منگل 8؍ شعبان المعظم 1442ھ 23؍مارچ 2021ء

فیس بک نے میانمار کی فوجی نیوز سائٹ کا پیج ڈیلیٹ کر دیا

میانمار بغاوت: فیس بک نے فوجی نیوز سائٹ کا پیج ڈیلیٹ کر دیا

ینگون کی ایک سڑک پر تحریر: 'ہم جمہوریت چاہتے ہیں'

ینگون کی ایک سڑک پر تحریر: ‘ہم جمہوریت چاہتے ہیں’

میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف سنیچر کو احتجاجی مظاہروں کے دوران دو افراد کی ہلاکت کے بعد فیس بک نے فوج کے زیر اہتمام چلنے والی ایک نیوز ویب سائٹ کا پیج کو ہٹا دیا ہے۔

فیس بک کا کہنا ہے کہ ’ٹیٹماڈاو ٹرو نیوز انفارمیشن ٹیم پیج‘ نے تشدد پر اکسانے سے متعلق اس کے ضابطوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

میانمار میں فیس بک خبر رسانی کا بنیادی ذریعہ ہے۔

اتوار کے روز بھی ہزاروں افراد نے اقتدار پر فوج کے قبضے کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی۔

مظاہرین نے جلد انتخابات کے وعدے کو مسترد کر دیا ہے اور وہ جمہوری طور پر منتخب رہنما آنگ سان سو چی اور نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) کے دیگر راہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

فوج کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس کے انتخابات میں این ایل ڈی کی زبردست کامیابی دھاندلی کا نتیجہ تھی۔

ایک بیان میں فیس بک کا کہنا ہے: ’ہماری عالمی پالیسیوں کے مطابق ہم نے ٹیٹماڈاو ٹرو نیوز انفارمیشن ٹیم پیج کو تشدد پر اکسانے اور ضرر پہنچانے کا سدِ باب کرنے والے ہمارے کمیونیٹی سٹینڈرڈز کی لگاتار خلاف ورزیوں کی وجہ سے فیس بک پر سے ہٹا دیا ہے۔‘

مذکورہ نیوز سائٹ مظاہرین کو متنبہ کرنے اور انتخابی نتائج سے متعلق الزامات لگانے کے لیے فوج کا اہم ذریعہ ہے۔

آنگ سان سو چی کی رہائی کا مطالبہ

مظاہرین آنگ سان سو چی کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں

روہنگیا مسلمانوں کے حقوق انسانی کی پامالی کے الزامات کی وجہ سےفوج کے سربراہ مِن آنگ لینگ اور دوسرے اعلٰی فوجی حکام پر فیس بک نے پہلے ہی پابندی عائد کر رکھی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق میانمار کے پانچ کروڑ چالیس لاکھ شہریوں میں سے دو کروڑ بیس لاکھ فیس بک استعمال کرتے ہیں۔

میانمار مظاہرے ختم ہوتے نظر نہیں آ رہے۔ اتوار کو بھی ملک بھر میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔

سب سے بڑے شہر ینگون میں مظاہرین نے آنگ سان سوچی کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور سڑکوں پر جلی حروف میں جمہوریت کی بحالی کے نعرے لکھے ہوئے تھے۔

اتوار کے روز مسیحی راہبائیں بھی احتجاج میں شامل ہوگئیں

اتوار کے روز مسیحی راہبائیں بھی احتجاج میں شامل ہوگئیں

بہت سے مظاہرین اس احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والی پہلی نوجوان خاتون کو خراج عقیدت پیش کر رہے تھے جن کی تدفین اتوار کو تھی۔

ملک میں اوائل فروری میں فوجی بغاوت کے خلاف جاری احتجاج کے دوران سنیچر کو ہونے والے تشدد کی وسیع پیمانے پر مذمت کی گئی ہے۔

منڈالے میں اس وقت دو افراد ہلاک ہوگئے جب پولیس نے مظاہرین پر گولی چلائی۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اینتونیو گتاریس نے ایک ٹویٹ میں تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا: ’پر امن مظاہروں کے خلاف ہلاکت خیز طاقت، دھمکی اور دھونس کا استعمال ناقابل قبول ہے۔‘

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.