پیر21؍شعبان المعظم 1442ھ 5؍اپریل2021ء

مندر میں نذرانے کے بال کروڑوں میں نیلامی کے بعد کہاں جاتے ہیں، ایک تنازعہ

انڈیا: مندر میں نذرانے کے بال کروڑوں میں نیلامی کے بعد کہاں جاتے ہیں، ایک تنازعہ

  • وی شنکر
  • بی بی سی تیلگو کے لیے

بال منڈاتی خاتون

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

انڈیا کے بہت سے مندروں میں خواتین بھی اپنے بالوں کا نذرانہ پیش کرتی ہیں

انڈیا اور میانمار کی سرحد پر دو ماہ قبل پکڑے گئے انسانی بالوں کے ایک معاملے نے ملک کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش کی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔

یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ بال تیرومالا تروپتی دیواساتھنم (ٹی ٹی ڈی) سے سمگل کیے جارہے تھے۔ اس مندر سے لوگوں کو جذباتی لگاؤ ہے اور ہندو زائرین یہاں اپنے بال نذر کرتے ہیں۔

لیکن اب یہاں سے عقیدت مندوں کے بالوں کی سمگلنگ کی بات کی جارہی ہے۔ پکڑے جانے والے بالوں کی قیمت لگ بھگ 1.8 کروڑ روپے لگائی جا رہی ہے۔

سوال یہ پوچھا جارہا ہے کہ بالوں کی سمگلنگ کا پتہ چلنے کے بعد حکام نے کیا کیا؟ سوال یہ بھی پوچھا جا رہا ہے کہ تیرومالا میں کچھ سوشل میڈیا اکاؤنٹ اور ایک ٹی وی چینل کے خلاف مقدمہ کیوں درج کیا گیا ہے؟

یہ بھی پڑھیے

انسانی سروں کے بال دو ماہ قبل پکڑے گئے تھے۔ آسام رائفلز کی ایک سرچ ٹیم نے مشرقی ریاست میزورم سے متصل میانمار کی سرحد پر بالوں کی اس کھیپ کو پکڑا۔ لیکن اس پر اب بحث تیز ہو گئی ہے۔

عام طور پر اس علاقے میں سونے اور جنگلی جانوروں کو سمگل کیا جاتا ہے۔ لیکن پہلی بار سیکیورٹی فورسز کو انسانی بال سے بھری 120 بوریاں ملیں۔ ہر بوری میں تقریبا پچاس کلو گرام بال تھے۔

ٹرک

،تصویر کا ذریعہASSAM RIFLES

بالوں سے بھری 120 بوریاں

20 مارچ کو جاری ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بالوں کی اس کھیپ کو ٹرک سے پکڑا۔

کچھ عہدیداروں نے میڈیا کو بتایا کہ ٹرک چلانے والے ڈرائیوروں نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ بال تروپتی سے لائے جارہے ہیں۔

حکام کے مطابق ٹرک ڈرائیور نے بتایا کہ اسے آئیزول کی مارویتی نامی ایک خاتون نے تروپتی سے بالوں لانے کا ٹھیکہ دیا تھا۔

ایک انگریزی اخبار ‘دی ہندو’ کی ایک رپورٹ میں بھی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ٹرکوں سے ملک کے کئی مندروں سے بال لائے جانے تھے، لیکن جس ٹرک کو پکڑ لیا گیا اور اس میں تروپتی سے لائے گئے بال تھے۔

پولیس نے ٹرک کے ڈرائیور مونگیان سنگھ سے پوچھ گچھ کی ہے۔ یہ ٹرک انڈین سرحد کے سات کلومیٹر اندر پکڑا گیا تھا۔ حکام نے بتایا کہ ٹرک سے پکڑے گئے بالوں کی مالیت 1.8 کروڑ روپے تک ہوسکتی ہے۔

انڈیا سے یہ بال سمگل کیے جاتے ہیں اور میانمار لے جائے جاتے ہیں۔ پھر وہاں سے تھائی لینڈ پہنچ جاتے ہیں جہاں انھیں تیار کیا جاتا ہے اور چین بھیج دیا جاتا ہے۔

وگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

چین میں وگ بنانے کا کاروبار

حکام کے مطابق چین میں ان بالوں کے وگ بنائے جاتے ہیں اور پھر انھیں پوری دنیا کے بازاروں میں بھیجا جاتا ہے۔

