کے اوائل میں نیلامی کے لیے سامنے لائی گئی تھی۔ ‘لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ اس سے پہلے 100 سالوں میں اس کے ساتھ کیا ہوا تھا۔’ انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے صرف مختصر طور پر اسے سنہ 1990 اور 1999 میں دکھایا گیا تھا اور ‘قابل ذکر اچھی حالت’ میں تھی۔

اس پینٹنگ میں واضح طور پر سات ستمبر سنہ 1780 کی صبح پیش آنے والے واقعات کو دکھایا گیا ہے اور اس جنگ کے جشن اور کرب کو پیش کیا گیا ہے۔

ٹیپو نے کرنل ولیم بیلی کی قیادت والی کمپنی کی افواج پر گھات لگا کر پولیور نام کے ایک گاؤں کے قریب حملہ کیا تھا۔ یہ جگہ مدراس (اب چنئی) سے زیادہ دور نہیں تھی۔ مدراس اس وقت برطانوی کمپنی کی ایک بڑی تجارتی چوکی تھی۔ مسٹر ڈیلرمپل کا کہنا ہے کہ جب حیدر علی کمک کے ساتھ پہنچے، اس وقت تک ‘کام کافی حد تک تمام ہو چکا تھا۔’

ٹیپو سلطان ہاتھی پر سوار اپنے فوجیوں کو کمانڈ کرتے نظر آتے ہیں

،تصویر کا ذریعہSOTHEBY’S

،تصویر کا کیپشن

ٹیپو سلطان ہاتھی پر سوار اپنے فوجیوں کو کمانڈ کرتے نظر آتے ہیں

32 فٹ طویل یہ پینٹنگ کاغذ کی 10 شیٹس پر پھیلی ہوئی ہے۔ ان میں ٹیپو کو ہاتھی پر سوار اپنے فوجیوں کی قیادت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ پینٹنگ کے دوسرے سرے پر ان کا گھڑسوار دستہ دونوں طرف سے کمپنی کی افواج پر حملہ کر رہا ہے جب کہ زخمی بیلی ایک پالکی میں سوار ہیں اور ان کے فوجی ان کے گرد حفاظتی گھیرا بنائے ہوئے ہیں۔ اس پینٹنگ میں ایک بارود سے بھری گاڑی کو پھٹتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے اور جنگ میں ایک لمحہ ایسا بھی آیا تھا۔

مسٹر ڈیلرمپل نے اس پینٹنگ کے حوالے سے نیلامی کے لیے لکھے گئے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ بیلی کے چھوٹے بھائی جان نے اس کے متعلق یہ کہا تھا کہ ‘دو بارود سے بھرے چھکڑے ایک ساتھ پھٹے جس سے دونوں جگہ بڑی جگہ بن گئی اور پھر اس کی بدولت ان کے گھڑسوار نے اپنی برتری قائم کرلی اور پھر ہاتھیوں سے حملہ ہوا جس نے ہماری شکست کو مکمل کر دیا۔’

مسٹر ڈیلریمپل نے پینٹنگ کے بارے میں بی بی سی کو بتایا کہ ‘یہ ایک شاندار شاہکار ہے، یہ بے مثال ہے۔’

یہ بھی پڑھیے

ان کا ماننا ہے کہ شاندار شکست کے باوجود ان پینٹنگز کو کرنل فریزے جیسے برطانوی افسروں بنوایا۔ یہ سریرنگا پٹم کے محل کی دیواریں پر اگر زیادہ نہیں تو بالکل ایسی ہی حیرت انگیز تھیں۔

ایک اور نظریہ یہ ہے کہ ان دونوں پینٹنگز کو سریرنگا پٹنم کے محل کے در و دیوار کی بحالی کی خاطر تیاری کی ڈرائنگ کے طور پر کمپنی کی ایما پر بنایا گیا تھا۔ اس کا حکم آرتھر ویلیزلی نے دیا تھا جو کہ مستقبل میں ڈیوک آف ویلنگٹن بنے۔

