بدھ14؍شوال المکرم 1442ھ26؍مئی 2021ء

میانمار میں فوجی بغاوت کے بعد حامیوں کو آنگ سان سوچی سے متعلق تشویش

میانمار میں فوجی بغاوت: آنگ سان سوچی سے متعلق حامیوں کو تشویش، امریکہ کی جانب سے پابندیوں کی تنبیہ

آنگ سان سوچی

بہت سے ارکان پارلیمان کو دارالحکومت میں ان کی سرکاری رہائش گاہ پر ہی نظر بند کر دیا گیا ہے لیکن این ایل ڈی کے ایک رکن نے اسے ایک کھلا حراستی مرکز قرار دیا ہے۔

آنگ سان سوچی جنہوں نے سنہ 1989 سے 2010 تک پندرہ سال فوج کی حراست میں گزرے تھے، انھوں نے گرفتاری سے قبل اپنے حامیوں کے نام ایک خط میں فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج کرنے کا کہا تھا۔ انھوں نے خبردار کیا تھا کہ فوجی بغاوت کے بعد ملک پھر فوجی آمریت کی طرف چلا جائے گا۔

میانمار کے آئین کے تحت آنگ سان سوچی ملک کی صدر نہیں بن سکتیں کیونکہ آئین میں درج ہے کہ غیر ملکی بچوں کے والدین ملک کے صدر کا عہدہ نہیں سنبھال سکتے۔ آنگ سو چی کے شوہر برطانوی شہریت کے حامل تھے اور ان کے بچے بھی برطانوی شہریت رکھتے ہیں۔ لیکن این ایل ڈی کی سنہ 2015 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد سے عملی طور پر انھیں ہی ملک کے سربراہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

امریکہ کی تنبیہ، پاکستان اور دیگر ممالک کا ردعمل

جو بائیڈن، امریکہ کے صدر

ادھر ملک میں یکم فروری کی فوجی بغاوت کے بعد امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے میانمار پر تجارتی پابندیاں عائد کرنی کی دھمکی دی تھی۔

اپنے ایک بیان میں امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ ‘عوام کی خواہش پر غلبہ حاصل کرنے یا کسی شفاف الیکشن کے نتائج کو مسترد کرنے کے لیے کسی طاقت کا استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔’

اقوام متحدہ اور برطانیہ نے بھی فوجی بغاوت کی مذمت کی ہے۔ پاکستان میں ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چودھری نے کہا ہے کہ ’ہم میانمار میں ہونے والی پیشرفت کا قریب سے جائزہ لے رہے ہیں۔‘

پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ’ہمیں امید ہے کہ اس میں شامل تمام فریقین تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھیں گے اور پُرامن نتائج کے لیے تعمیری انداز میں کام کریں گے۔‘

امریکہ نے میانمار میں گذشتہ دہائی میں جمہوریت کی بحالی کے بعد اس پر عائد تجارتی پابندیاں ختم کر دی تھیں۔

امریکی صدر نے کہا ہے کہ ان پابندیوں کو دوبارہ لگانے پر غور کیا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا میں جہاں بھی جمہوریت پر حملہ کیا جائے گا، امریکہ اس کے خلاف کھڑا ہوگا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گٹیرس نے میانمار کی فوج کے اس اقدام کو ‘جمہوری اصلاحات کے لیے شدید دھچکا’ قرار دیا ہے اور سلامتی کونسل نے ایک ہنگامی اجلاس کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔

اقوام متحدہ نے گرفتار افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کم از کم 45 افراد تھے جنھیں حراست میں لیا گیا تھا۔

برطانیہ میں وزیر اعظم بورس جانسن نے بغاوت اور آنگ سان سوچی کی ’غیر قانونی قید‘ کی مذمت کی ہے۔ جبکہ یورپی رہنماؤں نے بھی اسی طرح کے مذمتی بیانات جاری کیے ہیں۔

چین نے، جو اس سے قبل میانمار میں بین الاقوامی مداخلت کی مخالفت کرچکا ہے، ملک میں تمام فریقین سے ’اختلافات کو حل کرنے‘ پر زور دیا ہے۔ جبکہ کمبوڈیا، تھائی لینڈ اور فلپائن سمیت کچھ علاقائی طاقتوں نے کہا ہے کہ یہ ایک ‘داخلی معاملہ’ ہے۔

میانمار میں کیا حالات ہیں؟

سڑکوں پر فوجی دستے گشت کر رہے ہیں اور رات کے وقت کرفیو نافذ رہتا ہے۔ فوج نے ملک میں ایک سال کی ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔

آنگ سانگ سوچی اور میانمار کی فوج کے سربراہ من لانگ ہیلانگ

آنگ سانگ سوچی اور میانمار کی فوج کے سربراہ من آنگ ہلینگ جو اب اقتادر میں ہیں

اپنی متوقع حراست کی تیاریوں کے حوالے سے لکھے گئے ایک خط میں سوچی نے کہا ہے کہ فوج کے ایسے اقدامات سے ملک دوبارہ آمریت کے دور میں داخل ہوسکتا ہے۔

فوج نے کئی اہم وزارتوں میں تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔

ینگون شہر کی سڑکوں پر لوگوں کا کہنا ہے کہ جمہوریت کے لیے وہ اپنی طویل جنگ میں شکست محسوس کر رہے ہیں۔