بازار پر نظر رکھنے والوں کے مطابق وگ بنانے کے 70 فیصد کاروبار پر چین کا قبضہ ہے اور سر کے بالوں کا بازار دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے۔

واضح رہے کہ انڈیا میں سب سے زیادہ انسانی بال دستیاب ہیں جہاں بعض مندروں میں بالوں کو بھینٹ چڑھایا جاتا ہے یعنی بالوں کا نذرانہ پیش کیا جاتا ہے۔

انڈیا انسانی سر کے بال سب سے زیادہ عام طور پر تروپتی کے مندر میں چڑھائے جاتے ہیں۔ یہاں ہر روز اوسطا پچاس ہزار عقیدت مند درشن کو آتے ہیں۔

ان میں سے کم از کم ایک تہائی یہاں اپنے بال منڈواتے ہیں۔

مالی سال 2020-21 میں ٹی ٹی ڈی نے بالوں سے 131 کروڑ روپے کمائے۔ ٹی ٹی ڈی کا سالانہ بجٹ تقریباً تین ہزار کروڑ روپے ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ٹی ٹی ڈی کو ٹکٹوں کی فروخت کے علاوہ، منڈن کے بالوں کی فروخت سے اچھی آمدنی ہوتی ہے۔

تروپتی مندر کا ایک منظر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

انڈیا میں سب سے زیادہ تروپتی کے مندر میں بال منڈائے جاتے ہیں

ٹی ٹی ڈی سب سے زیادہ بال فروخت کرتا ہے

اس سے قبل سر کے بالوں کو یہاں ہر ماہ ہونے والی نیلامی میں فروخت کیا جاتا تھا۔ بال تیرومالا سے تروپتی کے سٹور سنٹر میں لے جائے جاتے ہیں۔ اس کے بعد بالوں کے رنگ اور لمبائی کے مطابق انھیں نیلام کیا جاتا ہے۔ بالوں کو پانچ قسموں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ لمبے بالوں کی زیادہ قیمت ملتی ہے۔

ٹی ٹی ڈی نے ایک سرکاری بیان میں بتایا تھا کہ سنہ 2019 میں اس نے بالوں کی فروخت سے 74 کروڑ روپے کمائے تھے۔ دسمبر 2019 میں 54 کروڑ 500 کلو گرام بال 37.26 کروڑ روپے میں نیلام ہوئے۔ اب یہ معلوم ہوا ہے کہ بالوں کی نیلامی تین ماہ میں صرف ایک بار کی جاتی ہے۔

ٹی ٹی ڈی نے بالوں کے فروخت کی تازہ ترین نیلامی اور شرائط کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔ بی بی سی نے اس کی تصدیق کے لیے ٹی ٹی ڈی کے عہدیداروں سے متعدد بار رابطہ کیا لیکن عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے ان کے پاس معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

ٹی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ یہ اس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا ہے کہ نیلامی میں بال خریدنے والے بالوں کو کہاں لے جاتے ہیں۔

ایک سرکاری بیان میں ٹی ٹی ڈی کے تعلقات عامہ کے اہلکار ٹی روی نے کہا: ‘مندر ای ٹینڈروں کے ذریعے تین ماہ میں ایک بار منڈن کے بالوں کی نیلامی کرتا ہے۔ سب سے زیادہ بولی لگانے والے سے جی ایس ٹی ٹیکس لینے کے بعد بال اس کے حوالے کردیئے جاتے ہیں۔ بالوں کو خریدنے والے کے پاس بال ایکسپورٹ کرنے کے لائسنس ہیں یا نہیں یا وہ ان بالوں کا کیا کریں گے یہ ٹی ٹی ڈی کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ منڈن کے بال بھارت کے بہت سے دوسرے مندروں سے بھی فروخت ہوتے ہیں۔ اسی طرح ٹی ٹی ڈی ای بھی بال بھی فروخت کرتا ہے۔ ہر تین ماہ میں ایک بار ای ٹینڈر ہوتا ہے۔’

