منگل28رمضان المبارک 1442ھ 11؍مئی2021ء

میانمار میں منتخب حکومت گرا کر اقتدار پر قبضہ کرنے والے فوجی سربراہ کون ہیں؟

من آنگ ہلینگ: میانمار میں آنگ سان سوچی کی حکومت گِرانے اور اقتدار پر قبضہ کرنے والے فوجی سربراہ کون ہیں؟

آن لانگ ہیلانگ

من آنگ ہلینگ 64 برس کے ہو گئے ہیں اور میانمار میں فوج کے سربراہ کی ریٹائرمنٹ کی عمنر 65 سال ہے

64 برس کے جنرل ہلینگ کیڈٹ کے طور پر فوج میں بھرتی ہوئے تھے اور اس کے بعد انھوں نے اپنی ساری زندگی فوج میں گزاری ہے۔

رنگون کی یونیورسٹی میں قانون کے سابق طالبعلم دو مرتبہ ناکامی کے بعد تیسری مرتبہ ڈیفنس سروسز اکیڈمی میں بھرتی ہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔

بظاہر معمولی اور غیر متاثر کن شخصت کے مالک بری فوج کے اس اہلکار کو بروقت ترقیاں ملتی رہیں اور ترقیاں پاتے پاتے وہ سنہ 2009 میں بیورو آف سپیشل آپریشن کے کمانڈنگ آفسر کے عہدے پر پہنچ گئے۔

جنوب مشرقی ایشیا کے ملکوں میں میانمار کی فوج دوسری بڑی فوج ہے۔

بیورو آف سپیشل آپریشن کے کمانڈنگ آفسر کے طور پر انھوں نے شمال مشرقی میانمار میں عسکری کارروائیوں کی سربراہی کی جس کے نتیجے میں مشرقی صوبے شان اور چین کی سرحد کے ساتھ کوکانگ کے خطے سے ہزاروں لسانی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔

میانمار

میانمار کی فوج جنوب مشرقی ایشیا میں دوسری بڑی فوج ہے

جنرل من آنگ ہلینگ کی زیرِ قیادت فوجیوں کے خلاف قتل و غارت گری اور ریپ کے بے شمار الزامات لگے لیکن پھر بھی انھیں فوج میں ترقی ملتی رہی اور وہ اگست 2010 میں جوائنٹ چیف آف سٹاف کے عہدہ پر پہنچ گئے۔

اس کے بعد ایک سال سے بھی کم عرصے میں مارچ سنہ 2011 میں انھیں کئی سینیئر افسران پر ترقی دی گئی اور وہ ’تھان شو‘ کی جگہ کمانڈر ان چیف بن گئے۔

من آنگ ہلینگ کو جب فوج کا سربراہ مقرر کیا گیا تو ملک کے ایک مشہور بلاگر اور ان کے بچپن کے دوست ’ہلا او‘ نے ان کے بارے میں لکھا کہ وہ جنگ کی بھٹی سے گزرنے والے میانمار کی ظالم فوج کے تجربہ کار فوجی ہونے کے علاوہ ایک شریف انسان اور عالم بھی ہیں۔

سیاسی اثر و رسوخ اور قتل عام

کئی دہائیوں کی فوجی آمریت کے بعد سنہ 2011 میں میانمار میں جمہوری نظام قائم ہو گیا لیکن ملک میں فوج کی بالادستی اور سیاسی اثر و رسوخ کم نہیں ہوا۔

ملک میں فوج کی حمایت یافتہ یونین سولیڈیرٹی اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (یو ایس ڈی پی) کی سربراہی میں حکومت کے قیام سے فوج کے سربراہ کا سیاست میں عمل دخل کم نہیں ہوا اور سوشل میڈیا پر ان کے بیانات میں اضافہ ہو گیا۔

سنہ 2016 میں آنگ سان سوچی کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کی جب حکومت قائم ہوئی تو فوج کے سربراہ نے اپنے آپ کو بھی بدلا اور حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنا شروع کیا۔

آنگ سانگ سوچی اور میانمار کی فوج کے سربراہ من لانگ ہیلانگ

عوامی تقریبات میں وہ آنگ سان سوچی کے ساتھ نظر آنے لگے۔ فوج کے سربراہ آنگ سان سوچی کے ساتھ مل کر کام کرنے میں بظاہر خوش نظر آتے تھے۔

اس تبدیلی کے باوجود انھوں نے ملک کی پارلیمان میں فوج کی 25 فیصد نشستوں اور سکیورٹی سے متعلق وفاقی کابینہ کے اہم عہدوں پر حاضر سروس فوجی افسران کی تعیناتی کو یقینی بنائے رکھا اور اس کے ساتھ ہی وہ آنگ سان سوچی کی حکومت کی طرف سے فوج کے اختیارات اور سیاسی معاملات میں کردار کو کم کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کرنے کی کوششوں کے سامنے رکاوٹ بھی بنے رہے۔

