اتوار22؍ رجب المرجب 1442ھ 7؍مارچ2021ء

’مجھے لوگ کچھ نہ کرنے کے پیسے دیتے ہیں‘

جاپان میں ایک ایسا شخص جسے لوگ ’کچھ نہ کرنے‘ کے پیسے دیتے ہیں

موریموٹو

موریموٹو نے دریافت کیا کہ وہ کوئی کام بھی ٹھیک نہیں کر سکتے، اس لیے کیوں نہ اپنی ’کچھ نہ کرنے کی صلاحیت‘ سے فائدہ اٹھایا جائے

روزی کمانے کا یہ انوکھا طریقہ ڈھونڈنے سے موریموٹو کے سوشل میڈیا پر ہزاروں مداح بن گئے ہیں اور ان کے کارروبار سے متاثر ہو کر ایک ٹی وی پروگرام بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ اس سب سے حوصلہ پاتے ہوئے انھوں نے اپنے گاہکوں کے ساتھ رابطوں کے تجربات پر کتاب بھی مرتب کرنا شروع کر دی ہے۔

موریموٹو، جن کی عمر 37 برس ہے، ایک شادی شدہ شخص ہیں جن کے بچے بھی ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کی منڈو سروس سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنی سابقہ نوکری سے کس قدر تنگ آ چکے تھے اور کس طرح انھیں یہ نیا کارروبار کرنے کی سوجھی اور اس نئے پیشے کی کیا چیز انھیں سب سے زیادہ پسند ہے۔

موریموٹو

سنہ 2018 میں اپنا نیا پیشہ اپنانے سے پہلے، انھوں نے جاپان کی یونیورسٹی سے طبیعیات کی تعلیم حاصل کی تھی۔ ملک میں زلزلوں کے بعد انھوں نے پوسٹ گریجویٹ ڈگری بھی حاصل کی تھی۔

اس کے بعد وہ باقاعدگی سے کئی نوکریاں کرتے رہے لیکن وہ زیادہ دیر نہ چل سکیں۔ انھوں نے کہا کہ ان میں سے کوئی بھی نوکری انھیں اچھی نہیں لگی۔

شاید میرے لیے کچھ نہ کرنا بہتر ہے‘

انھوں نے ایک پبلشنگ ہاؤس میں کام بھی کیا جہاں انھوں نے نصابی مواد کی ادارت کی اور دوسروں کی طرح تمام احکامات کو بجا لاتے رہے۔ انھوں نے کہا نہ تو انھیں اپنی نوکری پسند تھی اور نہ ہی اپنے باس۔

اس کے بعد انھوں نے ‘فری لانسر’ کے طور پرکام کیا لیکن وہ اس سے مطمئن نہ ہوئے۔

انھوں نے بی بی سی منڈو سروس سے بات کرتے ہوئے یہ اعتراف کیا کہ وہ اس وقت ’اس نتیجے پر پہنچے کہ شاید ’کچھ کرنا‘ ان کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔‘

کام سے قطع نظر لوگ ان کو اس بات پر بھی ملامت کرتے ہیں کہ وہ نجی پارٹیوں میں بھی کچھ نہیں کرتے۔

’مجھے شرمندگی ہوتی تھی۔ لیکن پھر میں نے سوچا کہ میں اس شرمندگی کا فائدہ اٹھا سکتا ہوں اور مجھے یہ خیال آیا کہ میں ایک ایسے شخص کو کرائے پر دینے کا کارروبار کروں کے جو کچھ نہیں کرتا۔‘

اب اکثر لوگ یہ خدمات فراہم کرنے کی درخواست کرتے ہیں کہ موریموٹو ان کے ساتھ کھانا کھائیں۔

’ہمیشہ قبول کرنا‘

موریموٹو

موریموٹو کی خدمات حاصل کرنا بہت آسان ہے: صرف 100 ڈالر، نقل و حمل اور کھانے پینے کے اخراجات

موریموٹو نے 3 جون 2018 کو اپنا کاروبار شروع کیا لیکن اس سے پہلے ہی ان کے تقریباً دو لاکھ ستر ہزار مداح بن چکے تھے اور یہ ہی وہ مرکزی پلیٹ فارم ہے جس پر وہ اپنی ‘سروسز’ کی پیش کش کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ان کی سوانح عمری موجود ہے اور ان کی خدمت حاصل کرنے سے پہلے جو بھی چیز آپ معلوم کرنا چاہتے ہیں، معلوم کر سکتے ہیں۔