بال منڈاتا بچہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

ایک اندازے کے مطابق انڈیا سے سب سے زیادہ خام بال وگ کے لیے دستیاب کرائے جاتے ہیں

تنازع کیا ہے؟

ریاست میں حزب اختلاف کی تیلگو دیشم پارٹی کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی ڈی کے حکام کو میانمار کی سرحد سے منڈن کے بالوں کو پکڑے جانے کی ذمہ داری لینا چاہیے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پارٹی رہنما بنڈارو ستیہ نارائن مورتی نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کرکے ضروری کارروائی کی جانی چاہیے۔

انھوں نے کہا: ‘ٹی ٹی ڈی میں اتنی رازداری کیوں برتی جا رہی ہے؟ ٹی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ لاکھوں عقیدت مندوں کے جذبات سے وابستہ اس معاملے میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے۔ یہ بات شرمناک ہے۔ کیا حکام کو ان اداروں کے بارے میں نہیں معلوم جس نے بال خریدنے کا کنٹریکٹ حاصل کیا تھا؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ یہ لوگ بال خرید کر ان کے ساتھ کیا کرتے ہیں؟ کیا ٹھیکہ بغیر کسی مکمل تفتیش کے دے دیا گیا تھا؟ ٹی ٹی ڈی انتظامیہ کمیٹی کو فوری برطرف کیا جانا چاہیے اور متعلقہ عہدیداروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔’

پچھلے دو سالوں میں ٹی ٹی ڈی کا نام بہت سے تنازعات میں سامنے آیا ہے۔ اب منڈن کے بالوں سے متعلق اس نئے تنازعے اس میں مزید اضافہ کیا ہے۔ ٹی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں متعلقہ خریداروں کو بلیک لسٹ کیا جائے گا۔

بال

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ٹی ٹی ڈی شکایت

ٹی ٹی ڈی نے ابتدا میں کہا تھا کہ نیلامی میں ایک بار معاہدہ کرنے کے بعد وہ نہیں جانتے کہ بال کہاں فروخت ہوتے ہیں۔ لیکن بعد میں ٹی ٹی ڈی نے کہا ہے کہ اگر سمگلنگ کرنے والی کمپنیوں کے نام معلوم ہوئے تو انھیں بلیک لسٹ کردیا جائے گا۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر یہ دعوے کیے جارہے ہیں کہ ٹی ٹی ڈی کے ہی ذریعے بالوں کی سمگلنگ ہوتی ہے۔ آندھرا پردیش کے محکمہ ویجیلینس نے بھی اس سلسلے میں شکایات کا نوٹس لیا ہے۔

تروپتی پولیس نے ٹی ٹی ڈی کی شکایت پر مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس آفیسر بی شیوا پرساد ریڈی نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹی ٹی ڈی نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ فیس بک پر اس کے خلاف لکھی جانے والی پوسٹ ان کے لیے بدنامی کا باعث ہے۔

پولیس نے تیلگو دیشم پارٹی کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ اس کے علاوہ بہت سارے افراد کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آندھرا جیوتی چینل میں بھی ایسی خبریں نشر کی گئیں ہیں۔

پولیس کے مطابق ایف آئی آر میں آندھرا جیوتی چینل کا نام بھی شامل کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ‘تحقیقات کے بعد ہی پتا چل سکے گا کہ اس معاملے میں کس کا کردار ہے۔’

دوسری جانب کمیونسٹ پارٹی (مارکسی) کے رہنما اور ٹی ٹی ڈی کنٹریکٹ کارکن یونین کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی ڈی کو آمدنی میں کمی اور اسمگلنگ کے مابین ربط ڈھونڈنا چاہیے۔

ایک رہنما نے کہا: ‘منڈن کے بالوں کی غیر قانونی سمگلنگ کی جامع تحقیقات ہونی چاہیے۔ ٹی ٹی ڈی کو بالوں کی فروخت سے کم از کم ایک ہزار کروڑ کمانا چاہیے تھا۔ لیکن پچھلے 12 سالوں سے آمدنی میں اضافہ نہیں ہوا۔ آمدن میں کمی اور غیر قانونی سمگلنگ اور ٹی ٹی ڈی سے بالوں کی سمگلنگ کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ حکومت کو تفصیلی تحقیقات کا اعلان کرنا چاہیے تاکہ تمام حقائق سامنے آئیں۔’

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.