سنہ 2016 اور سنہ 2017 میں ملک کی ریخائن ریاست میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف فوجی کارروائیوں میں تیزی آ جانے کے بعد لاکھوں کی تعداد میں روہنگیا مسلمان ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے۔

ملک میں ہونے والے اس قتل عام پر میانمار کی فوج کی بین الاقوامی سطح پر خوب مذمت کی گئی اور اگست 2018 میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی کونسل نے کہا کہ ’میانمار کی فوج کے اعلی افسران اور خاص طور پر فوج کے سربراہ من آنگ ہلینگ کے خلاف شمالی ریاست ریخائن میں ہونے والے قتل عام پر تحقیقات کرائی جانی چاہیں اور ریخائن کے علاوہ شان اور کاچن کی ریاستوں میں انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے الزامات پر مقدمات چلائے جانے چاہیں۔‘

کونسل کے بیان کے بعد فیس بک نے میانمار کی فوج کے سربراہ اور ان کے ساتھ شامل افراد اور اداروں کے اکاؤنٹس کو بند کر دیا گیا جن کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ انھوں نے ملک میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی ہیں۔

امریکہ نے سنہ 2019 میں ان کے خلاف ’نسلی کشی اور انسانی حقوق کی سنگین‘ خلاف ورزیوں پر دو مرتبہ پابندیاں عائد کیں اور جولائی سنہ 2020 میں برطانیہ نے بھی ان پر پابندیاں عائد کر دیں۔

اقتدار پر قبضہ

ملک میں گذشتہ سال نومبر میں ہونے والے عام انتخابات میں آنگ سان سوچی کی جماعت این ایل ڈی کو بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی لیکن فوجی کی حمایت یافتہ جماعت یو ایس ڈی پی نے انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

یو ایس ڈی پی نے انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کا الزام لگایا۔ ملک کے الیکشن کمیشن نے یکم فروری کو نئی پارلیمان کے اجلاس سے قبل، جس میں نو منتخب حکومت کی توثیق ہونا تھی، دھاندلی کے تمام الزامات کو رد کر دیا۔

فوج اور حکومت کے درمیان تعطل پیدا ہو گیا اور فوجی بغاوت کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جانے لگیں۔

من آنگ ہلینگ نے جنوری کی 27 تاریخ کو دھمکی دی کہ اگر ملکی آئین کی پاسداری نہیں کی گئی تو اسے معطل کر دیا جائے گا جیسا کہ اس سے قبل سنہ 1962 اور سنہ 1988 کی فوجی بغاوتوں میں کیا گیا تھا۔

30 جنوری کو ان کے دفتر نے اپنے مؤقف میں تبدیلی کرتے ہوئے وضاحت جاری کی کہ آئین کو معطل کیے جانے کے فوجی افسران کے بیان کی ذرائع ابلاغ نے غلط تشریح کی ہے۔

لیکن یکم فروری کو فوج نے سٹیٹ کونسلر آنگ سان سوچی، ملک کے صدر ون مینت اور چند دیگر سرکردہ سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کر کے ملک میں ایک سال کے لیے ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔

من آنگ ہلینگ نے فوج کے سربراہ کی حیثیت سے ہنگامی مدت کے دوران تمام سرکاری اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں اور انتخابی بے قاعدگیوں کے الزامات کی چھان بین کرنے کو اپنی ترجیح قرار دیا ہے۔

فوج کے سربراہ کے تحت منعقد ہونے والے نیشنل ڈیفنس اینڈ سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں کہا گیا کہ انتخاب میں دھاندلی کے الزمات کی تحقیقات کرائی جائیں گی اور ملک میں نئے انتخابات کرائے جائیں گے۔ اس اعلان سے عملاً گذشتہ انتخابات میں این ایل ڈی کی کامیابی کو رد کر دیا گیا ہے۔

من آنگ ہلینگ اس سال جولائی میں 65 سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد اپنے عہدے سے ریٹائر ہونے والے تھے لیکن انھوں نے اقتدار پر قبضہ کر کے ملک میں ایک سال کے لیے ہنگامی حالت نافذ کر کے اپنی مدت ملازمت میں ایک سال کی توسیع کر لی ہے۔

میانمار کو اس اقدام سے ایک غیر یقینی مستقبل کا سامنا ہے لیکن من آنگ ہلینگ نے اقتدار پر قبضہ کر کے اپنی پوزیشن کو مستحکم کر لیا ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.