پیر23؍ رجب المرجب 1442ھ 8؍مارچ2021ء

’لوگ سمجھتے ہیں کہ والدین مسلمان ہیں اس لیے ہم بھی اسلام پر عمل پیرا ہوں گے‘

سائرہ خان: پاکستانی نژاد ٹی وی میزبان کو ’اسلامی شعائر پر عمل پیرا نہ ہونے‘ کے بیان کے بعد ’قتل کی دھمکیاں‘

سائرہ خان

سائرہ خان کو سنہ 2005 میں ریئلٹی سو دی اپرینٹس میں شامل ہونے پر مقبولیت حاصل ہوئی

برطانیہ میں معروف پاکستانی نژاد ٹی وی پریزنٹر سائرہ خان نے کہا ہے کہ جب انھوں نے اس بات کا انکشاف کیا کہ وہ اسلامی شعائر پر عمل نہیں کرتیں تو اس کے بعد انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔

خواتین میں مقبول لوز ویمن (Loose Women) نامی پروگرام کی سابق پینلسٹ سارہ خان نے برطانوی اخبار ڈیلی مرر میں اس ہفتے کے شروع میں اپنے ایمان کے بارے میں وضاحت کی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ‘مجھ جیسی خواتین جن کا نام مسلمانوں جیسا ہے اور جو ایشیائی ہیں اُن کا مسئلہ یہ ہے کہ دوسروں لوگ ہمارے کچھ کہے بغیر ہی ہمارے بارے میں رائے قائم کر لیتے ہیں۔’

پیر کو ایک انسٹاگرام لائیو میں سائرہ خان نے کہا کہ انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

اُنھوں نے اپنے اکاؤنٹ پر بیان پوسٹ کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی ہے اور انھیں آن لائن ٹرول کیا گیا ہے۔

سائرہ خان کو ریئلٹی شو ’اپرینٹس‘ میں حصہ لینے کی وجہ سے شہرت حاصل ہوئی تھی۔ اس کے بعد وہ ڈانسنگ ان آئس اور سلیبرٹی بگ برادر نامی پروگرامز میں نظر آئیں۔

گذشتہ پانچ برس سے وہ برطانوی چینل آئی ٹی وی کے پروگرام لوز وومن میں ایک پینلسٹ کے طور پر شامل ہوتی رہی ہیں، لیکن دسمبر میں انھوں نے اس شو سے دستبرداری اختیار کرلی تھی۔

سائرہ خان نے کیا کہا؟

انگلینڈ

اخبار کے ایک کالم میں سائرہ خان نے کہا کہ وہ ‘(اپنی) بھلائی کے لیے اپنا موقف واضح کرنا چاہتی ہیں۔’

انھوں نے لکھا کہ ‘مجھے یہ لگتا ہے کہ ایک عوامی شخصیت کے طور پر یہ کہہ کر اب نادانستہ طور پر مسلم عقیدے کے دوسروں افراد غلط فہمی کا شکار نہیں ہوں گے اور یوں اُن کو غیر ارادی طور تکلیف نہیں ہوگی۔’

‘لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ کیونکہ ہمارے والدین مسلمان ہیں اس لیے ہم اسلام پر عمل پیرا ہونگے۔ ہم نے قرآن پڑھا ہوگا، ہم ہر رمضان میں روزہ رکھتے ہیں، ہم شراب نوشی نہیں کرتے، اور شادی سے پہلے ہم جنسی تعلقات نہیں قائم کرتے۔’

سائرہ خان نے کہا کہ ان کے طرز زندگی کے بہت سے پہلو اسلام کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے۔

مثال کے طور پر ایسا لباس پہننا جو قابل قبول ملبوسات کے برعکس ہوں، شراب پینا اور ’بند دروازے کے پیچھے بوائے فرینڈ کے ساتھ رہنا۔‘

براڈ کاسٹر سائرہ خان نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اُنہوں نے ایک بچی کو گود لیا تھا اور اُنھوں نے اپنی بیٹی کے لیے وراثت کے حقوق سے متعلق اسلامی قوانین پر عمل نہیں کیا تھا۔

انھوں نے مزید یہ بھی کہا کہ ‘میں ان لوگوں کا احترام کرتی ہوں جن کی زندگی میں اسلام ہے اور اِن افراد میں سے میرے جاننے والوں میں سے کچھ انتہائی متحمل مزاج لوگ ہیں۔’

‘تاہم میں ان کی طرح معتقد نہیں ہوں۔ میں نے اپنے لیے نہیں بلکہ اپنے والدین اور بقیہ خاندان کی خاطر بہت سال کوشش کی ہے۔’

انہوں نے کہا کہ عملی طور پر مسلمان خاندان میں پرورش پانے کی وجہ سے ‘میری زیادہ تر اقدار مسلم عقیدے کے روحانی پہلوؤں پر مبنی ہیں۔ لیکن میں دوسری روحانی تعلیمات سے بھی متاثر ہوں۔’

کالم پر کیا رد عمل تھا؟

سائرہ خان لوز وومن کے پینل کے ہمراہ

سائرہ خان خواتین میں مقبول شو لوز وومن کے پینل میں پانچ سال تک رہیں

سائرہ خان نے حال ہی میں ایک انسٹاگرام لائیو کیا، جس کے دوران انھوں نے کہا تھا کہ انھیں اپنے مضمون کی اشاعت کے بعد سے ہی جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔

منگل کے روز اُنھوں نے انسٹاگرام پر ایک بیان جاری کیا جس میں اس بات کو دہرایا کہ انھیں ‘دھمکیاں، بدسلوکی اور ٹرول کیا گیا ہے۔’

انھوں نے کہا ‘میں اپنی زندگی کو کس طرح اپنی مرضی سے جیتی ہوں اس سے دوسرے اس قدر نفرت کا اظہار کر رہے ہیں یہ میری سمجھ سے باہر ہے۔’

لیکن اُنھوں نے مزید یہ بھی کہا کہ اُنھیں متعدد فاولوئرز کی حمایت بھی حاصل ہوئی ہے۔ اُنھوں نے ایسے کچھ پیغامات کے سکرین شاٹس شیئر کیے جو اُنھیں بھیجے گئے تھے۔

سائرہ خان نے کہا کہ ‘گذشتہ 24 گھنٹوں میں بہت ساری خواتین نے اُن سے رابطہ کیا ہے اور اپنی زندگی اپنی خواہشات کے مطابق جینے کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے۔’

‘گو کہ میں ماحول کو حوصلہ افزا اور مثبت رکھنا پسند کرتی ہوں، میں یہ نہیں بھول سکتی کہ ایک عورت کی حیثیت سے میرا فرض ہے کہ مجھے جو پلیٹ فارم حاصل ہے اس پر میں دوسری خواتین کی مدد کروں۔’

’ایک دوسرے کے درد کو محسوس کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ ہم ایک جیسے نظر آئیں۔ اگر آپ کو تکلیف ہوتی ہے تو مجھے آپ کا درد محسوس ہوتا ہے۔’

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.