ایک 25 سالہ شہری نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ’صبح اٹھ کر یہ جاننا کہ آپ کی دنیا کو راتوں رات الٹا دیا گیا ہے، یہ کوئی نیا احساس نہیں۔ لیکن مجھے لگتا تھا کہ ہم اس احساس سے آگے بڑھ چکے ہیں۔ اور مجھے لگتا تھا کہ ہمیں زبردستی دوبارہ ایسا محسوس نہیں کرایا جائے گا۔‘

میانمار میں، جسے برما بھی کہتے ہیں، سنہ 2011 تک فوج برسرِ اقتدار رہی۔ اسی سال آنگ سان سوچی نے جمہوری اصلاحات کے ساتھ فوجی حکومت کا خاتمہ کیا تھا۔

انھوں نے 1989 سے 2010 کے دوران قریب 15 سال زیر حراست گزارے۔ انھیں بین الاقوامی سطح پر جمہوریت کی علامت قرار دیا جاتا تھا اور انھیں سنہ 1991 میں امن کے لیے نوبیل انعام سے نوازا گیا تھا۔

لیکن جب فوج نے ملک میں اقلیتی مسلم روہنگیا آبادی کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا تو ان کی بین الاقوامی ساکھ متاثر ہوئی۔ ان کے سابق حامیوں نے ان پر تنقید کی کہ انھوں نے فوجی اقدامات کی مذمت نہیں کی اور نہ ہی اس بربریت کے خلاف کوئی اقدام کیا۔

برما میں فوج نے بغاوت کیسے کی؟

پیر کی صبح فوج کے ٹی وی چینل نے بیان دیا کہ اقتدار کمانڈر اِن چیف من آنگ ہلینگ کو منتقل کر دیا گیا ہے۔

آنگ سان سوچی، صدر ون مینت اور نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) کے کئی رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ انھیں حراست میں کہاں رکھا گیا ہے۔

میانمار کے فوجی سربراہ مِن اونگ ہلینگ اب اقتدار آچکے ہیں

ملک میں کسی پُرتشدد واقعے کی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔ درالحکومت نی نیپیٹاؤ اور مرکزی شہر رنگون میں سڑکوں پر رکاوٹیں لگائی گئی ہیں۔

سرکاری چینل اور مقامی و بین الاقوامی چینلز کی نشریات بند ہے۔ انٹرنیٹ اور فون سروسز بھی کچھ علاقوں میں معطل ہیں۔ بینکوں کا کہنا ہے کہ انھیں زبردستی بند کیا گیا ہے۔

فوج نے اعلان کیا ہے کہ 24 وزیروں اور نائب وزیروں کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے اور 11 متبادل شخصیات تعینات کی گئی ہیں۔ ان میں فنانس (خزانہ)، صحت، داخلہ اور خارجہ امور کی وزارتیں شامل ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ مقامی وقت رات آٹھ بجے سے صبح چھ بجے تک کرفیو نافذ کیا جا رہا ہے۔

فوجی بغاوت سے قبل کئی ہفتوں تک مسلح افواج اور حکومت کے درمیان پارلیمانی انتخابات کے بعد سے تناؤ برقرار تھا۔ ان انتخابات میں فوج کی حمایت یافتہ حزب اختلاف کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اپوزیشن نے بغیر ثبوت انتخابات میں دھاندلی کا دعویٰ کیا تھا لیکن ان دعوؤں کو الیکشن کمیشن کی حمایت حاصل نہیں ہوئی تھی۔ انھوں نے دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کیا تھا۔

میانمار میں اس کا کیا ردعمل سامنے آیا ہے؟

رنگون میں رہائش پذیر مائیکل گلیزن نے، جو امریکہ کی ایک لا فرم کے شریک مالک ہیں، بی بی سی کو بتایا کہ انھیں توقع تھی کہ شہر میں فوجی گاڑیاں ہوں گی اور مظاہرے کیے جائیں گے۔ ’لیکن وہاں عجب خاموشی کی فضا ہے‘۔

رنگون

رنگون سمیت کئی شہروں میں اے ٹی ایمز کے باہر قطاریں دیکھی گئی ہیں

’میرے برما کے دوستوں کا عام ردعمل غصے کا اظہار تھا۔ انھیں لگتا ہے کہ فوج اور یو ایس ڈی پی نے انھیں دھوکہ دیا ہے۔‘

سڑکوں پر کئی لوگوں نے بھی یہی ردعمل دیا۔ تاہم رنگون میں فوج کی حمایت میں بھی کچھ افراد نے ریلیاں نکالی ہیں اور پرچم لہرائے ہیں۔

روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک ڈیویلپمنٹ کنسلٹنٹ تھینی او نے کہا کہ ’الیکشن قانون کے مطابق ہوا۔ لوگوں نے اپنی ترجیح کے مطابق ووٹ ڈالا۔ ہمیں اب قانون کا تحفظ حاصل نہیں رہا۔‘

کئی لوگ میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپنا نام دینا نہیں چاہتے۔

64 سالہ ہلینگ کی رہائشی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’میں فوجی بغاوت کے حق میں نہیں۔ میں نے ملک میں نے کئی بار طاقت کی منتقلی دیکھی ہے اور میں بہتر مستقبل دیکھ رہا تھا۔‘

مصنف اور تاریخ دان تھینٹ منٹیو نے ٹویٹ میں کہا کہ ایک ’مختلف مستقبل‘ کا دروازہ کھل چکا ہے۔ انھیں ڈر ہے کہ اس اقدام سے لاکھوں افراد غربت کا شکار ہوسکتے ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.