ان کے اشتہار میں کہا جاتا ہے کہ ‘میں آپ کو ایک شخص (خود کو) کرائے پر دیتا ہوں جو کچھ نہیں کرتا۔ میں ہر وقت درخواستیں وصول کرتا ہوں۔ آپ کو صرف سو امریکی ڈالر، آنے جانے کے اخراجات اور کھانے پینے کی ادائیگی کرنی پڑے گی۔ درخواستوں سے متعلق یا جو بھی سوال کرنے ہیں وہ آپ براہ راست پیغامات میں کر سکتے ہیں۔‘

لیکن وہ آخر میں دوبارہ زور دیتے ہیں کہ ’میں کھانے، پینے اور آسان جواب دینے کے علاوہ کچھ نہیں کرتا۔‘

موریموٹو

موریموٹو کا کہنا ہے کہ انھیں ایک بار کسی دوسرے شہر میں منتقل ہونے والے شخص کی ایک الوداعی پارٹی میں مزید لوگوں کو شامل کرنے کا بہت لطف آیا تھا

’ہر قسم کی درخواستیں‘

اگرچہ ان کا بنیادی کام کچھ بھی نہیں کرنا ہے ، تاہم ان کے گاہک ہر قسم کی درخواستوں کے ساتھ ماریموٹو کے پاس آتے ہیں۔

زیادہ تر ماریموٹو سے رابطہ کرنے والوں میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جو گھر کا راشن وغیر لینے کے لیے سپر مارکیٹ تک اکیلے نہیں جانا چاہتے، یا تنہا کھانا نہیں کھانا چاہتے یا جنھیں اپنے کام پر کسی دوسرے کی رائے درکار ہوتی ہے۔

لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک بار انھیں ٹرین سٹیشن جا کر ایک ایسے شخص کو فیئر ویل دینے کو کہا گیا جو شہر سے باہر جا رہا تھا۔

ایک اور گاہک نے ان سے درخواست کی کہ وہ میراتھن کی آخری لائن تک ان کا ساتھ دیں اور حوصلہ افزائی کرتے رہیں۔

موریموٹو نے کہا کہ ’اس نے مجھے بتایا کہ اس کے خیال میں وہ ریس مکمل نہیں کر پائے گا اس لیے اس کی حوصلہ افزائی کے لیے اس نے مجھے کام دیا۔ میراتھن مکمل کرنے پر اسے میڈل سے نوازا گیا۔‘

گاہکوں کے ساتھ رابطوں نے انھیں کئی مختلف تجربات بھی دیے۔ اس سے ان کی حوصلہ افزائی ہوئی کہ وہ ’کچھ بھی نہ‘ کرنے کے علاوہ بھی کچھ کریں۔

موریموٹو.

ایک موقع پر موریموٹو کے ایک گاہک نے میراتھن مکمل کرنے کی ترغیب دینے کے لیے ان کی خدمات حاصل کی تھیں

ذاتی اطمینان

اپنے خاص کاروبار کو شروع کرنے کے تقریباً تین سال بعد، موریموٹو نے اپنے لیے حدود طے نہیں کیں اور اب تک اپنے کام سے خوش ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کے گاہک بھی خوش ہیں۔

’اب تک کلائنٹ مجھے ملازمت پر رکھنے کے بعد کسی مثبت ذہنی تبدیلی کے تجربے سے گزرتے ہیں۔ وہ مجھے بتاتے ہیں کہ وہ کسی سے ایسی باتیں کرنے کے قابل ہوئے ہیں جو دوسروں کو کچھ نہیں کہہ سکتا۔ وہ چیزوں کو اکیلے ہی تولنے کے بجائے انھیں بہتر انداز میں سمجھنے کے قابل ہوئے۔‘

وہ ہر روز درخواستیں وصول کرنے پر خوش ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ وہ ان کو قبول کرنے سے کبھی نہ تھکیں۔ وہ کہتے ہیں کہ فی الوقت تو یہ سرگرمی ’مجھے مالی طور پر بہتر رکھنے کے لیے کافی ہے۔‘

موریموٹو نے اعتراف کیا کہ ’یہ مجھے حیرت میں ڈال دیتا ہے کہ بہت سارے لوگوں کو کسی شخص کو ملازمت دے کر اطمینان ملا ہے جو کچھ نہیں کرتا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’میں اس غیر متوقع ترقی سے بھی لطف اندوز ہو رہا ہوں جس سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے، جیسے کتاب لکھنا، کہ میرے معاملے سے ایک ٹیلی ویژن پروگرام متاثر ہوا اور وہ بھی آپ کی طرح، مجھ سے بیرون ملک سے رابطہ کرتے ہیں۔‘

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.