گھڑسوار

،تصویر کا ذریعہSOTHEBY’S

،تصویر کا کیپشن

ٹیپو سلطان کے گھڑسوار کرنل بیلی کی حفاظت کرنے والے محافظوں پر حملہ آور ہیں

مسٹر ڈیلریمپل کا کہنا ہے کہ ٹیپو نے کمپنی کے خلاف اس کے بعد والی جنگ میں شکست کے بعد پینٹنگ والی دیواروں کو سفید رنگنے کا حکم دیا تھا کیونکہ یہ تصاویر ‘ناقابل یقین حد تک خونی’ تھیں اور ان پر پینٹ کروانا شاید ٹیپو کی جانب سے امن کا اشارہ تھا۔

مسٹر ڈیلرمپل کے مطابق شکست کے باوجود ٹیپو کو ان کی فوجی ذہانت اور ‘جس طرح وہ جنگ میں بہادری کے ساتھ لڑتے ہوئے مرے’ کے لیے انگریزوں نے ان کا احترام کیا۔

اس لیے شاید تاریخ دانوں کے لیے یہ بات اتنی حیران کن نہیں ہے کہ انگریزوں نے پولیلور کی جنگ میں شکست کے باوجود اس کے شواہد کو برقرار رکھنے کا انتخاب کیا۔

مسٹر ڈیلرمپل کا کہنا ہے کہ پینٹنگ کی اہمیت جنگ کی اہمیت سے اخذ ہے۔ ٹیپو سے ‘انگریز سب سے زیادہ خوفزدہ’ تھے اور وہ اس وقت کا واحد ہندوستانی حکمران تھا جس نے کبھی انگریزوں کے ساتھ اتحاد نہیں کیا۔

18ویں صدی کے وسط تک، کمپنی نے یورپ میں فوجی ایجادات کی بدولت ہندوستان میں میدان جنگ میں فائدہ حاصل کیا۔ لیکن مسٹر ڈیلریمپل کہتے ہیں کہ ٹیپو سنہ 1780 میں بھی ان کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہے، جیسا کہ پولیلور میں جیت سے ظاہر ہوتا ہے۔

پینٹنگ میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے فوجیوں کی ہلاکتوں کا منظر بھی ہے

،تصویر کا ذریعہSOTHEBY’S

،تصویر کا کیپشن

پینٹنگ میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے فوجیوں کی ہلاکتوں کا منظر بھی ہے

ان کے مطابق پولیلور کی جنگ میں ٹیپو کی فوج کے پاس بہتر بندوقیں، بہتر توپ خانہ تھا اور ان کے گھڑسواروں کے رسالے کے پاس نئی ایجادات تھی اور حکمت عملی کے لحاظ سے وہ بہتر طور پر تیار تھی۔ مثال کے طور پر وہ اپنے اونٹوں سے راکٹ فائر کرنے کے قابل تھے اور یہ ایک ایسی تکنیک تھی جس نے بعد میں انگریزوں کو اپنا راکٹ سسٹم ایجاد کرنے کی ترغیب دی۔

لیکن انگریزوں کے خلاف ٹیپو کی مسلسل مزاحمت کے باوجود مغلیہ سلطنت سے نکل کر بننے والی ہندوستانی سلطنتوں کے درمیان کوئی دیرپا اتحاد قائم نہ ہو سکا۔

بہرحال اب ایک بڑھتے ہوئے ہندو قوم پرست انڈیا میں ٹیپو کی میراث کا ایک مسلمان بادشاہ کے طور پر از سر نو جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تاہم پولیلور کی لڑائی اس رکاوٹ کی یاددہانی کراتی ہے جو ٹیپو نے برطانوی فتح کی راہ میں کھڑی کی تھی۔

یہاں تک کہ جب وہ مارا گیا تو فاتحین اس کی مہم کا خیمہ واپس برطانیہ لے گئے جو آج تک ‘شیر میسور’ کی شکست کی ایک ٹرافی کے طور پر وہاں موجود ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.